Sunday , September 23 2018
Home / اضلاع کی خبریں / غریبوں کی فلاح کیلئے عدالتی نظام میں تبدیلیاں ناگزیر

غریبوں کی فلاح کیلئے عدالتی نظام میں تبدیلیاں ناگزیر

نلگنڈہ میں لوک عدالت کا انعقاد، ضلع جج اے پدمنا بھاسوامی کا خطاب

نلگنڈہ میں لوک عدالت کا انعقاد، ضلع جج اے پدمنا بھاسوامی کا خطاب
نلگنڈہ /7 دسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) غریب عوام کو عدلیہ پر مزید اعتماد کے لئے لوک عدالتوں کا اہتمام کیا جانا چاہئے۔ بنیادی سہولتوں میں روزانہ تبدیلیاں آرہی ہیں۔ غریب عوام کی بہبود کے لئے عدالتی نظام میں تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ضلع جج اننت پدمنابھا سوامی نے نیا سیوا سدن میں منعقدہ قومی لوک عدالت کی تقریب میں شمع روشن کرنے کے بعد مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ غریب عوام پیسے اور اوقات ضائع کرنے کی بجائے مصالحتی طورپر آگے آتے ہوئے اپنے مقدمات کی یکسوئی کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لوک عدالت میں کریمنل، میاں بیوی، تمام قسم کے سیول مقدمات، موٹر سائیکل، بینک، چٹ فنڈ، چیک باؤنس وغیرہ کے مقدمات کی یکسوئی اور مفاہمت کا موقع مل سکتا ہے۔ لوک عدالت میں کئے گئے فیصلہ کے بعد مزید آگے کی عدالتوں میں داخل نہیں کیا جاسکتا، لوک عدالت کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ اکسائز مقدمات کی تحقیقات میں ملوث قیدیوں، سیول اور کریمنل مقدمات کی یکسوئی میں مکمل تعاون کرنے پر ضلع نظم و نسق، محکمہ پولیس، اکسائز اور محکمہ مال کے عہدہ داروں نے خوشنودی کا اظہار کیا۔ ضلع کلکٹر ٹی چرنجیولو نے کہا کہ ملک میں سابق میں رچہ بنڈہ میں مواضعات کے بڑے بزرگوں کی جانب سے فیصلہ کیا جاتا تھا۔ اینگلو نیشنل لاء کے بعد عدلیہ کا نظام عمل میں لایا گیا۔ عوام کو محکمہ عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہے۔ لوک عدالتوں کے پروگراموں کے اہتمام سے عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی آپسی مفاہمت سے فریقین میں صلاح اور مقدمات کی یکسوئی ہوگی۔ ضلع مہتمم پولیس ڈاکٹر ٹی پربھاکر راؤ نے کہا کہ محکمہ کی جانب سے پانچ ہزار مقدمات کی یکسوئی لوک عدالت میں کروائی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ججس اور وکلاء بھی فریقین میں مفاہمت کروانے کے لئے آگے آکر مقدمات کی یکسوئی کروائیں۔ انھوں نے لوک عدالت میں پیش کردہ تمام زیر التواء مقدمات کی صد فیصد یکسوئی پر زور دیا۔ بار اسوسی ایشن کے صدر آنند نے کہا کہ لوک عدالتوں کے ذریعہ کئی مقدمات کی یکسوئی ہوئی ہے۔ لوک عدالت میں کئے گئے فیصلوں پر کہیں بھی رجوع نہیں ہوسکتے، کیونکہ لوک عدالت کا فیصلہ قطعی ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں غریب عوام بغیر کسی خرچ کے اپنی مرضی سے مقدمات کی یکسوئی کرسکتے ہیں۔ اس پروگرام میں اکسائز جج ستیہ نارائنا، فیملی جج جی پرتاپ کمار، سبب جج گنیشور، ایس سی، اسی ٹی تحقیقات جج جی کنکا سندر راؤ، بار اسوسی ایشن سکریٹری ستیش کمار، لیگل سروس اتھارٹی سکریٹری، محکمہ جنگلات، اکسائز، بینک، ریونیو اور پولیس کے عہدہ دار بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT