Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / عوام کی بہتری کیلئے پولیس کو ’سماجی ڈاکٹر‘کا رول ادا کرنا ہوگا

عوام کی بہتری کیلئے پولیس کو ’سماجی ڈاکٹر‘کا رول ادا کرنا ہوگا

کرپشن کا خاتمہ ضروری‘پولیس کی تربیت کیلئے منعقدہ پروگرام سے برادر شفیع اور برادر سراج الرحمن کا خطاب

کرپشن کا خاتمہ ضروری‘پولیس کی تربیت کیلئے منعقدہ پروگرام سے برادر شفیع اور برادر سراج الرحمن کا خطاب
حیدرآباد۔16۔ستمبر(پریس نوٹ)برادر شفیع اور برادر سراج الرحمن نے کہا کہ پولیس کو اُس ڈاکٹر کی طرح رہنا چاہئیے جو بہت ہی صبر کیساتھ مریضوں کی تکالیف کو سُنتے ہوئے اُن کا علاج کرتا ہے۔ جب پولیس ایک سماجی ڈاکٹر کی حیثیت سے اپنا کام انجام دے گی تو یقیناً عوام اور پولیس کے درمیان بڑھتی دوریاں ختم ہوں گی۔ وہ آج یہاں مشیرآباد میں محکمہ پولیس کی جانب سے منعقدہ ’’پولیس کے رویے میں تبدیلی کیسی آنی چاہئیے‘‘ کے عنوان پر خطاب کررہے تھے۔ اس پروگرام میں ڈی سی پی کملا ہاسن ریڈی(آئی پی ایس)‘ اے سی پی چکڑپلی امرکانت ریڈی کے علاوہ کئی پولیس عہدیداروں نے شرکت کی تھی۔ یہ پروگرام پولیس کی اخلاقی تربیت کیلئے منعقد کیا گیا تھا۔یو آئی آر سی کے جوائنٹ سکریٹری برادر سید الیاس احمد نے تنظیم کا تعارف پیش کیا۔ صدر برادر شفیع نے مزید کہا کہ ایک شخص جب پولیس کی ذمہ داری سنبھالنے سے قبل ملک میں امن‘ سکون‘ برقرار رکھنے ضرورت پڑی تو جان دینے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا‘ کی قسم کھاتا ہے تو تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ یہی پولیس سے عوام پریشان کیوں ہورہے ہیں؟ ان معاملات کے پس پردہ وجوہات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پورا محکمہ پولیس ویسا نہیں ہے لیکن ’’وردی‘‘ پہن کر اگر کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس سے پولیس کی ہی بدنامی ہوتی ہے۔ انہوں نے دنیا میں تین قسم کے انسانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کا نام تیسری قسم میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ’’چاہے کچھ بھی ہوجائے سماج اچھا رہے‘‘۔اس لیے پولیس کو اپنی ذمہ داریوں کو مزید اچھے انداز میں ادا کرنی ہوگی۔ یو آئی آر سی کے جنرل سکریٹری برادر سراج الرحمن نے کہا کہ آزادی کو حاصل ہوئے 67 سال کا وقت گذر چکا ہے لیکن اب تک ہمارا ملک ترقی یافتہ نہیں بن سکا ہے جبکہ پڑوسی ملک چین نے بہت ترقی کرلی ہے۔ اس کی دو وجوہات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک ہم دو چیزیں نہیں کریں گے تو تب تک ملک کی ترقی نہیں ہوسکتی۔ ایک چیز یہ ہے کہ تمام مذاہب کے لوگوں میں اتحاد ہونا چاہئیے۔ بدعنوانی کا خاتمہ ضروری ہے۔ کرپشن میں ہندوستان 94 ویں مقام پر ہے۔ ہندوستان میں جتنی بھی ترقی ہورہی ہے وہ صرف 30 فیصد لوگوں کو حاصل ہورہی ہے ۔ 70 فیصد لوگ محروم ہیں۔برائیوں کو ختم کرنے کیلئے انہوں نے کہا کہ ہم سب کو یہ ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہئیے کہ خدا دیکھ رہا ہے اور سن رہا ہے اور اس کو جواب دینا ہے۔ یہ نظریہ ہر مذہبی کتاب میں ہے۔ جب سراج الرحمن ہندووں کی کتابوں کے شلوک سنسکرت میں پڑھ رہے تھے تو پولیس عہدیدار حیرت زدہ ہوگئے اور بعد میں ان عہدیداروں نے سراج الرحمن سے کئی سوالات بھی کیے۔محکمہ پولیس کے مسائل کے حل پر زور دیتے ہوئے برادر شفیع اور برادر سراج الرحمن نے پولیس سے ادباً گذارش کی کہ وہ عوام میں اپنی ساکھ کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ آخر میں کملا ہاسن ریڈی نے کہا کہ یو آئی آر سی جیسا ادارہ سماج کی خدمات انجام دینے بھی مصروف ہے اور ایسے لوگوں کی شدید ضرورت ہے۔ برادر شفیع اور برادر سراج الرحمن نے جو پیغام ہمیں آج دیا ہے اس پر عمل کرتے ہوئے ہمیں لوگوں سے اپنے دوستانہ تعلقات کو مزید بڑھانا ہوگا۔ پوری پولیس فورس کو ایک ٹیم کی حیثیت سے کام کرنا ہوگا کیوں کہ ایک عہدیدار کے اچھا کام کرنے سے کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ تفصیلات کے لئے برادر شفیع سے 9885581028 پر ربط پیدا کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT