Friday , April 20 2018
Home / شہر کی خبریں / عہدوں کی اہمیت نہیں ، ریاست کے مفادات عزیز ، چندرا بابو نائیڈو

عہدوں کی اہمیت نہیں ، ریاست کے مفادات عزیز ، چندرا بابو نائیڈو

پون کلیان کی ہر منٹ پر ایک نئی بات ، جگن کا مودی کی جانب جھکاؤ ، چیف منسٹر اے پی کا بیان
حیدرآباد ۔ 21 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : صدر تلگو دیشم پارٹی و چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ محض ریاستی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے خواہ سیاسی حالات کچھ بھی ہوں بہت ہی سوچ سمجھ کر قدم اٹھا رہے ہیں ۔ جب کہ گذشتہ چار سال تک بھی انتہائی صبر سے کام لیا گیا اور ریاست کے ساتھ انصاف ہونے کا انتظار کیا گیا بالخصوص آندھرا پردیش کے ساتھ انصاف کی مکمل توقع رکھتے ہوئے ہی گذشتہ انتخابات میں بی جے پی کے ساتھ انتخابی مفاہمت کی گئی تھی کسی وقت بھی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا اور چار سال کی مدت سے بی جے پی استفادہ نہیں کرسکی ۔ مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے پارٹی کی کوآرڈینیشن کمیٹی ( تال میل کمیٹی ) کے قائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عہدوں کی اہمیت نہیں بلکہ ریاست کے مفادات اہمیت کے حامل ہیں اور آندھرا پردیش کے عوامی حقوق کا حصول ہی ہمیشہ ان کا مقصد رہتا ہے ۔ انہوں نے مرکزی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 29 مرتبہ ریاستی مسائل پر توجہ دلانے کے لیے دہلی کا دورہ کیا گیا لیکن یہ تمام دورے بے سود ثابت ہوئے ۔ جب کہ پہلے سال میں ہی فراہم کئے جانے والے خسارہ آمدنی سے متعلق رقومات پانچ سال تک بھی فراہم نہیں کئے گئے اور اب خسارہ آمدنی کے تحت صرف 138 کروڑ روپئے ہی دینے کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ اس طرح ریاست کے ساتھ نا انصافی ہی نہیں کی جارہی ہے بلکہ الٹا حکومت کو ہی غلط ٹھہرانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ان پر حملہ کرنا یعنی غلط ٹھہرانا ریاست آندھرا پردیش کو ہی کمزور کرنا ہی مرکزی حکومت کا اہم مقصد ہے ۔ اگر مرکزی حکومت ان کو غلط ٹھہرانے پر جو توجہ دے رہی ہے اس کا کچھ حصہ ہی ریاست کی ترقی پر توجہ دی جاتی تو آج یہ صورتحال ہی پیدا نہیں ہوتی تھی ۔ صدر تلگو دیشم پارٹی نے مرکزی حکومت کو ہدف ملامت بناتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کے طرز عمل کے خلاف ہی تحریک عدم اعتماد پیش کر کے تین چار دن ہوگئے لیکن اس پر مباحث کے بغیر ہی پارلیمانی کارروائی کو ملتوی کردیا جارہا ہے ۔ جب کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور جنا سینا پارٹی بی جے پی کی طرف سے تائید میں بات کررہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تمام انگلیاں وزیراعظم مسٹر نریندر مودی پر اُٹھ رہی ہیں تو وائی ایس آر کانگریس اور جنا سینا پارٹیوں کی انگلیاں ان پر ( چندرا بابو نائیڈو پر ) اٹھائی جارہی ہیں ۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے جنا سینا پارٹی قائد پون کلیان کو سخت نشان ملازمت بناتے ہوئے کہا کہ مسٹر پون کلیان ہر منٹ ایک نئی بات کررہے ہیں اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ ہر منٹ میں کیا بات کررہے ہیں وہ خود ان باتوں کو محسوس کرنے یا سمجھنے کے موقف میں نہیں ہیں ۔ پون کلیان صبح میں ایک ، دوپہر میں ایک اور شام میں ایک بات کررہے ہیں ۔ اسی طرح وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی مسٹر این لوکیش پر کئی الزامات عائد کیا اور تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سب نے تنقیدیں کیں لہذا میں نے بھی تنقید کی اور بتایا کہ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں لیکن اب وہی جنا سینا قائد پون کلیان کا کہنا ہے کہ لوکیش سے متعلق ان کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پون کلیان ابتداء میں پیاکیج کو ’ سڑا ہوا لڈو ‘ سے تعبیر کیا تھا اور اب خصوصی موقف کی ضرورت نہ رہنے کا اظہار کرتے ہوئے رقومات کی اہم ضرورت رہنے کی بات کررہے ہیں ۔ مسٹر نائیڈو نے سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور جنا سینا پارٹی پر ریاست کے مفادات کو نقصان پہونچانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا اور دونوں ہی پارٹیوں سے اپنے اس طرز عمل سے باز آجانے کی خواہش کی ۔۔

TOPPOPULARRECENT