Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / عیدالاضحی کی تیاریوں کا آغاز ، شہر میں داخلہ کے راستوں پر چیک پوسٹ

عیدالاضحی کی تیاریوں کا آغاز ، شہر میں داخلہ کے راستوں پر چیک پوسٹ

دستاویزات کی جانچ پڑتال سے عوام میں ہلچل ، جانوروں کے تاجرین بھی پریشان حال
حیدرآباد۔24اگسٹ (سیاست نیوز) عیدالاضحی کی تیاریوں کے ساتھ ہی شہر کے اطراف کے علاقو ںمیں اور شہر میں داخل ہونے والی سڑکوں پر محکمہ پولیس کی جانب سے چیک پوسٹس کے قیام سے ہلچل پیدا کردی گئی ہے اور شہر میں داخل ہونے والے راستوں پر جانوروں کی منتقلی کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتے ہوئے ان کی اور دستاویزات کی جانچ کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بڑے جانور ہی نہیں بلکہ تمام جانور جو بغرض ذبیحہ شہر میں لائے جارہے ہیں ان تمام کی مکمل تفصیلات کے حصول کا چیک پوسٹ پر موجود عہدیداروں کو حق حاصل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان چیک پوسٹس پر موجود عہدیداروں کی جانب سے جانور منتقل کرنے والوں سے دریافت کیا جا رہاہے کہ ان جانوروں کو ذبح کرنے کیلئے سرٹیفیکیٹ حاصل کیا گیا ہے یا نہیں ؟ جبکہ جانور شہر میں فروخت کیلئے لانے والو ںکا کہنا ہے کہ بڑے جانور میں وہ صرف بیل‘ بھینس یا کھلگے لا رہے ہیں اس کے باوجود بھی کی جانے والی ہراسانی نا قابل فہم ہے اور ہر چیک پوسٹ پر روک کر گاڑیوں کی تلاشی لئے جانے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ شہر حیدرآباد میں داخل ہونے والے راستوں بالخصوص بندلہ گوڑہ‘ حیات نگر‘ بالا نگر‘ شاہین نگر ‘ شمس آباد‘ چمپا پیٹ‘ اپل‘ گھٹکیسر‘ کوکٹ پلی کے علاوہ اطراف کے علاقو ں میں محکمہ پولیس کی جانب سے چیک پوسٹس قائم کرتے ہوئے گاڑیوں کی جانچ کی جا رہی ہے کہ کہیں جانوروں میں کہیں کوئی گائے نہ منتقل کرجائے ۔ ملکی قوانین کے مطابق گاؤکشی پر عائد پابندی کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات نہ صرف تحفظ قانون میں شمار کئے جائیں گے بلکہ ملک کی موجودہ صورتحال میں اس طرح کے اقدامات امن و امان کی برقراری میں بھی بے انتہاء معاون ثابت ہوں گے لیکن قوانین کے نام پر ان چیک پوسٹس پر بڑے جانور کے ساتھ ساتھ چھوٹے جانورو ںکو بھی ذبح کرنے کے اجازت ناموں کو دریافت کرتے ہوئے تاجرین کو ہراساں کیا جانے لگا ہے۔ شہر میں گذشتہ یوم ہی جانوروں کی منتقلی پر نگاہ رکھنے کیلئے تمام حساس علاقوں اور شہر میں داخل ہونے والے راستوں پر پولیس چیک پوسٹس قائم کئے گئے ہیں لیکن اندرون ایک یوم ہی ان چیک پوسٹس پر تعینات ملازمین و عہدیداروں کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ تمام چیک پوسٹس کے قریب گاؤ رکھشکوں کی ٹولیاں بھی سرگرم رہنے لگی ہیں جو کہ امن و ضبط کی صورتحال کو نقصان پہنچانے کا سبب بھی بن سکتی ہیں لیکن گاؤ رکھشکوں کا ادعا ہے کہ وہ چیک پوسٹس کے قریب اس لئے ہیں کیونکہ جانورو ںکی ضبطی کی صورت میں انہیں گاؤ شالہ منتقل کیا جا سکے۔حکومت اور محکمہ پولیس کے اعلی عہدیداروں کو اس سلسلہ میں فوری متحرک ہوتے ہوئے تمام چیک پوسٹس کے ذمہ داروں کو ہدایات جاری کرنی چاہئے کہ وہ جانوروں کے تاجرین کو غیر ضروری ہراسانی کا سلسلہ فوری بند کریں کیونکہ اس طرح کی ہراسانی نقص امن کا سبب بن سکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT