Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / عوام کو اعتماد میں لے کر ملنا ساگر پراجیکٹ مکمل کیا جائیگا

عوام کو اعتماد میں لے کر ملنا ساگر پراجیکٹ مکمل کیا جائیگا

اپوزیشن جماعتوں پر معصوم عوام کو گمراہ کرنے کا الزام ۔ وزیر آبپاشی ٹی ہریش راؤ کا رد عمل
حیدرآباد۔ /26جولائی، ( سیاست نیوز) وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے کہا کہ عوام کو کسی طرح سمجھا منا کر ملنا ساگر پراجکٹ ہر صورت میں مکمل کیا جائے گا۔ تلنگانہ بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے ملنا ساگر پراجکٹ کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بھولے بھالے عوام اور کسانوں کو اپوزیشن گمراہ کررہی ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ اپوزیشن کے احتجاج کو عوام کی تائید نہیںہے لیکن سیاسی مقصد براری کیلئے دیگر علاقوں سے عوام کو اکٹھا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن تلنگانہ کی ترقی کی دشمن ہیں اور پراجکٹس کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا سے عوام پراجکٹ کی تعمیر کے سلسلہ میں حکومت کے ساتھ ہیں لیکن اپوزیشن ہمیشہ ہی مخالفت کررہی ہے اور اپوزیشن کا یہ رویہ ریاست کی ترقی میں رکاوٹ کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران جن قائدین نے استعفی دینے سے انکار کردیا تھا آج وہی قائدین عوام کے درمیان پہنچ کر دھوکہ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک میں ان قائدین نے استعفی کے مکتوب کے بجائے ان کی زیراکس کاپیاں روانہ کی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کسانوں کو معاوضہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں حکومت کا موقف واضح کرچکے ہیں اور مناسب معاوضہ ادا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 8 مواضعات کے منجملہ صرف دو مواضعات کے عوام کی جانب سے اراضی حوالے کرنے کا کام باقی ہے اور وہ بھی جلد مکمل ہوجائیگا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس دور حکومت میں پوتی ریڈی پاڈو اور پولی چنتلہ جیسے غیر قانونی پراجکٹس کی تعمیر کو روکنے میں یہ تلنگانہ کے قائدین ناکام ہوگئے تھے لیکن آج تلنگانہ کے پراجکٹس کی مخالفت کررہے ہیں۔ کانگریس کی غلطیوں کے سبب کئی کسانوں نے خودکشی کرلی تھی لیکن تلنگانہ کے قائدین آندھرائی قیادت کے وفادار بنے رہے اور اپنی کرسیوں کا تحفظ کیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ریاست کی ترقی کیلئے دن رات کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس، تلگودیشم اور سی پی ایم اپنے برسراقتدار ریاستوں میں ایک موقف رکھتے ہیں جبکہ تلنگانہ میں اس کے برخلاف موقف اختیار کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT