Tuesday , September 18 2018
Home / Top Stories / عیسائی اسکول میں توڑ پھوڑ ، وزیراعظم نے دہلی پولیس سربراہ کو طلب کرلیا

عیسائی اسکول میں توڑ پھوڑ ، وزیراعظم نے دہلی پولیس سربراہ کو طلب کرلیا

نئی دہلی 13 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ایک عیسائی اسکول میں نامعلوم افراد نے رات دیر گئے توڑ پھوڑ کی۔ یہ 3 ماہ کے اندر عیسائیوں زیرانتظام اداروں پر چھٹا حملہ ہے، جس کی وجہ سے وزیراعظم نریندر مودی دہلی پولیس کمشنر ڈی ایس بسی کو طلب کرکے ایسے واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دینے پر مجبور ہوگئے۔ پولیس اور ہولی چائیلڈ آگزیل

نئی دہلی 13 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ایک عیسائی اسکول میں نامعلوم افراد نے رات دیر گئے توڑ پھوڑ کی۔ یہ 3 ماہ کے اندر عیسائیوں زیرانتظام اداروں پر چھٹا حملہ ہے، جس کی وجہ سے وزیراعظم نریندر مودی دہلی پولیس کمشنر ڈی ایس بسی کو طلب کرکے ایسے واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دینے پر مجبور ہوگئے۔ پولیس اور ہولی چائیلڈ آگزیلیم اسکول وسنت وہار جنوبی دہلی کے انتظامی عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ ڈکیتی کا واقعہ تھا۔ مرکزی وزیر سمرتی ایرانی اِس اسکول کا دورہ کرچکی ہیں اور پرنسپل سے ملاقات کرچکی ہیں۔ دہلی کے آرچ بشپ انیل جے ٹی کوٹو نے آج جنوبی دہلی کے وسنت وہار کے علاقہ میں کیتھولک اسکول پر مبینہ حملہ کی مذمت کی اور کہا کہ یہ واقعہ پولیس اور مرکزی وزیرداخلہ کیلئے ایک دھبہ ہے کیونکہ نظم و ضبط کی صورتحال مسلسل انحطاط پذیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیتھولک گرجاگھروں اور تعلیمی اداروں پر دہلی میں یہ چھٹا حملہ ہے۔ تمام تیقنات اور وعدے جو مرکزی وزیرداخلہ اور دہلی پولیس کے کمشنر نے کئے تھے، ان کو کارروائیوں کی شکل دینا ضروری ہے کیونکہ تازہ ترین حملہ ابتر ہوتی ہوئی نظم و قانون کی صورتحال کا ایک اور ثبوت ہے۔ انہوں نے مرکز اور ریاستی حکومت دونوں پر زور دیا کہ وہ تمام عیسائی گرجاؤں اور تعلیمی اداروں کو دہلی میں مناسب حفاظتی انتظامات فراہم کریں اور خاطیوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کریں جو اقلیت کے مذہبی تعلیمی اداروں اور عبادتگاہوں کو حملوں کا نشانہ بنارہے ہیں۔

پارٹی خطوط سے بالاتر ہوکر تمام قائدین نے آج مبینہ توڑپھوڑ کے واقعہ کی جو ایک ممتاز عیسائی اسکول جنوبی دہلی میں پیش آیا ہے، متفقہ طور پر مذمت کی۔ عام آدمی پارٹی نے کہا کہ مرکز اور ریاست دونوں کو ایسے واقعات کے انسداد کیلئے سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ عام آدمی پارٹی قائد منیش سیسوڈیا ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔ سماج اسے برداشت نہیں کرسکتا۔ ہر ایک کو بشمول مرکزی و ریاستی حکومتیں اس بات پر توجہ دیں۔ عام آدمی پارٹی کی تقریب حلف برداری کل مقرر ہے۔ سیسوڈیا نے کہا کہ کل کے پروگرام کے انحطاط کے بعد ہم پولیس کے ساتھ اس معاملہ پر تبادلہ خیال کریں گے کہ ایسی کارروائیوں پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے۔ اگر سماج منتشر ہوجائے تو یہ پورے ملک کیلئے خطرہ ثابت ہوگا۔ کانگریس قائد اروندر سنگھ لولی نے بھی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ گہری تشویش کا باعث ہے کہ اقلیتوں پر مسلسل حملے کئے جارہے ہیں۔

اس سے پولیس اور حکومت کی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے میں ناکامی کا ثبوت ملتا ہے۔ ایک اور کانگریس قائد سوبھاجھا نے کہا کہ یہ انتہائی بدبختی کی بات ہے کہ اقلیتوں، گرجاگھروں یا اسکولوں پر اس نوعیت کا یہ چھٹواں حملہ ہے۔ توڑپھوڑ کی گئی ہے اور حکومت سو رہی ہے۔ بی جے پی کے ترجمان سمبت پترا نے تاہم کہا کہ اس واقعہ کو مذہبی پس منظر میں نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہاکہ ان کے خیال میں اس حملہ کا نشانہ ایک مخصوص فرقہ نہیں تھا۔ پرنسپل بھی منظرعام پر آئے ہیں اور ان کا ادعا ہیکہ اس حملہ کے پس منظر میں مذہبی رجحانات نہیں تھے بلکہ یہ ڈکیتی کی واردات ہے۔ پولیس کمشنر نے بھی ایسا ہی تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ہر مسئلہ کو مذہب سے جوڑنا مناسب نہیں ہے۔ بعض نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر اسکول میں توڑپھوڑ کی ہے جبکہ پولیس اور اسکول کے ذمہ داروں کا کہنا ہیکہ یہ ڈکیتی کا واقعہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT