Saturday , April 21 2018
Home / ہندوستان / عورت اور مرد کے ازدواجی موقف کی تحقیقات کا اختیار نہیں

عورت اور مرد کے ازدواجی موقف کی تحقیقات کا اختیار نہیں

این آئی اے صرف کیرالا لو جہاد کیس کی تحقیقات کرسکتی ہے : سپریم کورٹ
نئی دہلی ۔ 23جنوری۔( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے آج کہا کہ این آئی اے کیرالا میں مبینہ لوجہاد کیس کی تحقیقات جاری رکھ سکتی ہے لیکن وہ کسی مرد اور عورت کے درمیان ازدواجی موقف کی تحقیقات نہیں کرسکتی ۔ چیف جسٹس دیپک مصرا کی قیادت میں ایک بنچ نے اُس وقت یہ تاثر ظاہر کیا جب این آئی اے کہا کہ عدالت عظمیٰ کی ہدایت کے بعد اُس ( این آئی اے ) نے تحقیقات میں قابل لحاظ پیشرفت کی ہے ۔ اس بنچ نے جس میں جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس ڈی وائی چندراچوڑ بھی شامل ہیں کہا کہ ’’ان ( تحقیقات ) سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ خواہ آپ اپنے طورپر تحقیقات کریں یا کسی کو گرفتار کریں، اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے‘‘ ۔ بنچ نے مزید کہا کہ ’’آپ اس کی تحقیقات کرسکتے ہیں لیکن ان ( عورت اور مرد ) کی ازدواجی موقف کے بارے میں تحقیقات نہیں کرسکتے‘‘۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ کیرالا کی لڑکی ہادیہ مبینہ طورپر لوجہاد کی شکار بنی ہے ۔ وہ بھی اس عدالت میں حاضر ہوچکی ہے اور واضح طورپر کہہ چکی ہے کہ اُس نے شافین جہاں سے اپنی مرضی کے مطابق شادی کی ہے ۔ بنچ نے اس تاثر کااظہار بھی کیا کہ وہ اس بات کاجائزہ بھی لے گی کہ کیرالا ہائیکورٹ کا آیا شادی کی تنسیخ کا فیصلہ درست تھا ؟

TOPPOPULARRECENT