Monday , December 11 2017
Home / آپ کے سوال / عورت کی قربانی میں شوہر کا نام لینا یا والد کا

عورت کی قربانی میں شوہر کا نام لینا یا والد کا

سوال :  قربانی کے بارے میں عوام الناس میں عموماً یہ خیال ہے کہ جب صاحب قربانی اپنی طرف سے قربانی کردے تو وہ قربانی کے بعد اپنے بال نکال لے۔ بعض حضرات کی جانب سے یہ بات مشہور کروائی جارہی ہے ۔ شرعاً کیا حکم ہے۔ نیز دوسری الجھن یہ ہے کہ جب کسی شادی شدہ خاتون کی جانب سے قربانی کی جائے تو اس کے نام کے ساتھ اس کے والد کا نام لینا چاہئے یا اس کے شوہر کا یا اس کی والدہ کا۔
محمد فہیم، نامپلی
جواب :  شرعاً حاجی کیلئے بعد قربانی حلق کا حکم ہے۔ غیر حاجی کیلئے پورے سر کے بال نکالنا یا بال کم کرناضرورتاً درست ہے، ضروری نہیں ۔ نیز قربانی میں صاحب قربانی کے نام کے ساتھ اس کے والد کا نام لیا جائے ۔ خواہ مرد ہو یا عورت اور یہ حکم صرف صاحب قربانی کی تعیین کے لئے ہے جو نام سے بھی متعین ہے۔

صبح سونے کی نحوست
سوال :  مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ مسلم نوجوان کاہل و سست ہوگئے ہیں، وہ رات دیر گئے دوست و احباب کے ساتھ گفتگو کرتے رہتے ہیں، دیر سے سوتے ہیں، نتیجے میں دیر سے اٹھتے ہیں، کئی نوجوان لڑکے تعلیم یافتہ ہیں، کمانے کے قابل ہیں لیکن وہ سستی و عفلت میں اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں ، کماتے دھماتے نہیں، دکان عموماً دیر سے کھولتے ہیں، آپ سے گزارش ہے کہ اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رہنمایانہ ارشادات سے رہبری فرمائیں۔
حافظ محمد قاسم علی، بازار گھاٹ
جواب :  صبح سویرے جلد اٹھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا اور صبح خیزی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو پسند ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح سویرے اٹھنے والوں کے حق میں دعاء خیر فرمائی ہے۔ ’’  اے اللہ ! میری امت کو صبح کے اٹھنے میں برکت دے ‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ رزق کی تقسیم صبح سویرے ہوتی ہے۔ حضرت صخر ایک تجارت پیشہ صحابی تھے ، وہ ہمیشہ اپنا سامان تجارت صبح سویرے روانہ کرتے اور فرماتے ہیں کہ اس کی برکت سے مال کی اتنی کثرت ہے کہ رکھنے کو جگہ نہیں ملتی۔ (ابو داود، 3 ، 8 ، کتاب الجہاد 26-6 ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اوقات صبح سویرے ہی لشکر روانہ فرماتے اور سفر بھی و دیگر اہم کاموں کو رات کے آخری حصے میں انجام دینے کی ترغیب فرماتے۔
لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ فجر کی نماز کے ساتھ ہی اپنے کام و کاج کاروبار و تجارت و دیگر اہم امور کی انجام دہی میں مشغول ہوجائیں۔ رات میں زیادہ دیر تک بلا وجہ جاگنا پسندیدہ نہیں ہے، اس سے فجر کی نماز جو کہ فرض ہے چھوٹ جانے کا ندیشہ رہتا ہے اور  رزق کی تقسیم کے وقت وہ خواب غفلت میں رہتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات میں جلد سونے اور صبح جلد اٹھنے کی ترغیب دی ہے اور بعد نماز عشاء باہمی گفتگو و قصہ گوئی سے منع فرمایا ۔ پس فجر کی نماز ترک کرنا اور صبح دیر گئے تک سونا منحوسی ہے۔

قادیانی کا ذبیحہ
سوال :   میں قادیانی آبادی کے درمیان رہتا ہوں، بعض قادیانی افراد سے میری دور کی رشتہ داری ہے ۔ مجھے ان سے متعلق کچھ معلومات حاصل کرناہے ۔
– 1 کیا میں اپنی قربانی کا جانور قادیانی کے ہاتھ سے ذبح کرواسکتا ہوں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا نام لیکر اور اسلامی طریقے پر ہی ذبح کرتاہے ۔ کیا میں قادیانی کی طرف سے بھیجا گیا قربانی کا گوشت استعمال کرسکتا ہوں۔
– 2 قربانی کا گوشت جو مسلمان ذبح کرے ‘ قادیانی کو دیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟
محمد الیاس، مصری گنج
جواب :   جانور کا گوشت حلال ہونے کیلئے کسی مسلمان یا اہل کتاب کا جانور کو ذبح کرنا شرط ہے ۔ عالمگیری جلد 5 کتاب الذبائح میں ہے : وشرط کون الذابح مسلما او کتابیا۔
چونکہ اہل کتاب اللہ تعالیٰ اور آسمانی کتاب پر ایمان لانے کے ساتھ کسی نبی برحق مثلاً حضرت موسی اور حضرت عیسی علیھا السلام پر ایمان رکھتے ہیں، اس لئے ان کا ذبیحہ حلال ہے۔ قادیانی اللہ تعالیٰ کے ارسال کردہ نبی کو نہیں مانتے بلکہ خود ساختہ نبوت کے چھوٹے دعویدار کو نبی تسلیم کرتے ہیں  اس لئے ان کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور کا گوشت شرعاً جائز نہیں۔ اس لئے اگر وہ اپنے جانور کا گوشت کسی مسلمان کو دے تو اس کو قبول نہ کیا جائے۔ قربانی کا گوشت مسلمان اہل کتاب اور غیر مسلم کو دے سکتے ہیں اس لحاظ سے قادیانی کو بھی قربانی کا گوشت دیا جائے تو قربانی پر کوئی اثر واقع نہیں ہوگا ۔ تاہم قادیانی سے سماجی بائیکاٹ کیا جائے کیونکہ وہ اسلام کے لبادہ میں اسلام کو نقصان پہنچا رہا ہے، اس لئے قربانی کا گوشت قادیانی کو نہ دیا جائے۔
اسلامی ذبیحہ کی حکمتیں
سوال :  مغربی ممالک میں آج کل حلال حرام کا کوئی تصور نہیں عموماً گوشت حرام ہوتا ہے، بغیر ذبح کیا ہوا ہوتا ہے اور مسلمان بلا کسی پس و پیش حرام جانوروں اور بغیر ذبح کئے ہوئے جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں(الا ماشاء اللہ)۔
الحمدللہ ہمارے حیدرآباد میں حلال گوشت کا اہتمام ہوتا ہے ۔ لیکن ذبح کے وقت جو طریقہ ہونا چاہئے اس پر عمل عمومی طور پر مسالخ میں نہیں کیا جاتا۔ جانوروں کو تکلیف دی جاتی ہے، اب جبکہ عیدالاضحی بھی قریب ہے۔ براہ کرم شرعی نقطہ نظر سے جانور ذبح کرنے کا اسلامی طریقہ کیا ہے اور جانوروں کو ذبح کرنے کا مقصد اور فائدہ کیا ہے بیان کریں ؟
وراثت علی، حکیم پیٹ
جواب :  ذبح کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ جانور کو بائیں پہلو پر اس طرح لٹایا جائے کہ جانور کا رخ قبلہ کی طرف ہو۔ جانور کو ذبح کرنے کے لئے آلہ تیز ہونا چاہئے تاکہ وہ غیر ضروری اذیت سے محفوظ رہے ۔ بہت سے جانوروں کو ایک ہی دفعہ اکھٹا ذبح کرنا مکروہ ہے۔ اسی طرح یہ بھی مکروہ ہے کہ ٹھنڈا ہونے سے پہلے جانور کے کسی عضو کو کاٹ کر الگ کردیا جائے یا اس کی کھال اتار دی جائے۔
ذبح کی ان سب احتیاطوں میں (شرعی اصطلاح میں) ’’ حلال ‘‘ طعام کا تصور مدنظر ہے، یعنی جانور ، مجموعی طور سے زہروں سے پاک ہو اور ایسا ہو جس سے زندگی کی حالت میں کوئی کراہت یا نجاست یا کثافت خاص وابستہ نہ ہو۔ ذبح کیا ہوا جانور ہر زہریلے مادے سے پاک ہونا چاہئے اور کوشش یہ ہو کہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو اور جتنی تکلیف دی جارہی ہے اسے بشری ضرورتوں کے لئے اضطراری بات سمجھ کر ، خدا کے پاک تصور سے وابستہ کر کے ایک تمدنی اجازت کے طور پر روا سمجھا گیا ہے اور ایذا رسانی کے ہر شائبے سے پاک ہے۔

احرام کی حالت میں خوشبودار ٹیوب لگانا
سوال :   میرے والد حج کیلئے گئے ہوئے ہیں، سفر کی وجہ سے یا آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے ان کی طبیعت ٹھیک نہیں رہی، مکہ پہنچنے کے بعد وہ عمرہ سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ بیمار ہوگئے۔ ان کے پاؤں اور ہاتھ میں کچھ ورم آگیا ہے ، اس کیلئے وہ ایک ٹیوب کا استعمال کر رہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ ٹیوب میں خوشبو ہے تو کیا وہ احرام کی حالت میں بھی اس ٹیوب کو لگا سکتے ہیں یا نہیں۔اگر وہ ٹیوب لگا لیں تو کیا انہیں دم یا کفارہ دینا ہوگا ؟
براہ کرم جلد سے جلد اس کا جواب عنایت فرمائیں تو مہربانی ۔ واضخ رہے کہ اس ٹیوب کا استعمال ناگزیر ہے ورنہ ورم کے بڑھ جانے کے امکانات ہیں ۔
محمد عبدالواسع، مہدی پٹنم
جواب :  شرعاً احرام کی حالت میں خوشبو کا استعمال منع ہے ۔ البتہ ایسی دوا جو حقیقی حوشبو مثلاً مشک و عنبر نہ ہو تو اس دوا کا استعمال ازروئے شرع جائز ہے۔ در مختار برحاشیہ ردالمحتار جلد 2 ، کتاب الحج صفحہ : 601 مطبعہ دارالفکر بیروت میں ہے : (أو خضب رأسہ بحناء او ادھن بزیت أوخل ولو خالصین فلو اکلہ أو داوی بہ) جراحۃ أو (شقوق  رجلیہ أو اقطر فی اذنیہ لا یجب دم ولا صدقۃ) اتفاقاً (بخلاف المسک والعنبر والخالبیۃ)
لہذا احرام کی حالت میں بطور دوا استعمال کئے جانے والے ٹیوب کو لگانے میں شرعاً  کوئی مضائقہ نہیں، اس سے دم یا صدقہ لازم نہیں آتا۔

بیرونِ ملک مقیم حضرات کی ہندوستان میں قربانی
سوال :  خلیجی ممالک اور یوروپی ممالک میں ایک دن دو دن پہلے عید ہوتی ہے‘ ان کی جانب سے یہاں جو قربانی دیجاتی ہے‘ ان کی عید کے دوسرے تیسرے دن ہوتی ہے اور اگر ہندوستان میں عید کے دوسرے تیسرے دن قربانی دی جائے تو پھر بیرونِ ملک مقیم افراد کے قربانی کے ایام ختم ہوچکے ہوتے ہیں ۔
ایسی صورت میں ان کے ایام قربانی گزرنے کے بعد ان کی طرف سے ہندوستان میں قربانی دینا ازروئے شرع جائز ہے یا نہیں ؟
حافظ سید صفی الدین، مانصاحب ٹینک
جواب : اگر کوئی شخص مثلاً امریکہ میں یا سعودی عرب میں مقیم ہو اور وہ ہندوستان میں مقیم اپنے عزیز و اقارب کو اطلاع دے کہ وہ اس کی جانب سے قربانی دیں تو اگرچہ خلیجی ‘ یوروپی ‘ مغربی ممالک اور ہندوستان میں ایک یا ایک سے زائد دن کا فرق آسکتا ہے لیکن شریعت مطھرہ میں جس مقامپر قربانی دی جاتی ہے اس کا اعتبار کیا گیا ہے جس کی قربانی دیجاتی ہے‘ اس کے مقام کااعتبار نہیں۔عالمگیری میں ہے : قال محمد رحمہ اللہ تعالیٰ ینظر فی ھذا الی موضع الذبح دون المذبوح عنہ کذا فی الظھیرۃ ۔ اور اسی میں ہے : ان الرجل اذا کان فی مصر و اھلہ فی مصر آخر وکتب الیھم لیضحوا عنہ فانہ یعتبر مکان التضحیۃ۔
قربانی سے قبل چرم قربانی فروخت کرنا
سوال :  دیکھا جارہا ہے کہ بعض لوگ قربانی سے پہلے ہی قربانی کا چرم فروخت کر رہے ہیں۔ بعض لوگ گشت کرتے ہیں اور جن کے پاس قربانی کے جانور ہوتے ہیں ان سے بات چیت کرلیتے ہیں اور قربانی کے چرم کی قیمت پہلے طئے کرلیتے ہیں۔کیا شریعت مطھرہ میں قربانی کے جانور کو ذبح کرنے سے قبل اس کے چرم کو فروخت کرنا جائز ہے۔
سید منصور حسین، سعید آباد
جواب :   زندہ جانوروں کا چرم یا کوئی جزو عضو ذبح کرنے سے قبل فروخت کرنا جائز نہیں۔ عالمگیری جلد 3 کتاب البیوع میں ہے : ولو باع الجلد والکرش قبل الذبح لا یجوز فان ذبح بعد ذلک و نزع الجلد والکرش وسلم لا ینقلب العقد جائزا کذا فی الذخیرۃ۔
قربانی کی قیمت صدقہ کرنا
سوال :  آج کل یہ رجحان بڑھتا جارہا ہے کہ کیوں نہ قربانی دینے کے بجائے کسی شخص کی مدد کی جائے جو ضرورتمند ہو اور اپنی ضروریات کی تکمیل سے عاجز ہو۔ایسی صورت میں کیا کوئی جواز پیدا ہوسکتا ہے کہ قربانی کے بجائے قربانی کی قیمت سے ضرورتمند کی حاجت پوری کی جائے۔ اس صورت میں کیا قربانی کا ثواب ملے گا۔
عبدالقدیر، بازار گھاٹ
جواب :  قربانی میں جانور ذبح کرنا لازم ہے ۔ قیمت دینے سے واجب قربانی ادا نہیں ہوتی۔ عالمگیری جلد 5 کتاب الاضحیتہ میں ہے : و منھا انہ لا یقوم مقامھا فی الوقت حتی لو تصدق یعنی الشاۃ او قیمتھا فی الوقت لایجزی عن الأضحیۃ

TOPPOPULARRECENT