Thursday , February 22 2018
Home / Top Stories / عوام کو مصائب سے دوچار کرنا اخلاقی طورپر درست ہوسکتا ہے؟

عوام کو مصائب سے دوچار کرنا اخلاقی طورپر درست ہوسکتا ہے؟

ملک کی معیشت تباہ ، لوگ روزگار سے محروم اور ترقی ٹھپ ، اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا : پی چدمبرم

نئی دہلی ۔ 8 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) نوٹ بندی کا ایک سال مکمل ہونے پر کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے مرکز اور وزیر فینانس ارون جیٹلی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ جاننا چاہا کہ لاکھوں عوام کو مشکلات و مصائب سے دوچار کرتے ہوئے اس طرح کافیصلہ کیا اخلاقی طورپر درست تھا ؟ انھوں نے کہاکہ کوئی بھی شخص اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے کئی زندگیاں ضائع ہوئیں اور لوگ روزگار سے محروم ہوگئے ۔ سابق مرکزی وزیر فینانس نے یہ بات اُس وقت کہی جب کہ ایک دن قبل ارون جیٹلی نے کہا تھا کہ نوٹ بندی کا فیصلہ اخلاقی مہم اور ایک مثبت قدم تھا ۔ پی چدمبرم نے یہ جاننا چاہا کہ جنوری تا اپریل 2017 ء کے دوران 15 لاکھ باقاعدہ ملازمتوں کو تباہ و تاراج کرنا کیا اخلاقی اقدام ہے ؟ اسی طرح ہزاروں مائیکرو اور چھوٹی تجارتوں کو بند کرنا کیا اخلاقی اقدام ہے ؟ انھوں نے کہاکہ کالا دھن کو سفید میں تبدیل کرنے کی ایک بہتر سہولت فراہم کرنا کیا اخلاقی قدم ہوسکتا ہے ؟ انھوں نے بتایا کہ حکومت کو خود اس بات کا اندازہ ہوچکا ہے کہ نوٹ بندی کے بہانے کالے دھن کو باقاعدہ سفید دھن میں تبدیل کرنے کا موقع فراہم ہوا ہے ۔ سابق وزیر فینانس نے حکومت سے سوال کیا کہ صنعتی مراکز جیسے سورت ، بھیونڈی ، مرادآباد ، آگرہ ، لدھیانہ اور تریپورکو درہم برہم کردینا کیا اخلاقی اقدام ہے ؟ ایسے وقت جبکہ نوٹ بندی کا اعلان ہوئے ایک سال آج مکمل ہوا ، کانگریس زیرقیادت اپوزیشن نے ’’یوم ِ سیاہ‘‘ منایا اور اس موقع پر چدمبرم نے کہاکہ حکومت کے اس اقدام نے لاکھوں افراد کو بری طرح متاثر کیاہے ۔ انھوں نے کہا کہ عوام کے پاس موجود 15 لاکھ کروڑ روپئے کی نقد رقم بہت جلد نومبر 2016 ء کی 17 لاکھ کروڑ کی سطح تک پہونچ جائے گی ۔ انھوں نے کہاکہ نقد کرنسی کا چلن مصنوعی طورپر کم کرنا بھی ترقی کی شرح متاثر ہونے کی ایک اہم وجہ ہے ۔ انھوں نے کہاکہ اگر حکومت کو اپنے فیصلے پر پورا بھروسہ ہے تو پھر اُسے شفافیت کامظاہرہ کرتے ہوئے حکومت ؍ آر بی آئی بورڈ کا ایجنڈہ ، نوٹوں کی تیاری اور سابق گورنر ڈاکٹر رگھورام راجن کا نوٹ (تبصرہ) منظرعام پر لانا چاہئے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال 8نومبر کو 500 اور 1000 روپئے کی کرنسی منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ انھوں نے کہا تھا کہ کالا دھن ، کرپشن ، جعلی کرنسی اور دہشت گردی کو فنڈس کی فراہمی کو روکنے کے مقصد سے یہ قدم اُٹھایا جارہا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے آج حکومت کے اس فیصلے کے خلاف یوم سیاہ منایا ۔ چدمبرم نے کہاکہ حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ کالا دھن کا صفایہ ہوگیا لیکن گجرات انتخابی مہم جیسے ہی شروع ہوئی سب دیکھ رہے ہیں کہ جس کالے دھن کا صفایہ ہوچکا تھا وہ پھر واپس آچکا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ نریندر مودی کے کرنسی کے اس کھیل نے ہندوستانی معیشت کو تباہ کردیا ہے ۔ بی بی سی نے خود یہ تذکرہ کیا ۔ انھوں نے جاننا چاہا کہ کیا بی بی سی بھی کالا دھن اور کرپشن کا حامی ہے ؟ انھوں نے کہا کہ ایک سال قبل کئے گئے اس فیصلے نے جہاں معیشت تباہ کردی وہیں ملک کی عوام کو ناقابل بیان مصائب سے دوچار کیا ہے ۔ اس کے باوجود حکومت کا یہ موقف مضحکہ خیز ہے کہ یہ فیصلہ درست تھا ۔

TOPPOPULARRECENT