Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / عیدالاضحی کے موقع پر بڑے جانوروں کی قربانی سے گریز کا مشورہ

عیدالاضحی کے موقع پر بڑے جانوروں کی قربانی سے گریز کا مشورہ

جامعہ نظامیہ سے فتویٰ، سنی علماء بورڈ کے علماء کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔20اگست(سیاست نیوز)مختلف مکاتب فکر کے علماء او رمشائخین نے عیدالاضحی کے موقع پر بڑے جانور کی قربانی سے اجتناب کی اپیل کرتے ہوئے اس ضمن میںبرصغیر کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ سے حاصل فتویٰ کابھی ذکر کیا۔ آج یہاںمیڈیا پلس آڈیٹوریم میںمنعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر سنی علماء بورڈمولانا حامد حسین شطاری نے کہاکہ عیدالاضحی کے موقع پر مسلمان روایتی طور پر بڑے جانوروں کی قربانی بھی دیتا ہے اور اس میںکچھ حد تک معاشی طور پر کمزور لوگ بھی بڑے جانور کی قربانی میںحصہ لیتے ہیں مگر ملک کے موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر اگر ہم بڑے جانور کی قربانی سے اجتناب کرتے ہیںتو یقینایہ ایک بہترین پہل ثابت ہوگی۔ انھوں نے کہاکہ فرقہ پرست طاقتیں بڑے جانور پر ذبیحہ میںرکاوٹیں پیدا کرتے ہوئے مسلمانوں کاجانی اورمالی نقصان کررہے ہیں جبکہ قربانی دیگر ضرورتو ںکی تکمیل کے لئے لایاجانے والا جانور پنچایت رسیدکے بعد منتقل کیاجارہا ہے ۔ انہوںنے بتایاکہ بڑے جانور میںزیادہ تر بیل ہوتے ہیںاور فرقہ پرست طاقتیںبیلوں کی منتقلی کو فرقہ وارانہ رنگ دیکر ماحول کودرہم برہم کرنے کی کوشش کررہی ہیں لہذا کہ ہم بڑے جانور کی قربانی کا ہی بائیکاٹ کرتے ہوئے دیگر ابنائے وطن کو مذہبی رواداری کا پیغام دیں اور فرقہ پرست طاقتوں کے عزائم کو ناکام بنانے میں اہم رول ادا کریں۔ مولانا حکیم سید شاہ خیرالدین قادری صوفی نے بتایا کہ چند روز قبل ایک کل جماعتی اجلاس اُردو گھر مغل پورہ میںمنعقدہ ہوا جس میںصدرجماعت اسلامی ہندتلنگانہ و اڈیشہ مولانا حامد محمد خان ،مولانا آصف عمری جماعت اہل حدیث‘ مفتی صاد ق محی الدین فہیم ‘ مولانا فصیح الدین نظامی اور شیعہ برادری سے عالم دین نے شرکت کرتے ہوئے مجوزہ عید الاضحی کے موقع پر بڑے جانوروں کی قربانی سے اجتناب کی تجویز کو قبول کرتے ہوئے ہر محاذ پر تعاون کا یقین دلایا ہے۔اگر اس سال بڑے جانور کی قربانی سے اجتناب کرتے ہیں تو سارے ملک میں بڑے جانوروں کو لیکر ان کی حفاظت کے دعویدار لوگ پریشان ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ جانی اورمالی نقصان سے بچنے کے لئے بڑے جانور( گائے او ربیل) کی قربانی سے اجتناب کرتے ہوئے بکرے ‘ دنبے ‘ بھینس یا اونٹ کی قربانی کی گنجائش ہے اور اس ضمن میںہم نے جامعہ نظامیہ سے فتویٰ بھی حاصل کیا گیا ہے۔ہم اس مہم کو سارے ملک میںلے جانے کی تیاری کررہے ہیں ۔ مولانا آصف عمر ی نے کہاکہ بڑے جانور کی قربانی موجود ہ دور میں مسلمانوں کے جانی اور مالی نقصان کی وجہہ بن رہی ہے لہذا ہمیںاس سے دور رہتے ہوئے فرقہ پرستوں کو سخت پیغام دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بیرونی ممالک کو گوشت درآمد کرنے والے جتنے بھی ادارے ہیںوہ غیرمسلموں کے ہیں۔انہو ںنے عیدالاضحی کے موقع پرصفائی کاخیال رکھنے اورسڑکوں پرقربانی کاخون بہانے ‘ جانوروںکا فضلہ پھینکنے سے بچنے کی اپیل کی ہے۔مولاناشاہ محمدحامد علی منہاج قادری نے کہاکہ ہمیں بڑے جانور کی قربانی سے اجتناب کرتے ہوئے گنگاجمنی تہذیب کے فروغ میںپہل کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT