Tuesday , January 16 2018
Home / اداریہ / عید اور خود احتسابی

عید اور خود احتسابی

عید کی مسرت ہے بے شبہ بجا لیکن مستحق بھی ہیں کیا ہم اس کا جائزہ لے لیں عید اور خود احتسابی

عید کی مسرت ہے بے شبہ بجا لیکن
مستحق بھی ہیں کیا ہم اس کا جائزہ لے لیں
عید اور خود احتسابی
عالم اسلام میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے اور روزہ نماز عبادات کے پر نور ماحول سے گذر کر عید الفطر کی خوشیوں کے درمیان فلسطین کے مغموم ،مظلوم، محبوس مسلمانوں کے حالات پر آج ہر دل بے تاب اور بارگاہ خدا وندی میں دست بہ دعا ہے کہ اللہ تعالی اس مبارک دن تمام مسلمانوں کی عبادتوں کا اجر دیتا ہے تو اس اجر کے عوض فلسطینیوں کواسرائیلی ظلم زیادتیوں سے محفوظ رکھے ‘مشرق وسطی کے ساتھ سارے عالم اسلام پر اپنی رحمتوں کا نزول فرما۔ مسلمانوں کو ہر گذرتے سال کے ساتھ عالمی سطح پر کئی مسائل کا سامناکرنا پڑرہا ہے ہر سال رمضان المبارک میں متمول مسلمانوں کے زکواۃ صدقات ،خیرات کے باوجود مظلومیت، غربت،بھوک و افلاس کا خاتمہ نہیں ہورہا ہے ۔ دنیا بھر میں جن مسلمانوں کو مصائب کا سامنا ہے ان کو ان کی پریشانیوں سے چھٹکارہ دلانے کے لئے کوئی جامع منصوبہ نہیںہے عام طور پر مسلمان ہر معاملہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں جو کام انسانوں کو کرنے ہوں وہ اللہ کے سپرد کردیں تو پھر اللہ تعالی ایسے انسانوں کے بارے میں اپنا الگ حساب کتاب رکھتا ہے اس لئے رمضان المبارک میں جہاں عالم اسلام نے اللہ تعالی کی مقدس کتاب قرآن مجید کی تلاوت و سماعت کے ذریعہ اپنی نمازوں کو پاکیزہ سطح تک لے جانے کی ہر ممکنہ کوشش کی وہیں روزہ و تقوی تزکیہ نفس پر ڈٹ کر قائم رہتے ہوئے اللہ تعالی کی بندگی کو پورا کرنے کی مقدور بھر مساعی کی ۔ مسلمانوں کی عبادتوں ،زکواۃ صداقت کو بارگاہ خدا وندی میںقبولیت کا درجہ حاصل ہوجائے اس کیلئے ہم تمام آج نماز عید کے دن سربسجود ہوکر اظہار تشکر کرتے ہیں اور اللہ تعالی سے رحم و کرم کی التجا کرتے ہیں ۔ مسلمانوں کیلئے آج کا دن سب سے مبارک دن ہے ۔ اس کے ساتھ ہمیں کئی درس بھی ملتے ہیں کہ بنی نوع انسان میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو مخصوص کیوں فرمایا ہے ۔ ان کے ذمہ فرائض کی ادائیگی کا پاکیزہ عمل تفویض کیوں کیا ہے ۔ ہم میں سے ایسے کئی مسلمان ہیں جو اب بھی راہ راست سے بھٹک کر اپنی دینی ذمہ داریوں سے راہ فرار ہوتے ہیں ۔ ان کو دین کی صف میں لانے کیلئے تبلیغ دین کا کام کر نے والے گروپس بھی اپنے کام میں دن رات مصروف ہیں اور ان انسانوں کو بھی دین کی دعوت دے رہے ہیں جو اسلام کے آفاقی مذہب کی حقانیت کو تسلیم کر کے کلمہ گو ہونا چاہتے ہیں ۔ الحمد اللہ آج دنیا بھر میں اسلام کے تیزی سے فروغ پانے کے ساتھ ساتھ اس کی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کی تعداد میںاضافہ ہورہا ہے ۔ صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کے ماننے والوں میں بھی اتحاد ہو ایک دوسرے کی تکالیف کا خاص خیال رکھیں ۔امت مسلمہ میں اتحاد ہی اسلام دشمن طاقتوں کو ناکام بنا سکتا ہے ۔فلسطینیوں ،مصر ، شام ،عراق ،افغانستان ،پاکستان ،لیبیاء ،جنوبی افریقہ نائجریا کے ساتھ ساتھ ہندوستان ،مائنمار ،سری لنکا الغرض ہر جگہ مسلمانوں کو ظلم وستم کا سامنا ہے اس کے خاتمہ کیلئے جو تقاضے پورے کرنے ہیں ان پر توجہ نہیں دی جارہی ہے اور یہ تقاضہ باہمی اتحاد کا ہے ۔ متمول مسلم ملکوں اور ان کے حکمرانوں کا ہے ۔ 57 مسلم ملکوں کی طاقت اگر اجتماعی شکل اختیار کرلے تو ساری دنیا کی دیگر قومیں اسلام اور مسلمانوں کو تنگ کرنے کی جراء ت نہیں کرسکتیں ۔ آج انسانی حقوق کی سب سے بد ترین خلاف ورزیاں عالم اسلام میں گھس کرمغربی طاقتیں انجام دے رہی ہیں ۔ سرزمین فلسطین پر قبضہ کرنے والی یہودی قوم نے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین پر انہیں محبوس کردیا ہے تو اس پر عالمی طاقتیں مجرمانہ خاموشی اختیار کرلی ہیں ۔ غور طلب امر یہ ہے کہ عالمی برادری میں آٹے میں نمک برابر یہودی اپنی جارحیت کے ذریعہ ساری دنیا کو للکار رہے ہیں ۔ ایک چھوٹے گروپ پر مشتمل ان کی آبادی جتنی طاقتور ثابت ہورہی ہے اتنی ہی وہ سفاک اور چالاک بھی ہونے کا مظاہرہ کررہی ہے جبکہ عالم اسلام کا یہ عالم ہے کہ جنتی بڑی تعداد اس کی ہے اتنی ہی بے بسی پائی جاتی ہے ۔ بے بس سے زیادہ بے حسی ہے ۔ متمول مسلم ملکوں کے متمول حکمرانوں کی عیاشی ،بدمستی سے زیادہ بزدلی نے اسرائیل کے حوصلوں کو بلند کیا ہے ۔ عالم اسلام کو سینہ کوبی ،ماتم کرنے یا لعنت بھیجنے سے کامیابی نہیں ملے گی ،اگر مسلمانوں کی لعنت سے کام چلتا تو اسرائیل اب تک صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہوتا مغربی طاقتوں کو گھٹنے کے بل دیکھا جاتا ۔ ایسا نہیں ہے مسلمانوں کو جن چیزوں اور جس طرح کی طاقت کی ضرورت ہے اس کے حصول کے پیچھے بھاگنے کے بجائے دنیا داری اور اس کے لغویات کی سمت دوڑ رہے ہیں ۔ مسلمانوں کی طاقت ان کا ایمان ہے ان کا آپسی اتحاد ہے ان کی باہمی فکر و استقلال ہے ۔ ان پر دھیان دیئے بغیر ہر ایک مسلمان اپنی دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ رہا ہے تو اس کیلئے مسائل و پریشانیاوں برقرار رہیں گے ۔ ہندوستان کے مسلمان کا بھی حال کسی سے پوشیدہ نہیں ے جتنا دیگر ملکوں کے مسلمانوں کا ہے ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی اپنے مستقبل کی فکر ہے۔ پاکستان میں مسلمان آپس میں خون بہا رہے ہیں تو دیگر ملکوں کے مسلمانوں کو اپنے ہم وطنوں کے حملوں کا سامنا ہے ۔ ایسے میں عید سعید کا دن ہمیں خود احتسابی کی تلقین کرتا ہے ۔ مسلمانوں کو تزکیہ نفس کے ساتھ خود احتسابی کرنی ہوگی جس کے بعد ہی محسوس ہوگا کہ عید ان کیلئے کتنی اہم اور مبارک ہے۔

TOPPOPULARRECENT