Monday , April 23 2018
Home / Top Stories / عیدگاہ گولکنڈہ علاقہ میں وقف اراضی پر مندر کی تعمیر کی کوشش

عیدگاہ گولکنڈہ علاقہ میں وقف اراضی پر مندر کی تعمیر کی کوشش

قدیم مسجد قطب شاہی کی اراضی پر قابض شخص کے خلاف مقامی افراد کا احتجاج
حیدرآباد۔6۔ فروری (سیاست نیوز) گنبدانِ قطب شاہی کے قریب واقع عیدگاہ گولکنڈہ کے علاقہ میں آج اس وقت ہلکی کشیدگی پھیل گئی جب قدیم مسجد قطب شاہی کی اوقافی اراضی پر قابض شخص نے مندر تعمیر کردیا۔ قطب شاہی مسجد غیر آباد ہے جس کے تحت تقریباً دیڑھ ایکر اراضی موجود ہے۔ اس اراضی کے سلسلہ میں عدالت نے حکم التواء بھی جاری کیا ہے۔ طویل عرصہ سے اس اراضی پر مقامی غیر سماجی عناصر کا قبضہ ہے۔ انہوں نے حالیہ عرصہ میں وقف بورڈ کے عہدیداروں کو اراضی کے معائنہ سے روک دیا تھا ۔ اراضی پر اپنے قبضہ کو مضبوط کرنے کیلئے اچانک ایک چھوٹی مندر تعمیر کردی گئی۔ اطلاع ملتے ہی مقامی افراد جمع ہوگئے اور اس اقدام پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے غیر سماجی عناصر کی سرگرمیوں سے متعلقہ ڈپٹی کمشنر پولیس کو واقف کرایا اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر منان فاروقی کی قیادت میں عہدیداروں کی ٹیم روانہ کی۔ منان فاروقی اور وقف بورڈ کے دیگر عہدیداروں نے وقف اراضی کا معائنہ کرتے ہوئے پولیس کو عارضی مندر کی غیر قانونی تعمیر سے واقف کرایا ۔ پولیس کو وقف ریکارڈ کی تفصیلات پیش کی گئی۔ متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر پولیس اور پولیس اسٹیشن گولکنڈہ کے عہدیدار بھی اس موقع پر موجود تھے۔ پولیس نے عوام کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے تیقن دیا کہ قابضین کے خلاف تحریری شکایت درج کرنے کی صورت میں کارروائی کی جائے گی اور مندر بھی ہٹادیا جائے گا ۔ پولیس کے تیقن کے بعد مقامی افراد واپس ہوگئے۔ چیف اگزیکیٹیوآفیسر وقف بورڈ اور متعلقہ رکن اسمبلی نے پولیس کو ہدایت دی کہ قابضین کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے وقف اراضی کا تحفظ کریں۔ وقف بورڈ کی جانب سے پولیس میں شکایت درج کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس غیر آباد مسجد کی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف بورڈ کو مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ قابضین کا تعلق غیر سماجی عناصر سے بتایا جاتا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ مذکورہ اراضی کی حدبندی کرتے ہوئے اس کا تحفظ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے نمائندگی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اراضی کے تحفظ کے علاوہ مسجد کو آباد کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ اس سلسلہ میں مقامی افراد سے تعاون حاصل کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT