عوام کو بھٹکانے کے لئے ہندو توا کارڈ کھیلا جارہا ہے ۔ دانش علی

بیدر۔کرناٹک میں2018کے مجوزہ اسمبلی انتخابات میں جنتا دل ( ایس) کو اکثریت حاصل ہوگی اور سابق وزیر اعلی ایچ ڈی کمارا سوامی کی قیادت میں جے ڈی ایس سرکاری بنائے گی۔ اس کے لئے جے ڈی ایس کی جانب سے کرناٹک کا وکاس یاترا نکالی جارہی ہے اور عوان کو پارٹی سے جوڑا جارہا ہے۔ یہ دعوی جنتادل ( ایس) کے قومی سکریٹری جنرل کنور دانش علی نے کیا۔

وہ یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انہو ں نے بتایا کہ بی جے پی بھارتیہ جنتا پارٹی نے بلکہ بھارتیہ جملہ پارٹی بن گئی ہے۔ کیونکہ بی جے پی کی جانب سے انتخابات میں جو اعلانات کئے جاتے ہیں وہ صرف جملہ بم کررہے جاتے ہیں۔ بی جے پی کی جانب سے سال2014کے لوک سبھاانتخابات میں وعدہ کیاگیاتھا کہ ہر سال 2کروڑ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کیاجائے گا‘ لیکن جو نوجوان برسرروزگار تھے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی وجہہ سے بے روزگار ہوگئے۔

ایسی بی جے پی کی سرکارہے۔آج جی ڈی پی میں ہر دن گرواٹ آتی جارہی ہے کل کے فیگر کے حساب سے جی ڈی پی 1.5فیصد ہوگئی یھی اس سے عوام کو بھٹکانے کے لئے ہندوتوا کارڈ کھیلا جارہا ہے جبکہ ہمارے سربراہ سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوی گوڑا کے دوراقتدار میں جی ڈیپی4.5فیصد تھی اس وقت کوئی کسان خودکشی نہیں کررہا تھا‘ سرحد پر کسی فوجی جوان کی شہادت نہیں ہورہی تھی لیکن آج حالات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ہر دن کسان کی خودکشی کی خبریں ملتی ہیں توسرحد پر گولی باری میں ہمارے جوان شہید ہونے کی خبر آتی ہے اس طرح بی جے پی ہر محاذ پر فیل ہوچکی ہے ۔

وہ صرف دوفرقو ں میں تفرقہ پیدا کرتے ہوئے انتخابات میں جیت حاصل کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ آج ملک بھر میں کانگریس پارٹی اور بی جے پی آپس میں نورا کشتی کررہے ہیں یہ دونوں پارٹی ملکی سطح پر صرف اپنے آپ کو ہی رکھنا چاہتی ہیں‘ علاقائی سطح پر وہاں کی علاقائی پارٹیوں کو جڑ سے ختم کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں لیکن انہیں اس میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔

گجرات مدھیہ پردیش او رراجستھان میں وہ سکیولر ازم کی بات نہیں کرتی۔کانگریس کا خودساختہ سکیولرازم کرناٹک میں تب تک زندہ ہے جب تک ڈیموکرٹیک سوشلسٹ پارٹی جنتا دل( ایس)کرناٹک میں ہے۔ تین طلاق بل کی کانگریس نے لوک سبھا میں تائید کی ‘لیکن جب دوسری تمام پارٹیوں نے اس بل کی مخالفت کی تب کہیں جاکر راجیہ سبھا میں اس بل کی مخالفت کانگریس نے بھی کردی۔

TOPPOPULARRECENT