Thursday , August 16 2018
Home / شہر کی خبریں / عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ اراضی تحفظ کیلئے گزٹ نوٹیفیکیشن کی اجرائی میں تاخیر

عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ اراضی تحفظ کیلئے گزٹ نوٹیفیکیشن کی اجرائی میں تاخیر

غیر مجاز قابضین قبضہ مستحکم کرنے میں مصروف ، مقامی افراد کی بارہا نمائندگی بے فیض ثابت
حیدرآباد ۔25۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی اوقافی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف بورڈ کی جانب سے گزٹ نوٹیفکیشن کی اجرائی میں تاخیر کے سبب غیر مجاز قابضین اپنے قبضہ کو مستحکم کرنے میں مصروف ہیں۔ وقف بورڈ کے اجلاس میں گزشتہ ماہ گزٹ نوٹیفکیشن کی اجرائی کو منظوری دی گئی تھی لیکن بعض قانونی رکاوٹوں کا بہانہ بناکر ابھی تک نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں ماہرین قانون سے رائے حاصل کی گئی ہے اور انہوں نے نوٹیفکیشن سے قبل عدالت میں کیویٹ داخل کرنے کی صلاح دی ہے تاکہ غیر مجاز قابضین کو عدالت سے کوئی راحت نہ ملے۔ 90 ایکر اوقافی اراضی کے بیشتر حصوں پر عارضی پارکنگ شیڈ تعمیر کئے گئے اور نئی تعمیرات کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ مقامی افراد نے اس سلسلہ میں وقف بورڈ سے بارہا نمائندگی کی لیکن وقف بورڈ کے عہدیدار پولیس و ریونیو حکام کے عدم تعاون کے سبب بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔ وقف اراضی پر تعمیر کی گئی عالیشان بڑی مسجد کے قریبی علاقہ میں تعمیری سرگرمیوں کو مقامی افراد نے حالیہ دنوں میں ناکام بنادیا تھا۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق وقف بورڈ نے غیر مجاز قابضین سے ان کی دعویداری کے حق میں دستاویزات طلب کئے ۔ اوقافی اراضی کو اپنی ذاتی ملکیت قرار دیتے ہوئے 154 افراد اور ادارے وقف بورڈ سے رجوع ہوئے اور اپنے دستاویزات داخل کئے ۔ عدالت نے اعتراضات کا جائزہ لینے کے بعد گزٹ نوٹیفکیشن کی اجرائی کی ہدایت دی ہے ۔ بورڈ نے غیر مجاز قابضین کے اعتراضات کو مسترد کردیا کیونکہ بورڈ کے پاس اراضی کو وقف ثابت کرنے کیلئے مکمل دستاویزات موجود ہیں ۔ اسی دوران ہائی کورٹ میں کیویٹ فائل کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ دوسری طرف غیر مجاز تعمیرات کو روکنے کیلئے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے جوائنٹ کلکٹر رنگا ریڈی کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ جوائنٹ کلکٹر سے خواہش کی گئی کہ پولیس اور ریونیو حکام کے اشتراک سے غیر مجاز تعمیرات کو منہدم کیا جائے۔ عارضی پارکنگ شیڈ کی اراضی وقف بورڈ کے کنٹرول میں دی جائے۔ جوائنٹ کلکٹر نے اس سلسلہ میں کارروائی کا تیقن دیا۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر التواء ہونے کے سبب ریونیو حکام بھی مداخلت سے گریز کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT