Sunday , December 17 2017
Home / آپ کے سوال / عورت حالت عذر میں ارکان حج کیسے ادا کرے

عورت حالت عذر میں ارکان حج کیسے ادا کرے

سوال : عورت اپنی ماہواری میں نماز ادا نہیں کرتی اور رمضان ہو تو روزے نہیں رکھتی، روزوں کی قضاء کرتی ہے ، حج کے دوران عورت کے ایام شروع ہوجائیں تو اسے کیا کرنا چاہئے ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمالیں ؟
نام…
جواب : مناسک حج ادا کرنے کے دوران عورت کے ایام آجائیں تو حج کے تمام ارکان ادا کرسکتی ہے۔ البتہ مسجد حرام میں داخل نہ ہو اور طواف نہ کرے جیسا کہ صحیح بخاری شریف ج: 1 ص: 223 میں ہے ۔ ’’ عن عائشۃ انھا قالت قدمت مکۃ وانا حائض ولم اطف بالبیت ولا بین الصفا والمروۃ قالت فشکوت ذلک الی رسول اللہ صلی علیہ وسلم فقال افعلی کما یفعل الحاج غیر ان لا تطوفی بالبیت حتی تطھری ۔
ترجمہ : ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے ، فرماتی ہیں : میں مکہ مکرمہ آئی جبکہ میں ایام میں تھی میں نے بیت اللہ شریف کا طو اف نہیں کیا اور نہ صفا مروہ کے درمیان سعی کی۔ حضرت عاشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں، میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں معروضہ کی تو آپ نے فرمایا جو حاجی کرتے ہیں وہ کرتی رہو مگر بیت اللہ کا طواف مت کرو جب تک کہ حیض سے پاک نہ ہوجاؤ۔لہذا عورت صرف مسجد حرام نہ جائے اور طواف نہ کرے، اس کے سوا منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ جائے ، رمی ، جمار ، قربانی اور باقی تمام امور انجام دے۔ اگر دس ، گیارہ ، بارہ ذی الحج کے دوران کبھی بھی ایام ختم ہوجائیں۔ بارہ کے غروب آفتاب سے پہلے تک طواف زیارت کرنے کی گنجائش ہے ۔ بارہویں کے غروب آفتاب کے بعد ایام ختم ہوں تو دم حیض منقطع ہوتے ہی غسل کر کے طواف زیارت کرلے تاخیر کرنے کی صورت میں دم واجب ہوگا۔

وراثت کا نصف حصہ خیرات کردینا
سوال : میرے دوست کے والد نے آدھا ایکر زمین اپنی بیوی کے نام مہر کے عوض دی تھی ۔ ان کا انتقال ہوچکا ۔ اس کے بعد بیوی کا بھی انتقال ہوگیا ۔ان کی تین لڑکیاں اور تین لڑکے ہیں۔ لڑکیوں کا خیال ہے کہ زمین کو فروخت کر کے رقم آپس میں تقسیم کرلیں۔ لڑکوں کو زمین اور رقم میں دلچسپی نہیں ۔ ایک بھائی کا خیال ہے کہ زمین کو فروخت کر کے 50 فیصد رقم ان تین بہنوں میں تقسیم کردی جائے اور باقی 50 فیصد رقم مسجد کی تعمیر یا خیرات میں دیدی جائے ۔ شرع کی روشنی میں اس زمین کو فروخت کرنے کے بعد جو حاصل ہو کیا کیا جانا چاہئے۔
محمد سبحان ماریڈ پلی
جواب : مرحوم کی بیوی کے انتقال کے بعد پوری زمین ، مرحومین کا متروکہ قرار پائی۔ اس کے بعد وضع مصارف تجہیز و تکفین و ادائی قرض (اگر ہو) و اجرائی وصیت برائے غیر وارث در ثلث مابقی ، نو حصے کر کے تینوں لڑکوں کو دو دو اور تینوں لڑکیوں کو ایک ایک حصہ دیا جائے ۔ یہ ورثہ اپنا اپنا حصہ لینے کے بعد جو چاہیں کریں۔ تقسیم سے قبل پچاس فیصد زمین کی رقم مسجد میں بغیر اجازت ورثہ دینا درست نہیں۔

کیا مرید بننا ضروری ہے
سوال : کیا مرید بننا ضروری ہے ؟ ایک صاحب ہمیشہ ہم لوگوں کو کسی کا مرید بننے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن میں بھی مرید بننے کی تاکید کی گئی ہے۔ کیا ان کی بات صحیح ہے ؟
حافظ مجتبیٰ، کنگ کوٹھی
جواب : ارادت (مرید ہونا)در حقیقت کسی شیخ کامل کے ہاتھ پر توبہ کر کے اللہ کے قرب اور اس کی رضا کو حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کرنے کا اقرار ہے ۔ مرید ہونا شرعاً واجب و فرض نہیں تاہم شیخ کامل جو قرب حق کے راستہ سے واقف ہوتا ہے مرید کو اس کے مقصود و مراد کے حصول میں پیش آنے والی رکاوٹوں سے باخبر رہتا ہے۔ اس لئے اس کی رہنمائی و نگرانی میں قرب حق کے راستہ کو طئے کرنا مستحسن ہے۔ تاکہ طالب صادق پیر و مرشد کی رہنمائی میں نفس کے مکر اور شیطان کی دسیسہ کاریوں سے محفوظ رہتے ہوئے راہِ سلوک کو طئے کرسکے۔ قرآن مجید و احادیث شریفہ میں اس کی طرف اشارات ملتے ہیں۔

اسلام میں رہبانیت اور ترک دنیا
سوال : بعض حضرات دین کے کام کے نام پر دین کی خدمت کے نام پر اور عبادات ذکر و اذکار میں اس قدر مصروف ہوجاتے ہیں کہ ضروریات زندگی نظرانداز ہوجاتے ہیں۔ یقیناً اگر ہم ساری زندگی عبادت الہی میں ‘ سر بسجود رہیں تب بھی ہم اس کی عبادت کا حق ادا نہں کرسکتے۔ شادی بیاہ ‘ کاروبار کیا یہ اعمال دنیوی ہیں۔ سب چیزوں کو چھوڑ کر کیا ہمیں عبادت الہی کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجانا چاہئے یا نہیں۔ اس سلسلہ میں شرعی احکام سے رہنمائی فرمائیں ۔
محمد وقار، پرانی حویلی
جواب : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز میں میانہ روی کی تعلیم دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دین اور دینی مسائل کے بارے میں اتنے اہتمام کے باوجود آپؐ کو رہبانیت (ترک دنیا) کا اسلوب قطعی ناپسند تھا۔ اگر کسی صحابی نے اپنے طبعی میلان کی وجہ سے آپؐ سے اجازت مانگی بھی تو آپؐ نے سختی سے منع فرمادیا ۔ خود آپؐ کا جو طرز عمل تھا اسے آپؐ نے یوں بیان فرمایا : ’’ میں اللہ سے تم سب کی نسبت زیادہ ڈرنے والا ہوں ‘ مگر میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا‘ نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں اور اسی طرح عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ‘‘ پھر فرمایا : ’’ یہی میرا طریقہ (سنت) ہے۔ جس نے میرے طریقے کو چھوڑا وہ میری امت میں سے نہیں‘‘ (البخاری ‘ 411:3 ‘ کتاب النکاح ‘ باب 41 ‘ مطبوعہ لائیڈن) ۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ و بن العاص نے آپؐ سے ’’ مسلسل اور ہمیشہ روزے ‘‘ رکھنے کی اجازت مانگی تو فرمایا : ’’ زیادہ سے زیادہ تم صوم داؤد ‘ یعنی ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھ سکتے ہو‘‘ پھر فرمایا : ’’ تیرے بدن کا بھی حق ہے‘ تیرے گھر والوں کا بھی تجھ پر حق ہے‘‘ (کتاب مذکور ‘ 1 : 443 ‘ کتاب الصوم ‘ باب 56 ‘ 57 ) ۔ ایک اور موقع پر حضرت ابو ہریرہ ؓ اور بعض دیگر صحابہؓ نے عدم استطاعت نکاح کی وجہ سے اپنے آپ کو جسمانی طور پر ازدوای زندگی کے ناقابل بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تو آپؐ نے سختی سے منع فرمادیا ( کتاب مذکور ‘ 3 : 413 تا 414 ) ۔ ایک صحابیؓ نے دنیا کے تمام بندھنوں سے الگ ہوکر ایک غار میں معتکف ہوکر عبادت الٰہی کرنے کی اجازت طلب کی تو فرمایا : ’’ میں یہودیت یا عیسائیت کی طرح رہبانیت کی تعلیم نہیں لے کر آیا‘ بلکہ مجھے تو آسان اور سہل دین ‘ دین ابراہیم ملا ہے ‘‘ (احمد بن حنبل : مسند 266:5 )
کتب حدیث و سیرت میں مذکور اس طرح کے بے شمار واقعات سے اس بات کی بخوبی شہادت ملتی ہے کہ آپؐ کو عیسائیت کے راہبوں اور بدھ مت کے بھکشوؤں کی طرح دنیا اور اس کے رشتوں سے قطع تعلق کرنا ہرگز گوارا نہ تھا ۔ آپؐ اسے ایک طرح کا عملی زندگی سے فرار اور قنوطیت سمجھتے تھے اور آپؐ کے نزدیک زندگی کی طرف یہ منفی رویہ کسی عالمگیر اور پائیدار مذہب(اور اس کے بانی) کے شایان شان نہیں تھا۔ اس کے بالمقابل آپؐ کے رویے میں امید و رجا کا پہلو بہت نمایاں تھا ۔ آپؐ کا مسلک یہ رہا کہ دنیا میں رہکر دنیا کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔ اگر آپؐ کا کام رہبانیت یعنی خود کو برائی سے بچانے تک محدود ہوتا تو آپؐ کو اپنی عملی زندگی میں اتنی مشکلات اور مصائب و آلام کا ہرگز سامنا نہ کرنا پڑتا۔

ظن/ برا گمان
سوال : مسلم معاشرہ میں پیار و محبت، اُلفت و شفقت کے بجائے نفرت، عداوت، بغض و مخالفت عام ہے۔ اس کی اہم وجہ یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے سے بدگمانی کے شکار ہیں اور مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو بدگمان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔آپ سے گزارش ہے کہ آپ اسلامی نقطہ نظر اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم کے عمل مبارک سے واضح فرمائیں تو عین نوازش و کرم ہوگا۔
عبدالقیوم، کاورم پیٹ
جواب : اسلام نے مسلمانوں، اپنے دوستوں اور اپنے عزیزوں کے متعلق حسن ظن کا حکم دیا ہے، خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ہمیشہ دوسروں کے متعلق حسن ظن رکھتے تھے۔ اسی بناء پر آپ ﷺ کو کسی سے کوئی ایسی بات سننا گوارہ نہ تھی جس سے آپؐ کے دل میں اپنے کسی صحابی کے خلاف کوئی کدورت پیدا ہونے کا احتمال ہوتا (الترمذی ، 710:5 حدیث 3896) ۔ آپ ﷺ کا ہمیشہ اس آیہ کریمہ پر عمل رہا : ’’یایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم‘‘ (49 (الحجرات{{{{) : 12) ’’یعنی اے اہل ایمان (دوسروں کے متعلق) بہت بدگمانی کرنے سے بچو کہ بعض گمان محض گناہ ہیں‘‘۔ آپ ﷺ کا ارشاد تھا : ’’حسن ظن اچھی عبادت ہے‘‘ (ابوداؤد ، 366:5، حدیث 4993) ۔ ایک مرتبہ ایک شخص حاضر ہوکر کہنے لگا : ’’یا رسول اللہ! میری بیوی کے ہاں سیاہ رنگ کا لڑکا پیدا ہوا ہے‘‘ (یعنی شک کا اظہار کیا) آپ ﷺ نے فرمایا : ’’کیا تیرے پاس ایک کوہان والے اونٹ ہیں‘‘؟ اس نے کہا ’’ہاں‘‘ فرمایا : ’’ان کا کیا رنگ ہے؟‘‘ کہا : ’’سرخ‘‘ فرمایا : ’’کیا ان میں مٹیالے رنگ کے بھی ہیں؟‘‘ کہا : ’’ہاں‘‘ فرمایا : ’’وہ کہاں سے آئے؟‘‘ اس نے کہا : ’’شاید کسی رگ نے اپنی طرف کھینچ لیا ہو‘‘ (یعنی کسی رشتہ دار کا رنگ لے لیا ہو) ، فرمایا : ’’اپنے ہاں بھی یہی سمجھ لو‘‘ (الترمذی ، 439:4 ، حدیث 2128) ، آپ ﷺ کا فرمان ہے : ’’تم خاص طور پر بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی بہت ہی بُری بات ہے‘‘ (مسلم، البر، 4 : 1980) ۔ ’’بدگمانی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ معاشرے کے تمام افراد ایک دوسرے سے خواہ مخواہ بدظنی میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کی لپیٹ میں آنے سے کوئی شخص بھی نہیں بچ سکتا۔ آپ ﷺ اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھے۔ اسی بناء پر خود بھی بدگمانی سے بچتے اور دوسروں کو بھی بدگمانی سے بچنے کی تلقین فرماتے۔
اس کے ساتھ ہی آپ ﷺ کا یہ فرمان تھا کہ ان موقعوں سے بھی بچو جن سے دوسروں کو بدگمانی کا موقع مل سکتا ہے۔ اسی بناء پر آپ ﷺ عورت کو تنہا سفر کرنے یا کسی اجنبی مرد کے ساتھ خلوت کرنے سے روکتے تھے۔ (البخاری ، 453:3، النکاح ، باب 111، 112)

نکاح میں دینداری کو ترجیح
سوال : میری آپ سے درخواست ہے کہ ان مسلمانوں کو تاکید کریں جو لوگ اپنے لڑکے کی شادی کیلئے ایسی لڑکی تلاش کرتے ہیں جو مالدار ہو اور حسن سے مالا مال ہو۔
نام …
جواب : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عورت سے نکاح چار وجوہات کی بناء کیا جاتا ہے۔ (1) اس کے حسب نسب کی بناء (2) اس کے حسن و جمال کی بناء (3) اس کے مال دولت کی بناء (4) اس کی دینداری کی بناء ۔ آپ صلی اللہ علیہ وصلم نے دیندار عورت کو ترجیح دیتے ہوئے فرمایا تم دیندار عورت سے نکاح کر کے دین اور دنیا میں کامیاب ہوجاؤ۔ حسن و جمال ‘ مال و دولت عارضی ہیں۔ دینداری دنیا و آخرت میں کام آنے والی ہے۔

TOPPOPULARRECENT