Saturday , November 17 2018
Home / مضامین / عورت کی امامت کا شوشہ آرایس ایس کی ایک اور شرانگیزی

عورت کی امامت کا شوشہ آرایس ایس کی ایک اور شرانگیزی

مولانا سید احمد ومیض ندوی
آر ایس ایس ایک ایسی تنظیم ہے جس کا خمیر ہی مسلم دشمنی سے اٹھا ہے، وہ اپنے قیام کے روز ِاول ہی سے اس بات کے لیے کوشاں رہی ہے کہ ملک میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے نت نئے مسائل کھڑے کیے جاتے رہیں، آر ایس ایس کی ساری سرگرمیاں مسلم دشمنی کے اِرد گرد گھومتی ہیں، ہندوستان کو ہندوراشٹربنانے اور یہاں سے اسلام اور مسلمانوں کا صفایا کرنے کے لیے وہ ہرجائز وناجائز حربہ استعمال کرنے میں پس وپیش نہیں کرتی، اس فسطائی تنظیم میں دانشور اور پڑھے لکھے لوگوں کی ایک مستقل جماعت ہے، جس کا کام ہی مسلمانوں کے خلاف منصوبے تیار کرنا ہے، یہ ایک منظم،پابند ڈسپلن تحریک ہے جس کے یہاں ہر میدان کے رجال کار ہیں، اور مختلف صلاحیتوں کے حامل شخصیتوں سے ان کے میدان کار میں کام لیا جاتا ہے۔
آر ایس ایس کی مسلم مخالف سرگرمیوں کا ایک رخ وہ ہے کہ جو ایسے نام نہاد مسلم دانشوروں اور تعلیم یافتہ افراد سے تعلق رکھتا ہے جو برائے نام مسلمان ہوتے ہیں، اور جنہیں اسلام پر اعتماد نہیں ہوتا،ایسے ضمیر فروش ،ایمان کے سودائی مسلمانوں کو آر ایس ایس اپنے اسلام مخالف منصوبوں کے لیے استعمال کرتی ہے، میر جعفر اور میر صادق کی اولاد ہردور میں رہی ہے، جس انسان کی نگاہ میں دولت دنیا ہی سب کچھ ٹھہرے وہ دین وایمان کی قدروقیمت کیا جانے، مسئلہ صرف آر ایس ایس ہی کا نہیںہے ، ساری اسلام دشمن طاقتیں ایسے نام نہاد اور ضمیر فروش مسلمانوں کو اسلام کے خلاف استعمال کرتی رہی ہیں، البتہ ہمارے ملک میں آر ایس ایس ا س حوالے سے بہت پیش پیش ہے، اِدھر جب سے ملک میں بی جے پی کو اقتدار ملا ہے ، آر ایس ایس کی اسلام مخالف ریشہ دوانیوں میں کچھ زیادہ ہی اضافہ دیکھا جارہا ہے، اِس وقت ملک میں بی جے پی حکمرانوں کی جانب سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو کچھ فضا بنائی جارہی ہے وہ سب آر ایس ایس کے اشارے پر ہورہا ہے، جہاں تک وزیر اعظم کا تعلق ہے تو وہ بس ایک مہرہ ہیں،

انہیں وہی کچھ کرنا پڑتا ہے جس کا اشارہ آر ایس ایس کے آقاؤں کی جانب سے ملتا ہے،طلاق ثلاثہ سے متعلق جوکچھ کیا گیا اور جو کچھ کیاجارہا ہے وہ آر ایس ایس ہی کا منصوبہ ہے، ملک میں بتدریج شریعت ِاسلامی کو ناقابل عمل بنانا ، نیز ہندوراشٹر ڈکلیر کرنے کے لیے یکساں سول کوڈ نافذ کرنا آر ایس ایس کے بنیادی عزائم ہیں، طلاق ملک کے مسلمانوں کے لیے کبھی مسئلہ نہ تھا، مسلمانوں کے مقابلہ میں بغیر طلاق علیحدگی اختیار کرنے کے واقعات ہندوؤں میں زیادہ ہیں، لیکن نام نہاد اور چند شریعت بیزار مسلم خواتین کو آلہ کار بناکر طلاق کو ایک بہت بڑے ایشو کی شکل دے دی گئی، طلاق ثلاثہ کے معاملہ میں جس طرح عشرت جہاں جیسی دین بیزار خواتین کو استعمال کیا گیا اسی طرح اس وقت کیرالا سے تعلق رکھنے والی جمیدہ نام ایک خاتون کو استعمال کرکے عورت کی امامت کا مسئلہ اُچھالا جارہا ہے، گذشتہ ۲۶؍ جنوری کو جمعہ کے دن کیرالا کے مسلم اکثریتی ضلع ملاپورم سے تعلق رکھنے والی ایک ۳۴ سالہ خاتون نے جو قرآن وسنت سوسائٹی کی صدر بتائی گئی ہے، سوسائٹی کے دفتر میں جمعہ کی نمازمیں مردوں کی امامت کی، جس کے بعد سوشیل میڈیا پر ہنگانہ برپا ہوا،اصل مسئلہ کی طرف آنے سے پہلے ہم یہ بتاتے چلیں کہ آخر جمیدہ نامی خاتون کون ہے اور اس کا پس منظر کیا ہے، جمیدہ پیشہ سے ٹیچر ہے،اس سے متعلق تفصیلات کو جاننے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک منکر حدیث ،بد دین اور زندیق قسم کی خاتون ہے، یہ قرآن وسنت نامی جس سوسائٹی سے وابستہ ہے اس کے بانی پی کے محمد ابو الحسن چکنور مولوی تھے، یہ عربی کے اسکالر تھے، کیرل کے ملاپورم میں ۱۹۳۶ء میں پیدا ہوئے، چکنور مولوی ابتدا ہی سے منکر حدیث تھے، کالج کے دور ہی سے وہ صرف قرآن کو ماننے کی بات کہتے تھے، اور احادیث کو ماننے سے انکار کرتے تھے، انھوں نے سب سے پہلے دن میں پانچ وقت پڑھی جانے والی نمازوں کو تین بتایا تھا، ان کی قرآن وسنت سوسائٹی سے تربیت پاکر جمیدہ نے بھی انکار حدیث کا نظریہ اپنایا، اس نے گذشتہ ۳۱؍ جنوری کو ایک نیوز نیٹ ورک سے گفتگو کے دوران جس قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بد دین اور زندیق قسم کی خاتون ہے، اپنے بانی کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے فون پر گفتگو کے دوران اس نے کہا کہ نماز پانچ وقت کی نہیں تین وقت کی ہوتی ہے، صبح شام اور رات کے وقت ادا کی جاتی ہے، اتنا ہی نہیں اس نے نماز ادا کرنے کے طریقہ پر بھی سوال اٹھایا، اس نے کہا کہ ایک رکعت میں صرف ایک ہی مرتبہ سجدہ ہوتا ہے، جب اس سے پوچھا گیا کہ تین نمازوں اور ایک سجدہ کاذکر کہاں ہے تو وہ جواب نہ دے سکی، جمیدہ نے احادیث کو ماننے سے بھی انکار کردیا۔

جمیدہ کی نماز جمعہ میں مردوں کی امامت کے واقعہ کو بنیاد بنا کر فرقہ پرستوں کی جانب سے اس بات کا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ اسلام خواتین کے ساتھ مساوات نہیں کرتا، اور اسلام میں صنفی تفریق پائی جاتی ہے، خواتین کے مسئلہ کو لیکر اسلام کے خلاف اعتراضات کی بوچھاڑ ہونے لگی ہے، جب کہ بقول مولانا عبد الحمید نعمانی ’’امامت جمعہ کا مرد عورت کے مساوی حقوق سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق دونوں کے الگ الگ دائرہ کار سے ہے، اسلام میں نہ عورت پر جماعت ضرور ی ہے اور نہ جمعہ، اسے عبادات سے اگر روکا جاتا تو بھیدبھاؤ کی بات کہی جاسکتی تھی‘‘ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جمیدہ کو فرقہ پرستوں کی جانب سے آلہ کار بنایا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ جمیدہ نے امامت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید مرد وخواتین کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتا، اور اسلام خواتین کو امامت سے نہیں روکتا، جمیدہ نے ایک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ہمارے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون کو نماز جمعہ کی امامت کا موقعہ ملا ہے، اس نے یہ بھی کہا کہ یہ لازمی نہیں ہے کہ جمعہ صرف مساجد ہی میں ادا کی جائے، جمیدہ نے جس طرح امامت کی اور اس کے بعد میڈیا کے سامنے اس نے جس قسم کے خیالات ظاہر کیے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آر ایس ایس اور اسلام دشمن لابی کی آلہ کار بنی ہے، اس نے خود سے یہ اقدام نہیں کیا بلکہ اسلام دشمن طاقتوں نے اس سے دین اور ایمان کا سودا کرکے یہ حرکت کروائی ہے، جمیدہ کے احوال سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے فرقہ پرست جماعتوں سے روابط ہیں، چنانچہ اس نے امامت بھی ا س طرح انجام دی کہ بھگوا رنگ کا دوپٹہ اور اوڑھنی پہن رکھی تھی، پھر نماز سے متعلق اس کی جانکاری کا یہ عالم ہے کہ اس نے رکوع سے اٹھتے ہوئے سمع اللّٰہ لمن حمدہکے بجائے اللّٰہ اکبر کہا، پھر اس کا یہ کہنا کہ میں مردوں کے ذریعہ بنائی گئی تمام روایات کو توڑنا چاہتی ہوں اور اسلام میں کہیں نہیں لکھا کہ صرف مرد ہی جمعہ پڑھا سکتے ہیں، نیز نماز، روزہ ، حج وزکوۃ جیسی مذہبی عبادات میں عورتوں کے ساتھ بھید بھاؤ نہیں رکھا گیا، اس قسم کی باتیں وہی خاتون کرسکتی ہے جس کا دین وایمان سے کوئی سروکار نہ ہو، اور جو چند حقیر مالی مفادات کی خاطر اسلام دشمنوں کی آلہ کار بنی ہو، سوشیل میڈیا پر جمیدہ کی امامت کی جو تصویر وائرل ہوئی ہے اسے دیکھ کر ہر شخص فیصلہ کرسکتا ہے کہ اس خاتون کا نماز سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور اس کو نماز کے طریقے سے تک واقفیت نہیں ہے، بس ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک میں ہنگامہ کھڑا کرنے کے لیے اسے امامت کی جگہ کھڑا کردیا گیا ہے، فرقہ پرست چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو کسی نہ کسی مسئلہ میں اُلجھا کر رکھا جائے، نیز طلاق ثلاثہ بل پھر اس کے بعد عورت کی امامت کروا کر آر ایس ایس یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ ہندوستان میں اسلام کی ایک نئی شکل آنے والی ہے، اور طلاق ثلاثہ بل کے ذریعہ شریعت میں مداخلت کا جو سلسلہ چل پڑا ہے وہ رکنے والا نہیں ہے، طلاق میں مداخلت کی طرح اب حکومت نماز میں مداخلت کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے۔

عورت کی امامت کو لیکر اسلام دشمن عناصر اسلام میں صنفی مساوات کے مسئلہ کو اُچھالتے ہیں، جب کہ اس مسئلہ کا مساوات مردوزن سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسلام خالق کائنات کا دین ہے جو انسانوں کا بھی خالق ہے، اللہ تعالیٰ فطری طور پر مرد وزن کے درمیان پائی جانے والی تخلیقی بناوٹ کو بہتر طور پر جانتے ہیں، موجودہ سائنس نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ مرد عورت کے درمیان تخلیقی اعتبار سے بہت کچھ فرق پایا جاتا ہے، ایسے میں ذمہ داریوں اور دائرہ کار کے اعتبار سے دونوں کے درمیان یکسانیت نہیں لائی جاسکتی، بہت سی ایسی ذمہ داریوں سے جنہیں تخلیقی تفاوت کے سبب خواتین نہیں نبھاسکتیں، اسلام خواتین کو ان سے مستثنیٰ رکھتا ہے، اور اسلام کا یہ طریقۂ کار خواتین کے ساتھ ظلم نہیں بلکہ سراسر انصاف ہے، چنانچہ اسی نزاکت کے پیش نظر شریعت اسلامی نے نبوت، امامت،قضائ،حدود وقصاص میں شہادت ،عام حالات میں قتال کا وجوب، جمعہ وعیدین کا وجوب اور اذان وخطبہ جیسی ذمہ داریوں سے عورت کو مستثنیٰ رکھا ہے، علاوہ ازیں مرد کو اس کی تخلیقی بناوٹ کے سبب ایک گونہ عورت پر تفوق دیا گیا ہے، جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوں فرمایا گیا: الرجال قوامون علی النسائ(النسائ) مرد عورتوں پر قوام ہیں، مردو عورت کی فطرت جداگانہ ہے اور دونوں کا فطری تفاوت حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے، فطری تفاوت کی وجہ سے مرد کو ایک گونہ جو تفوق دیا گیا ہے اس میں عورتوں کی کسر شان نہیں ہے، بلکہ ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔

جہاں تک حقوق کا معاملہ ہے اسلام نے عورتوں کو بھر پور حقوق دئے ہیں، پوری دنیا میں اسلام ہی واحد مذہب ہے جس میں عورتوں کو ان کی نسوانیت کو ملحوظ رکھ کر بھر پور حقوق دئے گئے ہیں، اسلام نے عورتوں کو کیا کچھ حقوق سے نوازا ہے، اس کا اندازہ عورت کی اس حالت سے لگایا جاسکتا ہے جو اسلام کی آمد سے پہلے تھی، اسلام سے قبل عورتوں پر سنگین مظالم ڈھائے جاتے تھے، صنف ِ نازک کے ساتھ بدترین سلوک روا رکھا جاتا تھا، حتی کہ لڑکی کی پیدائش کو نحوست خیال کرکے اسے زندہ دفن کردیا جاتا تھا، عورتوں کو نہ صرف میراث سے محروم رکھا جاتا بلکہ خود عورت دیگر سازوسامان کے ساتھ مال میراث کے طور پر منتقل ہوتی تھی، خواتین کی عزت وآبرو ہر وقت پامال کی جاتی رہتی تھی، ان حالات میں نبی رحمتﷺ نے عورتوں کے حقوق کی آواز لگائی، آپﷺ نے فرمایا: سنو! تمہارے اپنی بیویوں پر حق ہیں، اور تمہاری بیویوں کے لیے تم پر حق ہیں(سنن الترمذی ) اسلام نے عورت کی تمام حیثیتوں میں اس کے حقوق کی پاسداری کی ہے، عورت چاہے بیوی ہو یا بیٹی، ماں ہو یا بہن ہر حال میں اس کے مقام ومرتبہ کو بلندرکھا ہے اور مردوں پر اس کی ذمہ داری ڈالی ہے، عورتوں کے حقوق کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ولہن مثل الذي علیہن بالمعروف(البقرہ: ۲۲۸ ) عورتوں کے حقوق مردوں کے ذمہ ایسے واجب ہیں جیسے مردوں کے حقوق عورتوں کے ذمہ ہیں، موجودہ مغربی تہذیب جو مساوات مرد وزن کا نعرہ لگاتی ہے اور جس نے آزادی نسواں کی نام نہاد تحریک چلائی، حقیقت یہ ہے کہ بلند بانگ دعووں کے باوجود ا س نے عورتوں کا مقام سب سے زیادہ گھٹا دیا ہے، اس نے ہر حیثیت سے مردوزن میں برابری کا دعویٰ کیا، لیکن ایسا نہ ہوسکتا ہے اور نہ ہوسکا، آج بھی مغربی ممالک میں زندگی کے تمام اہم شعبوں میں عورتوں کا درجہ مردوں سے کم ہے،ذراانصاف سے بتایئے کہ مغربی ملکوں نے کتنی خواتین کو اپنا صدر بنایا؟ وہاں کتنی خواتین وزیر اعظم بنیں؟ اور کتنی خواتین کو جج کے منصب پر فائز کیا گیا؟ اعداد وشمار جمع کئے جائیں تو اس کا تناسب ایک فیصد بھی نہیں بنتا، جمیدہ کی امامت کے مسئلہ کو لیکر سنگھ کے جوقائدین اسلام میں عورتوں کے ساتھ نا انصافی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں وہ بتائیں کہ سنگھ کی سرسنچالک کو ئی خاتون کیوں نہیں بنتی؟ ملک کے چاروں مسلمہ مٹھوں کے شنکرآچاریہ خواتین کیوں نہیں؟

جہاں تک عورت کی امامت کے شرعی حکم کا تعلق ہے تو خواتین کے لیے عورت کی امامت کے تعلق سے ائمہ اربعہ میں اختلاف ہے، مگر عورت کا مردوں کے لیے امام بننا باتفاق ائمہ اربعہ ناجائز ہے، مردوں کے لیے عورتوں کی امامت کے حامی حضرات بالعموم حضرت ام ورقہ بنت عبد اللہ بن حارث بن نوفل انصاریہ کی روایت سے استدلال کرتے ہیں ، جس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہﷺ ان سے ملنے کے لیے ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے اور آپ نے ان کے لیے مؤذن مقرر کیا، جو ان کے لیے اذان دیتا تھا اور آپ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کریں(سنن ابی داؤد ۱؍۸۷) چوں کہ آپ نے ان کے لیے مؤذن مقرر کیا تھا اور ان کے پاس ایک غلام اور باندی بھی تھی، اس لیے یہ امکان پیدا ہوتاہے کہ مؤذن اور غلام بھی ان کے پیچھے نماز پڑھتے ہوں ، اس روایت سے استدلال اس وقت درست ہے جب یہ تسلیم کرلیا جائے کہ مؤذن بھی وہیں نماز پڑھتاتھا اور گھر والوں سے غلام اور گھر کے مرد مراد لئے جائیں، لیکن کیا ضروری ہے کہ مؤذن گھر ہی پر نماز پڑھتا ہو، زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ مؤذن اور گھر کے دیگر مرد حضرات مسجد میں باجماعت نماز پڑھتے ہوں، صاحب بذل المجہود نے بھی گھر والوں سے محلہ کی خواتین کو مراد لیا ہے، علاوہ ازیں اگر عورت کا مردوں کی امامت کرنا درست ہوتا تورسول اللہﷺ کے زمانہ میں بیان جواز کے لیے ایک آدھ واقعہ تو ثابت ہوتا، جب کہ نبی کریمﷺ کے زمانہ میں مردوں کے لیے عورت کی امامت کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، اسی طرح حضرات صحابہ کے زمانہ میں بھی کہیں ثابت نہیں کہ عورت نے مردوں کی امامت کی ہو، اس کے برخلاف بہت سی احادیث سے عورت کی امامت نہ کرنے کا مضمون ثابت ہوتا ہے، مثلا ابن ماجہ کی ایک روایت میں آپﷺ نے فرمایا: أخروہن من حیث أخرہن اللہ عورتوں کو پیچھے رکھو جیسے اللہ نے ان کو پیچھے رکھا ہے، اسی طرح ایک حدیث میں حضرت عائشہؓ کایہ قول ذکر کیا گیا : اگرنبی کریمﷺ کے سامنے یہ صورت حال ہوتی جو اب عورتوں نے پیدا کی ہے تو آپ ان کو ضرور مسجد میں آنے سے روک دیتے، جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا(بخاری ۱؍۱۲)ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ عورت کا صحن کمرہ میں نماز پڑھنے سے کمرہ کے اندر نماز پڑھنا بہتر ہے اور بڑے کمرہ میں نماز پڑھنے سے کوٹھری میں نماز پڑھنا بہتر ہے(سنن ابی داؤد ۱؍۸۲)ظاہر ہے کہ کوٹھری بہت تنگ اور مختصر ہوتی ہے، جس میں بالعموم جماعت قائم کرنا دشوار ہوتا ہے۔
الغرض اسلام میں مردوں کے لیے عورت کی امامت پسندیدہ نہیں ہے اور اس کا تعلق مساوات مرد وزن سے ہرگز نہیں ہے، فرقہ پرست جماعتیں وقفہ وقفہ سے مختلف مسائل کو اچھال کر شرانگیزی کرنا چاہتی ہیں، مسلمانوں کو ایسی تمام شرانگیزیوں سے چوکنا رہنا چاہیے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT