Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / عہدیداروں کیلئے پارٹیاں ‘تعلیمی ادارہ کا فرنیچر جلا کر پکوان

عہدیداروں کیلئے پارٹیاں ‘تعلیمی ادارہ کا فرنیچر جلا کر پکوان

گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ اڈوانسڈ اسٹڈی اِن ایجوکیشن میں ماتحت عملہ کی من مانی ‘ طلبا کو مشکلات
حیدرآباد۔/25اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت ایک طرف تعلیمی اداروں میں تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا دعویٰ کررہی ہے جبکہ دوسری طرف تعلیمی اداروں کی ابتر صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت کے یہ دعوے کھوکھلے دکھائی دے رہے ہیں۔ مانصاحب ٹینک میں واقع گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف اڈوانسڈ اسٹڈی اِن ایجوکیشن میں جہاں اہم کورسیس کی تعلیم کا انتظام ہے وہاں ناقص انتظامات کے سبب امیدواروں کو کئی مسائل کا سامنا ہے۔ عمارت کی نگہداشت پر حکام کی عدم توجہ کے علاوہ ادارہ میں مستقل پرنسپل کی عدم موجودگی کے سبب ماتحت عملے کی من مانی طلبہ کیلئے مشکلات میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ  عمارت کی خستہ حالی کے علاوہ ادارہ میں فرنیچر کی کمی ہے لیکن ادارہ کا عملہ اعلیٰ عہدیداروں کے اعزاز میں وقفہ وقفہ سے پارٹیوں کا اہتمام کررہا ہے اور پکوان کیلئے فرنیچر کی لکڑی استعمال کی جارہی ہے جس ادارہ میں فرنیچر کو جلانے کیلئے استعمال کیا جائے وہاں کی صورتحال کی ابتری کا اس سے بڑھ کر ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ ڈپٹی ایجوکیشنل آفیسر نے مستقل پرنسپل کے عہدہ پر موجود عہدیدار کو کسی وجہ کے بغیر علحدہ کردیا اور ایک سپرنٹنڈنٹ کو پرنسپل کے عہدہ کی ذمہ داری دے دی گئی۔ حالیہ دنوں میں محکمہ تعلیم کے بعض عہدیداروں کیلئے پارٹی کا انتظام کیا گیا جس کے پکوان کیلئے ادارہ کے فرنیچر کو توڑ کر لکڑی جلانے کیلئے استعمال کی گئی۔ اس طرح کی پارٹیوں کیلئے امیدواروں سے رقم جمع کی جارہی ہے جو غیر قانونی ہے۔ کالج کے احاطہ میں پارٹی اور پکوان کرنا از روئے قواعد غیر قانونی ہے اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ عہدیداروں کو خاطیوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیئے۔ طلبہ نے شکایت کی کہ پارٹیوں کیلئے ان سے فی کس دوسو تا پانچ سو روپئے وصول کئے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ کی جانب سے جمع کردہ کاشن اماؤنٹ کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ اس ادارہ میں اردو، ہندی اور تلگو پنڈت کورسیس کے علاوہ بی ایڈ اور ایم ایڈ کورسیس چلائے جاتے ہیں۔ عہدیداروں کی ملی بھگت کے نتیجہ میں طلبہ کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔ موجودہ عملے کو عمارت کے تحفظ اور معیار تعلیم میں بہتری کے بجائے اعلیٰ عہدیداروں کو خوش کرنے کیلئے پارٹیوں کے اہتمام سے فرصت نہیں۔ ادارہ کے بعض طلبہ نے ’’ سیاست‘‘ کو نہ صرف تفصیلات سے واقف کرایا بلکہ پکوان کی تصاویر بھی روانہ کی ہیں جس میں فرنیچر کو جلاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلگو اور اردو پنڈت کے کورس میں فی کس 50اور ہندی پنڈت کورس میں100طلبہ ہیں۔ بی ایڈ میں 160 اور ایم ایڈمیں 60طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ وزیر تعلیم اور ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری کو فوری اس ادارہ کا معائنہ کرتے ہوئے صورتحال میں بہتری کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT