Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / غذا میں کمی سے قوت برداشت میں بھی کمی کا باعث بن سکتی ہے

غذا میں کمی سے قوت برداشت میں بھی کمی کا باعث بن سکتی ہے

موسم گرما میں پانی اور میووے کے مشروبات کے استعمال سے راحت ممکن

موسم گرما میں پانی اور میووے کے مشروبات کے استعمال سے راحت ممکن
حیدرآباد۔ 20 اپریل (سیاست نیوز) غذا میں کمی، قوت برداشت میں بھی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ موسم گرما میں عموماً غذا میں کمی ہوجاتی ہے لیکن اس کے اثرات نہ صرف جسم پر مرتب ہوتے ہیں بلکہ دماغ پر اس کے منفی اثرات ہونے لگتے ہیں۔ جسم میں سوڈیم کی کمی کے سبب ذہنی طور پر چڑچڑھاپن محسوس ہونے لگتا ہے جس کے نتیجہ میں انسان معمولی باتوں پر غصہ کا اظہار کرنے لگتا ہے۔ عام طور پر انسانی جسم میں 135 تا 145 ایم ای کیو ایل سوڈیم پایا جاتا ہے لیکن غذا میں کمی کے سبب سوڈیم کا یہ تناسب 126 ایم ای کیو ایل تک گر سکتا ہے۔ ڈائیٹ پلان، غذا میں تخفیف کے علاوہ وقت پر غذا نہ لینے کے سبب پیدا ہونے والی صورتحال میں ذہنی تناؤ بھی شامل ہے۔ 2002ء میں شائع شدہ ایک میڈیکل جنرل کی رپورٹ کے مطابق اس صورتحال سے کئی افراد متاثر ہونے لگے ہیں۔ غذا میں روزانہ پھل و ترکاریوں کے استعمال کے علاوہ ناریل پانی، نمک و دیگر ایسی اشیاء جو پسینہ کے ذریعہ خارج ہونے والے سیال مادے کے متبادل ثابت ہوسکتے ہیں۔ موسم گرما میں پانی کے اضافی استعمال کے ساتھ ساتھ قدرتی مشروبات کا استعمال ذہنی تناؤ سے نجات کا باعث بن سکتا ہے۔ غذا میں کمی اور جسم میں سوڈیم کی کمی کے باعث ذہنی تناؤ کے علاوہ بے چینی ، متلی، اختلاج دیگر نفسیاتی امراض کا بھی باعث بن سکتے ہیں اسی لئے سوڈیم کی مقدار کو گھٹنے سے بچانے والی اشیاء کا استعمال بے حد ضروری ہے۔سوڈیم کی کمی کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے سب سے بہتر طریقہ ناریل پانی ، اضافی نمک، ترکاریوں کا استعمال ہے۔مختلف ڈاکٹر س و ماہر اطباء کے بموجب اس صورتحال سے نمٹتے ہوئے نہ صرف زندگی میں سکون حاصل ہوسکتا ہے بلکہ ذہنی تناؤ کی جو صورتحال انسان میں پیدا ہوتی ہے ، اس سے بھی راحت حاصل کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح ذہنی تناؤ میں مبتلا افراد کی زندگی اجیرن ہونے لگتی ہے کیونکہ اس تناؤ کی صورتحال کے چلتے عام طور پر آزادانہ زندگی دشوار نظر آتی ہے۔ سوڈیم کی کمی نہ صرف ذہنی تناؤ کا باعث بن رہی ہے بلکہ اس کے کئی ایسے نتائج برآمد ہورہے ہیں جو انسانی نظام میں تبدیلی کے باعث صحت کیلئے مضرت رساں ثابت ہورہے ہیں۔ عموماً ذہنی تناؤ میں مبتلا مریضوں کو نمک وغیرہ سے پرہیز کا مشورہ دیا جاتا ہے لیکن سوڈیم کی جسم میں کمی ذہنی تناؤ کو دُور کرنے کے بجائے اضافہ کا سبب بننے لگتی ہے۔ فوری طور پر اس طرح کے امراض کا علاج کیا جانا بے انتہا ضروری ہے چونکہ اس طرح کے امراض مسلسل جاری رہنے کی صورت میں حالات کے ابتر ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT