Monday , July 16 2018
Home / اداریہ / !غریبوں کیلئے مودی کیر اسکیم

!غریبوں کیلئے مودی کیر اسکیم

مجبورِ درد ہوکے جو جینا پڑا ہمیں
ظاہر وہ زندگی کی حقیقت نہ ہوسکی
!غریبوں کیلئے مودی کیر اسکیم
مرکزی بجٹ میں فنڈس کی غیرمنصفانہ تقسیم، غریبی اور بیروزگاری کے خلاف عملی اقدامات کرنے کے دعوؤں کے درمیان اگر مودی حکومت نے ہندوستان کے 50 کروڑ غریب عوام کیلئے ہیلت کیر پروگرام شروع کیا ہے تو اپنی حکومت کے اس لڑکھڑاتے بجٹ کوہیلت کیر کے نام سے سہارا دینے کی کوشش کی ہے تاکہ غریبوں کے لئے کچھ نہ سہی کچھ نہ کچھ کرنے کا بہانہ تو موجود رہے اور آنے والے لوک سبھا انتخابات میں رائے دہندوں کے سامنے ثبوت پیش کیا جاسکے۔ وزیرفینانس ارون جیٹلی نے فلیگ شپ نیشنل ہیلت پروٹیکشن اسکیم کا اعلان کیا، جس کے تحت سالانہ فی خاندان 5 لاکھ روپئے کا صحت بیمہ دیا جائے گا۔ یہ اسکیم 10 کروڑ مستحق خاندانوں یعنی ایک اندازہ کے مطابق ملک کی 50 کروڑ آبادی کو فائدہ پہنچے گا۔ مرکز کے اس پروگرام کو دنیا کا سب سے بڑا ہیلت کیر پروگرام کا نام دیا جارہا ہے۔ غریب آدمی کے گھر کے قریب ہیلت کیر سنٹر لانے کا عزم ایک اچھی کوشش ہے لیکن یہ کوشش کو اسی وقت کامیاب متصور کیا جائے گا جب حکومت اپنے وعدوں کے مطابق رقومات کا بندوبست کرے۔ سابق بجٹ کے ایسے کئی وعدے ہنوز پورے نہیں کئے گئے۔ مرکز نے ملک بھر میں 1.5 لاکھ ہیلت سنٹرس قائم کرنے کا منصوبہ بنایا جہاں غریبوں کو مفت ضروری ادویات اور تشخیصی خدمات فراہم کئے جائیں گے۔ اس کے لئے بجٹ میں 1200 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ ابھی یہ ہیلت اسکیم صرف بجٹ کی فائلوں میں بند ہے اس کو 15 اگست یا 2 اکٹوبر سے شروع کیا جائے گا تو عملی طور پر کتنے غریب خاندان استفادہ کریں گے یہ وقت ہی بتائے گا یا پھر انتخابات کے قریب غریبوں کو صحت کے حوالے سے خواب دکھا کر رائے دہی کا عمل پورا ہونے تک حکومت اپنی خفیہ کوشش میں کامیاب ہوجائے گی۔ ہیلت کیر اسکیم کو مودی کیر کا نام دینے کا مقصد بھی یہی ہے کہ عام انتخابات میں لوگوں کے ذہن میں اپنی صحت کے تعلق سے مودی کیر ہی چھایا رہے اور اسی غلط فہمی کے ساتھ ووٹ ڈالنے کے لئے پولنگ بوتھ پر جائیں۔ ’’مودی کیر‘‘ کا امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما کے ہیلت پروگرام ’’اوباما کیر‘‘ سے تقابل بھی کیا جارہا ہے جو کسی بھی لحاظ سے برابر دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ’’اوباما کیر‘‘ میں قابل دست صحت کی دیکھ بھال والا پروگرام تمام امریکیوں کے لئے تھا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں کے دو ہیلت کیر مشن میں کس طرح یکسانیت ہوسکتی ہے لیکن اس پر رائے زنی کرنا قبل از وقت بھی ہوگا۔ تاہم ایوشمان بھارت بنانے والے موجدین کو ہی یہ وضاحت کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر انہوں نے مودی کیر اور ’’اوباما کیر‘‘ کے درمیان ایسی کونسی جامع یکسانیت بنائی ہے۔ مودی کیر کے تحت 10 کروڑ خاندانوں کو صحت بیمہ دیا جارہا ہے جس پر لاگت 4000 کروڑ آئے گی لیکن مرکز نے اس اسکیم کے لئے صرف 2000 کروڑ روپئے مختص کرنے کی توثیق کی ہے۔ ماباقی رقم کیلئے مرکز نے ریاستوں کو ترغب دینے پر غور کیا ہے تو پھر صحت کا معاملہ بھی ’’ہنوز دلی دور است‘‘ کے مترادف ہوگا۔ امریکہ میں سابق صدر بارک اوباما نے بھی پورے عزم کے ساتھ آئندہ 10 سال کیلئے 940 بلین امریکی ڈالر کی لاگت والا ’’اوباما کیر‘‘ پروگرام بنایا تھا لیکن اس پروگرام کے وضع کرنے کے دو سال بعد جب کانگریس کی جانب سے بجٹ لایا گیا تو اس پروگرام کی تخمینی لاگت 1.76 ٹریلین ڈالر دکھائی گئی تھی۔ مودی کیر میں خاص کر ہندوستان کے غریب عوام کا احاطہ کیا جانے والا ہے جبکہ اوباما کیر میں غریبوں کے ساتھ ساتھ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے امریکیوں کو بھی شامل کیا گیا تھا اس کے علاوہ اوباما کیر میں ہر شہری کے لئے لازمی تھا کہ وہ اپنے لئے صحت بیمہ اسکیم حاصل کرے اس کے لئے حکومت نے پریمیم پر سبسیڈی بھی فراہم کی تھی لیکن ’’مودی کیر‘‘ میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ اوباما کیر کو اب ڈونالڈ ٹرمپ کے نظم و نسق میں ختم کرنے پر غور کیا گیا۔ کیوں کہ اس پروگرام پر امریکہ کے جی ڈی پی کا 18 فیصد حصہ خرچ کیا جارہا ہے جبکہ مودی کیر میںہندوستانی عوام کے صحت بجٹ کے لئے جی ڈی پی کا صرف 1.15 فیصد ہی خرچ کیا جائے گا اور اس میں 2025ء تک 2.5 فیصد تک اضافہ ہوگا۔ مودی حکومت نے اپنی صحت اسکیم میں ریاستوں سے تعاون کی امید رکھی ہے جبکہ ملک کی بیشتر ریاستوں کا بجٹ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ کئی ریاستوں میں ان کے اپنے صحت پروگرام اور اسکیمات ہیں جو تعطل کا شکار بھی ہیں۔ ایسے میں یہ ریاستیں مودی کیر کے لئے اپنا تعاون کرسکیں گی یہ کہنا مشکل ہے کیونکہ مودی حکومت نے اب تک غریبوں کی حالت بدلنے کا دعویٰ کیا ہے مگر وہ خود غریبی کے مسائل سے ناآشانا دکھائی دیتی ہے۔
رام مندر کیلئے سرکاری عہدیدار کا عہد متنازعہ
اترپردیش میں ہر دن ایک نیا تنازعہ پیدا کیا جارہا ہے۔ کاس گنج فساد کے بعد ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا عہد لینے والے ڈی جی ہوم گارڈ نے اپنے عہدہ اور ذمہ داری سے ہٹ کر مظاہرہ کیا جبکہ رام مندر۔ بابری مسجد کا معاملہ عدالت میں زیردوراں ہے۔ اس تعلق سے کوئی بھی عہدیدار اپنی رائے ظاہر نہیں کرسکتا اور نہ مندر کی تعمیر کیلئے حلفیہ بیان دے سکتا ہے۔ جب یہ تنازعہ منظرعام پر آیا تو اس ڈائرکٹر جنرل ہوم گارڈ سوریا کمار نے وضاحت کرتے ہوئے خود کو تنازعہ سے نکالنے کی کوشش کی کہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا بلکہ ان کے بیان کا غلط مطلب اخذ کرکے اسے پھیلایا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ عہد ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے لیا تھا۔ رام مندر کی تعمیر کے لئے نہیں۔ اس طرح وہ دروغ گوئی کے سہارے محکمہ جاتی کارروائی سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ چیف منسٹر یوپی ادتیہ ناتھ یوگی کی قیادت میں اترپردیش کے سرکاری محکمے اور عہدیدار خفیہ طور پر اسی پالیسی کو روبہ عمل لانے کی کوشش کررہے ہیں جو اقتدار سنبھالنے کے بعد یوگی حکومت نے اپنے مرکزی آقاؤں کے اشاروں پر تیار کرلی ہے۔ رام مندر۔ بابری مسجد کا مقدمہ جب عدالت میں زیردوراں ہے تو اس مسئلہ کو آئے دن اچھال کر فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایک ناقص نظام کے ذریعہ اپنے مقاصد کو رائج کرنے میں زعفرانی ٹولے سرگرم ہیں۔ وہ مذہب کی بنیاد پر پوری ہٹ دھرمی کے ساتھ عدالت کے دائرہ کار میں رہنے والے معاملہ کو گھسیٹ رہے ہیں تو قانون کے محافظوں کو اور عدلیہ کو اس طرح کے تنازعات کا سخت نوٹ لینے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT