Sunday , November 19 2017
Home / ادبی ڈائری / غارہائے اجنتا کی تصاویر کی مرمت اور تحفظ آصف سابع کے عہد کا لازوال کارنامہ

غارہائے اجنتا کی تصاویر کی مرمت اور تحفظ آصف سابع کے عہد کا لازوال کارنامہ

آرکائیوز کے ریکارڈ سے     ڈاکٹر سید داؤد اشرف
غارہائے اجنتا کی بازیافت اور انھیں دنیا کے سامنے قابل دید شئے کی حیثیت سے متعارف کرانا سابق ریاست حیدرآباد اور دورِ عثمانی کا ایک لازوال کارنامہ ہے ۔ یہ غار وقت کے حوادث اور صدیوں سے جمی ہوئی دھول کے نیچے دب گئے اور حسن شناس نظروں سے اوجھل ہوگئے تھے ۔ ان غاروں کو پھر سے عجائب روزگار میں شامل کرانا میر عثمان علی خان آصف سابع اور ان کی حکومت کی فراخ دلانہ سرپرستی اور قدردانی کے عملی مظاہرے کی وجہ سے ہی ممکن ہوسکا ۔

اجنتا کے غار جو اورنگ آباد سے تقریباً 58 میل دور ایک دل کش پہاڑی کے دامن میں واقع ہیں ، دراصل بدھ مذہب کے ماننے والوں کے تراشے ہوئے ہیں ۔ ان غاروں میں منقش تصاویر اور پتھر کی تراشی ہوئی مورتیوں کے وہ نادر نمونے ہیں ،جنھیں عجائب روزگار کہا جاتا ہے ۔ بدھ مذہب کے زوال کے بعد کئی صدیوں تک یہ غار سب کی نظروں سے اوجھل رہے ۔ انیسویں صدی کی ابتداء میں ان غاروں اور تصاویر کی دریافت کے بعد ہی حکومت ریاست حیدرآباد نے ان کے تحفظ میں دلچسپی لینی شروع کردی تھی ، لیکن اس سلسلے میں اصل کام میر عثمان علی خان آصف سابع کے عہد میں ہوا ۔ غاروں کی اندرونی  خرابیوں کو دور کرنے ، انھیں صاف کرنے ، ان عجائب روزگار تصاویر کی مرمت و تحفظ ، اجنتا کے غاروں تک شائقین کی آمد و رفت اور وہاں پر ان کے قیام کی سہولتیں بہم پہنچانے کے لئے ایک محکمے کی ضرورت تھی ۔ چنانچہ آصف سابع نے جنھیں اپنی ریاست کے آثار کے تحفظ سے بڑی دلچسپی تھی ، اپنی تخت نشینی کے دو سال بعد ستمبر 1913ء میں محکمہ آثار قدیمہ کے قیام کی منظوری عطا کی اور 1914ء میں اس محکمے کی تنظیم جناب غلام یزدانی کے سپرد کی گئی ۔ ریاست میں محکمہ آثار قدیمہ کا قیام اور غارہائے اجنتا کی تصاویر کی مرمت و تحفظ کی کارروائی کا آغاز ایک ساتھ ہوا ۔

اجنتا کی تصاویر کی مرمت اور تحفظ کے لئے بھاری معاوضے پر دو ماہرین اٹلی سے طلب کئے گئے تھے ۔ بعد ازاں ان تصاویر کو دواماً محفوظ رکھنے کے لئے سہ رنگی عکسی تصاویر کی تیاری ضروری سمجھی گئی ، جس کے لئے ایک ماہر کو بیرون ملک سے بلوایا گیا تھا ۔ ان تصاویر کے تیار ہونے پر برسوں کی محنت اور مشقت کے بعد ایک بے مثل کتاب ’’اجنتا‘‘ کی اشاعت عمل میں آئی تھی ۔ تین جلدوں پر مشتمل یہ انگریزی کتاب آکسفورڈ یونیورسٹی سے شائع ہوئی تھی ۔ غارہائے اجنتا کی مرمت اور تحفظ کے سلسلے میں سابق ریاست حیدرآباد کی جانب سے اہم تدابیر اختیار کی گئی تھیں ۔ تلنگانہ اسٹیٹ آرکائیوز میں محفوظ ریکارڈ سے استفادہ کرتے ہوئے ان کی تفصیلات اس مضمون میں دی جارہی ہیں ۔
غارہائے اجنتا کی مرمت اور ان تصویروں کی حفاظت کے سلسلے میں رزیڈنٹ نے جولائی 1912 ء میں ایک مراسلہ حکومت ریاست حیدرآباد کو لکھا تھا ، جس کے ساتھ ڈائرکٹر جنرل کے آثار قدیمہ حکومت ہند کے مراسلے کی نقل بھی منسلک تھی ۔ اس مراسلے کے ذریعہ رزیڈنٹ نے غارہائے مذکورہ اور ان کی تصویروں کے تحفظ کے لئے ڈائرکٹر جنرل آثار قدیمہ کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کی جانب خاص توجہ دلائی تھی ۔ اس مراسلے پر ضروری کارروائی کرنے کے بعد حکومت حیدرآباد کی جانب سے رزیڈنٹ کو اطلاع دی گئی ۔ اس کے کچھ عرصہ بعد رزیڈنٹ سے یہ استفسار کیا گیا کہ غارہائے اجنتا اور ان کی تصاویر کی حفاظت کے سلسلے میں حکومت ریاست حیدرآباد کو مشورہ دینے کے لئے یوروپ کے کسی ماہر فن کو طلب کرنے کی نسبت ڈائرکٹر جنرل آثار قدیمہ کی تجویز کے متعلق آیا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے  ۔اس استفسار پر ابتدائی کارروائی کا آغاز ہوا ہی تھا کہ رزیڈنسی سے ایک اور مراسلہ حکومت ریاست حیدرآباد کو وصول ہوا جس میں یہ تحریر کیا گیا تھا کہ ڈائرکٹر جنرل آثار قدیمہ نے یہ لکھا ہے کہ ممالک محروسہ سرکار عالی میں آثار قدیمہ ،کتبے ، تصاویر نیز دوسرے عجائبات کا ایک ذخیرہ موجود ہے ، لیکن ان کی مرمت کرنے اور ان کی فہرست مرتب کرنے کی کوشش نہیں کی گئی اور وہ خود یہ کام اپنا عملہ مختصر ہونے کی وجہ سے انجام نہیں دے سکتے ۔ لہذا ان کی یہ تحریک ہے کہ حکومت حیدرآباد اپنی ریاست میں آثار قدیمہ کا ایک صیغہ جس کے سالار خرچ کا اندازہ نو ہزار سات سو پچانوے روپے کیا گیا ہے ، قائم کرے ۔

غارہائے اجنتا کی تصاویر کی حفاظت کی نسبت مشورہ کرنے کے لئے یوروپ سے کسی ماہر فن کو طلب کرنے اور ریاست میں صیغہ آثار قدیمہ کے قیام کے بارے میں ڈائرکٹر جنرل آثار قدیمہ حکومت ہند کی تحریک پر ریاست حیدرآباد کے معین المہام (وزیر) فیناس گلانسی نے رائے دی کہ ریاست حیدرآباد میں آثار قدیمہ کا صیغہ قائم کرنے کے بارے میں آثار قدیمہ حکومت ہند کی تجویز نہایت مناسب ہے ۔ اجنتا کے غاروں کی تصاویر کی مرمت کے بارے میں مشورہ کرنے کے لئے ماہر فن کو طلب کرنے کی تجویز سے بھی معین المہام فینانس نے اتفاق کیا ۔ انھوں نے مزید لکھا کہ اس بارے میں جو اخراجات ہوں گے ۔ یہ رقمیں گورنمنٹ کی جانب سے ادا کی جائیں ، کیونکہ یہ چیزیں عام دلچسپی کی ہیں اور سارا عالم اس میں دلچسپی رکھتا ہے ۔
مدارالمہام (صدراعظم) سالار جنگ سوم نے ایک عرض داشت مورخہ 28 شوال 1331ھ م 30 ستمبر 1913ء آصف سابع کی خدمت میں پیش کی ، جس میں اس کارروائی کی تفصیلات اور معین المہام فینانس کی رائے درج کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ  معین المہام فینانس کی رائے سے انھیں پورا اتفاق ہے ۔ آصف سابع نے اس عرض داشت کی سفارشات کو منظور کیا اور حسب ذیل فرمان جاری ہوا ۔
’’تمہاری اور معین المہام فینانس کی رائے معروضہ کے مطابق ممالک محروسہ میں آثار قدیمہ کا صیغہ بالفصل تین سال کے لئے قائم کیا جائے جس کے سالانہ خرچ کا اندازہ نو ہزار سات سو پچانوے روپے بتایا گیا ہے اور غارہائے اجنتا کی تصاویر کی حفاظت کا خرچ منجانب سرکار ادا کیا جائے اور اس بارے میں مشورہ لینے کے واسطے کوئی ماہر فن طلب کیا جائے‘‘۔
اس فرمان کے صادر ہونے کے بعد حکومت ریاست حیدرآباد نے 5 اکتوبر 1913 ء کو بتوسط رزیڈنس سرجان مارشل ، ڈائرکٹر جنرل آثار قدیمہ حکومت ہند کو اس امر کی اجازت دی کہ اجنتا کی تصاویر کی درستی و حفاظت کی غرض سے وہ کسی ماہر کا انتخاب کریں ۔ چنانچہ جب سرجان مارشل رخصت پر ولایت گئے تھے تو انھوں نے یوروپ کے ماہرین کے مشوروں اور برطانوی سفیر متعینہ اٹلی کے تعاون سے ایک اطالوی ماہر پروفیسر سچونی کا انتخاب کیا جو تصاویر کی مرمت میں مہارت رکھتے تھے ۔ پروفیسر سچونی حسب ذیل شرائط پر اجتنا آنے کے لئے تیار تھے ۔
(۱) آٹھ ماہ کی تنخواہ بشمول دو ماہ برائے آمد و رفت تین ہزار دو سو پونڈ
(۲) کرایہ آمد و رفت اور آٹھ ماہ کے دوران کے اخراجات خوراک علاحدہ ادا کرنے ہوں گے

(۳)تنخواہ کی رقم آٹھ اقساط میں ادا کرنی ہوگی
(۴) ان کے ہمراہ ان کا ایک شاگرد بھی ان کی مدد کے لئے آئے گا جس کے لئے جہاز کا کرایہ اور کھانے کے اخراجات علاحدہ ادا کرنے ہوں گے ۔ جب حکومت ریاست حیدرآباد کو اس بارے میں اطلاع دی گئی تو صدراعظم نے مذکورہ بالا تفصیلات ایک عرض داشت مورخہ 14 ستمبر 1920 میں درج کرتے ہوئے لکھا کہ اجنتا کی تصاویر کی خوبیوں کے تحفظ کی ضرورت محتاج بیان نہیں ۔ یہ بیش بہا تصاویر ایشیا بلکہ دنیا کے فن نقاشی میں ایک بے مثل مرتبہ رکھتی ہیں ۔ صدراعظم نے لکھا کہ صدر المہام (وزیر) فینانس کو اجنتا کی تصاویر کی مرمت اور حفاظت کے سلسلے میں اطالوی ماہر فن کو حیدرآباد بلانے کی تجویز سے اتفاق ہے اور وہ خود بھی اس تجویز سے اتفاق رکھتے ہیں ۔
عرض داشت میں پیش کردہ سفارش کو آصف سابع نے منظور کیا اور اس بارے میں جو فرمان مورخہ 3 اکتوبر 1920 ء کو صادر ہوا تھا اس کا متن درج ذیل ہے ۔ ’’صدراعظم و صدالمہام فینانس کی رائے مناسب ہے ۔ حسبہ تصاویر مذکور کی درستگی و تحفظ سے متعلق تجاویز پیش کرنے کے لئے اٹلی کے ماہر فن پروفیسر سچونی بشروط محولہ عرض داشت 8 ماہ کے لئے طلب کئے جائیں‘‘ ۔
مذکورہ بالا فرمان کی تعمیل میں اطالوی ماہر پروفیسر سچونی اور ان کے شاگرد طلب کئے گئے جنھوں نے اجنتا کی تصاویر کی مرمت اور تحفظ کے لئے کام انجام دیا ۔ پروفیسر سچونی کو ابتدا میں دسمبر 1921 اور جنوری 1922 کا معاوضہ اور اجنتا آنے کے اخراجات ادا کئے گئے اور اس کے بعد فروری یا مئی 1922 کا معاوضہ سولہ سو پونڈ  بشرط چار سو پونڈ ماہانہ اور واپسی کے کرایہ جہاز کے دو سو پونڈ اس طرح جلد اٹھارہ سو پونڈ ادا کئے گئے ۔ چونکہ یہ ماہرین اٹلی سے آئے تھے اور کام کی انجام دہی کے بعد انھیں فوراً وطن لوٹنا تھا اس لئے بہ توقع منظوری انھیں یہ رقم ادا کردی گئی ۔ بعد ازاں فریدون الملک نائب صدر اعظم نے ایک عرض داشت آصف سابع کی خدمت میں پیش کی جس پر بذریعہ فرمان اٹھارہ سو پونڈ کی منظوری دحی گئی ۔
غارہائے اجنتا کی تصاویر کی مرمت اور تحفظ کے بعد ناظم آثار قدیمہ نے تجویز پیش کی کہ ان کی سہ رنگی عکسی تصاویر حکومت کی جانب سے تیار کرائی جائیں ،کیونکہ اجنتا کی تصاویر کی ہندوستان اور یوروپ کے جن ماہرین نے دیکھیں ان کی رائے تھی کہ یہ تصاویر کمال فن کے لحاظ سے عدیم المثال ہیں ۔ چونکہ یہ تصاویر بہت پرانی ہیں اس لئے تحفظ کے باوجود ان میں کہنگی اور خرابی پیدا ہوئی ہے اور ایک دن یہ ضائع ہوجائیں گی ۔ ان تصاویر کی یادگار قائم رکھنے کی صرف ایک تدبیر ہوسکتی ہے اور وہ ہے ان کی سہ رنگی تصاویر ۔ چنانچہ اس سلسلے میں جان مارشل سے مشورہ کیا گیا اور رنگین فوٹوگرافی کے کسی ماہر سے بااجرت یہ کام لینے کی تجویز ہوئی ۔ اس کام کے لئے اے ۔ ایل والسے ماہر رنگین فوٹوگرافی کو بیرون ہند سے طلب کیاگیا جنھوں نے چار ماہ کے قیام کی مدت میں اجنتا کی تمام تصاویر کے عکس تیار کئے جن کی تعداد تقریباً ایک سو تھی ۔ باب حکومت (کابینہ) کی سفارش پر آصف سابع نے بذریعہ فرمان مورخہ 3 اکتوبر 1926 ء اس کام کے اخراجات کی منظوری دی ۔

ان رنگین تصاویر کے تیار ہوجانے کے بعد ناظم آثار قدیمہ نے ان تصاویر کو ایک کتابی شکل میں شائع کرنے کی تجویز پیش کی ۔ انھوں نے اپنی تجویز میں لکھا ان تصاویر کی اشاعت سے حکومت ریاست حیدرآباد کی علمی سرپرستی کے اظہار کے علاوہ سراسر مالی فائدہ ہے ۔ اس لئے اس کام میں تاخیر کرنا مناسب نہیں ہے ۔ معتمد آثار قدیمہ نے اس تجویز کی سفارش کرتے ہوئے لکھا کہ ماہرین فن کی یہ رائے ہے کہ ان تصاویر کی اشاعت سے اس عہد کی علمی سرپرستی کی ایک زبردست یادگار قائم ہوجائے گی اور آنے والی نسلیں آصف سابع کی ممنون احسان رہیں گی  ۔ صدرالمہام فینانس نے اس تجویز کے بارے میں تحریر کیا کہ غلام یزدانی ناظم آثار قدیمہ کی اس توقع کے پورا ہونے میں انھیں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ان تصاویر کی خاطر خواہ فروخت سے رقم صرف شدہ کی وصولی کا باعث ہوگی ۔ انھوں نے سفارش کی کہ پہلی جلد کے لئے دو ہزار پونڈ اور ہر جلد کے لئے ایک ہزار پونڈ بطور پیشگی ادا کئے جائیں ۔ مہاراجہ سرکشن پرشاد صدراعظم نے عرض داشت مورخہ یکم اکتوبر 1927 میں ناظم آثار قدیمہ کی تجویز اور اس پر معتمد آثار قدیمہ اور صدر المہام فینانس کی آراء تفصیلی طور پر درج کرتے ہوئے لکھا کہ انھیں صدرالمہام فینانس کی رائے سے اتفاق ہے ۔ آصف سابع نے صدر المہام فینانس اور صدراعظم کی رائے سے اتفاق کیا ۔ اس سلسلے میں ان کا جو فرمان صادر ہوا تھا اس کا متن درج ذیل ہے ۔ ’’صدراعظم کی رائے مناسب ہے ۔ حسبہ ،پہلی جلد کے لئے پیشگی دو ہزار پونڈ اور بعد کی ہر جلد کے لئے ایک ہزار پونڈ اس شرط سے ایصال کئے جائیں گے یہ رقم ہر جلد کی اشاعت کے تین سال کے اندر وصول ہونی چاہئے‘‘ ۔
مذکورہ بالافرمان کی تعمیل میں فوراً محکمہ فینانس سے احکام جاری ہوئے ۔ کتاب ’’اجنتا‘‘ کی اشاعت کے سلسلے میں ملک اور بیرون ملک کے ماہرین فن اور ممتاز شخصیتوں کی جانب سے بے حد اشتیاق کا اظہار کیاجارہا تھا اور بعض حضرات نے کتاب کے لئے پیشگی آرڈر روانہ کئے تھے ۔ اس کتاب کی جلد اول 1931ء میں شائع ہوئی اور اس کے نسخے جارج ششم شاہ انگلستان ، انمیرے میکڈآنلڈ وزیراعظم برطانیہ اور لارڈ اردن وائسرے ہند کو بھیجے گئے ۔

پہلی جلد کے شائع ہونے کے تقریباً دو سال بعد دوسری جلد کی اشاعت کے بارے میں ناظم آثار قدیمہ کی درخواست اور تجاویز پر جو عرض داشت مورخہ 24 مئی 1934ء مہاراجہ سرکشن پرشاد نے آصف سابع کے ملاحظے اور احکام کے لئے پیش کی تھی اس پر آصف سابع نے بذریعہ فرمان مورخہ 3 ستمبر 1934ء دوسری جلد کی اشاعت کے لئے مزید انچالیس ہزار چھ سو انیس روپے کلدار کی منظوری دی ۔ دوسری جلد شائع ہونے کے بعد مزید دو جلدوں کی اشاعت کے لئے بذریعہ فرمان مورخہ 27 جون 1937 ء ایک ہزار پانچ سو پونڈ پیشگی فی جلد آثار قدیمہ کو ایصال کرنے کے احکام جاری ہوئے ۔ ابتداء میں تیسری جلد کے لئے جو رقم منظوری کی گئی تھی وہ اس کی اشاعت کے لئے ناکافی ہوئی  اور جب مزید رقمی منظوری کے لئے عرض داشت آصف سابع کی خدمت میں روانہ کی گئی تو بذریعہ فرمان مورخہ 22 اپریل 1943 ء تیسری جلد کی طباعت کے لئے مزید پندرہ سو پونڈ کی منظوری عطا کی گئی ۔اس طرح حکومت ریاست حیدرآباد کی جانب سے انگریزی کتاب ’’اجنتا‘‘ کی تین جلدیں شائع کی گئیں جس کی ہر جلد دو علاحدہ کتابوں پر مشتمل ہے ۔ ایک میں اجنتا کی تصاویر اور دوسری کتاب میں غلام یزدانی کے وضاحتی نوٹس شامل ہیں جو بلند پایہ علمی تحقیق کا درجہ رکھتے ہیں ۔ کتاب ’’اجنتا‘‘ کے شائع ہونے پر ملک اور بیرون ملک کے ممتاز علمی و فنی جرائد اور صف اول کے اخبارات نے اعلی درجے کے تبصرے شائع کئے تھے جن میں آصف سابع کی فراخ دلانہ سرپرستی ، سر اکبر حیدری کی دلچسپی اور دور اندیشی اور غلام یزدانی کے علمی کام کو بے حد سراہا گیا تھا ۔

کتنی حیرت کی بات ہے کہ آج بھی کچھ لوگ آصف سابع اور ان کی حکومت کو تعصب کی عینک سے دیکھتے ہیں اور آصف سابع کی شخصیت اور کردار کی حقیقی تصویر کو مسخ کرکے پیش کرتے ہیں ۔ غارہائے اجنتا کو دنیائے تہذیب و فن سے روشناس کرنے والا ایک کارنامہ ہی ان لوگوں کو جھٹلانے کے لئے کافی ہے ۔ اگر آصف سابع بنیاد پرست ہوتے اور مذہبی اعتبار سے ان میں سے کٹرپن ہوتا تو وہ رنگوں اور تصویروں کے ان نادر نمونوں کی طرف سے آنکھیں پھیر لیتے لیکن اس حکمران اور اس کی حکومت نے نہ صرف یہ کہ ان غاروں اور ان میں خوابیدہ مصوری اور حسن کاری سے تہہ در تہہ جمی ہوئی صدیوں کی دھول ہٹائی بلکہ اپنے وقت کے بہترین صناعوں اور ماہرین کی خدمات سے استفادہ کرکے نقاشی کے ان نادر نمونوں کو نئی زندگی عطا کی ۔ یہی نہیں بلکہ انھیں حسن و فن کے شیدائیوں کی زیارت گاہ میں تبدیل کیا ۔

TOPPOPULARRECENT