Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / غریب ، سید ، پٹھان ، خطابی پٹھان اور مغل کیلئے او بی سی / بی سی ای سرٹیفیکٹس ضروری

غریب ، سید ، پٹھان ، خطابی پٹھان اور مغل کیلئے او بی سی / بی سی ای سرٹیفیکٹس ضروری

بہادر پورہ منڈل میں ’ شیخ ‘ کو بھی او بی سی سرٹیفیکٹس نہ دئیے جانے کی شکایت ، ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کے لیے تاریخی کارنامہ انجام دینے کا موقع

بہادر پورہ منڈل میں ’ شیخ ‘ کو بھی او بی سی سرٹیفیکٹس نہ دئیے جانے کی شکایت ، ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کے لیے تاریخی کارنامہ انجام دینے کا موقع
حیدرآباد ۔ 16 ۔ جون : ہندوستان میں مسلمان معاشی اور تعلیمی لحاظ سے سب سے زیادہ کمزور ہیں ۔ آزادی کے بعد درج فہرست طبقات و قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کو ترقی دینے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ سیاست میں کسی نہ کسی انداز میں اقدامات کرتے ہوئے انہیں مختلف مراعات فراہم کئے گئے اور پھر ان کے لیے کوٹہ مقرر کردیاگیا ۔ تاہم ملک کی جملہ آبادی 1.210 ارب میں سے 175 ملین ( 17.5 کروڑ ) آبادی ( 15 فیصد حصہ ) ہونے کے باوجود مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ۔ نتیجہ میں مسلمان زندگی کے ہر شعبہ میں پیچھے ہوگئے ۔ چونکہ مسلمانوں کی حالت زار میں تبدیلی لائے بناء ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لیے حکومت نے بڑی مکاری کے ساتھ مسلمانوں کو ذاتوں میں تقسیم کرتے ہوئے مسلمانوں میں سے چند ایسے طبقات کا انتخاب کیا جو بہت ہی پسماندہ ہیں ۔ واضح رہے کہ ملک کے دستور میں مسلمانوں کے چند طبقات کو دیگر پسماندہ طبقات او بی سی تسلیم کیا گیا ان میں مہتر ، دودے کولہ ، لداف ، پنجاری یا نور باش ، قریش ( مسلم قصاب ) شامل ہیں اور ان کے لیے باضابطہ 10-09-93 ، 2004 اور 2006 میں قرار دادیں منظور کی گئیں ۔ اسی بنیاد پر متحدہ آندھرا پردیش کے ساتھ ساتھ کرناٹک میں بھی مسلمانوں کے 14 طبقات کو OBC میں شامل کیاگیا ۔ ان میں اچو کٹا لاونڈو ، عطار ، صائبولو ، دھوبی ، فقیر ، گرادی ، گوسانگی ، گڈی ایلوگوولو ، حجام ، لبی ، فقیراں بورے والے ، قریشی ( قصاب ) ، شیخ سدی ، چکے تکیرے شامل ہیں ۔ معاشی طور پر پسماندہ یا دیگر پسماندہ طبقات کے زمرہ میں سید ، مشائخ ، مغل ، پٹھان ، ایرانی ، عرب بوہروں ، شیعہ امامی ، اسمعیلی کھوجہ ، کچی میمن ، جمائیت و نوایت کو شامل نہیں کیا گیا ۔ حالانکہ معاشی لحاظ سے دیکھا جائے تو 95 فیصد مسلمان غربت کی زندگی گذار رہے ہیں ۔ اس کے باوجود مرکزی حکومت نے ’ مہتر ‘ کو OBC میں شامل کیا جب کہ مسلمانوں میں مہتر نہیں ہوتے ۔ اس سے انداز ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر اس طرح کی فہرست تیار کی گئی جب کہ ’ سید ‘ کو پسماندہ طبقات کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ سید ، پٹھان و خطابی پٹھان ، مغل عربوں میں بہت پسماندگی پائی جاتی ہے ۔ جہاں تک ’ سید ‘ کا سوال ہے معاشی اعتبار سے پسماندہ ہونے کے باوجود دوسروں سے سوال نہیں کرتے ۔ اسی طرح پٹھان اور خطابی پٹھانوں و مغلوں میں پائی جانے والی غربت بھی بہت سنگین ہے ۔ ان حالات میں سیدوں ، پٹھانوں ، خطابی پٹھانوں ، مغلوں وغیرہ کو OBC اور BCE کے زمرہ میں شامل کیا جانا ضروری ہے ۔ اس سے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ یاقوت پورہ کے ساکن محمد امان اللہ خاں نے جو خطابی پٹھان ہیں بتایا کہ مقامی قاضی سے لے کر ایم آر او آفس کے انہوں نے چکر لگائے لیکن ان سے یہی کہا گیا ہے کہ جس کے نام کے ساتھ ’ خان ‘ ہو اسے OBC ، BCE سرٹیفیکٹ جاری نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ تین بچوں کے باپ ہیں ۔ بڑی لڑکی نے ایمسیٹ کوالیفائی کرلیا ہے ۔ کمزور معاشی حالت کے نتیجہ میں وہ اپنی بیٹی کو پیشہ ورانہ کورس میں داخلہ نہیں دلا سکتے ۔ اگر ان کی لڑکی کو BCE یا OBC سرٹیفیکٹس جاری کیا جاتا ہے تو ایسے میں وہ ریاست میں پسماندہ مسلمانوں کو دئیے جارہے 4 فیصد تحفظات کے ثمرات حاصل کرسکتے ہیں ۔ دوسری طرف شیخ عبدالمکرم ساکن بہادر پورہ کا کہنا ہے کہ بہادر پورہ منڈل میں شیخ ہونے کے باوجود مسلمانوں کو او بی سی یا بی سی ای سرٹیفیکٹ جاری نہیں کئے جارہے ہیں ۔ حالانکہ حکومت آندھرا پردیش کے محکمہ ریونیو نے اس ضمن میں OM.No.36033/3/2004 جاری کرتے ہوئے اس میں ’ شیخ ‘ کو او بی سی ، بی سی ای سرٹیفیکٹ جاری کرنے کی واضح ہدایت دی ہے یعنی تحفظات کے زمرہ میں شیخ کو شامل کیا ہے ۔ ملک پیٹ کی رہنے والی محترمہ سیدہ خدیجہ نے بتایا کہ وہ سید ہیں لیکن معاشی طور پر بہت پسماندہ ہیں ، ان کے بچوں کو او بی سی سرٹیفیکٹ نہیں دئیے جاتے ۔ نتیجہ میں پیشہ ورانہ کورس اور ملازمتوں میں ان کے امکانات ختم ہوجائیں گے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مرکزی و ریاستی حکومت کو چاہئے کہ وہ پسماندگی کی بنیاد پر تمام مسلمانوں کو او بی سی اور بی سی ای سرٹیفیکٹس جاری کرے ۔ نور خاں بازار کے مسعود بن احمد کے خیال میں ’عربوں ‘ کو پسماندہ مسلمانوں کی فہرست میں نہیں رکھا گیا جب کہ عربوں میں بھی معاشی طور پر پسماندہ خاندانوں کی کثرت ہے ۔ وہ بھی عرب بچوں کے لیے او بی سی اور BCE سرٹیفیکٹس جاری کرنے پر زور دے رہے تھے ۔ واضح رہے کہ آندھرا پردیش میں سب سے پہلے کے وجئے بھاسکر ریڈی کی زیر قیادت کانگریس حکومت نے اگست 1994 میں بیاک ورڈ کلاس کی فہرست میں مسلمانوں کے بعض طبقات کو شامل کرنے کے لیے G.O.Ms.No.30 جاری کیا تھا لیکن ایک منصوبہ بند سازش کے تحت 10 برسوں تک اس مسئلہ کو قانونی کشمکش کا شکار بنایا گیا ۔ 2004 میں جب کانگریس اقتدار میں آئی تب ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے اس ضمن میں ایک اور سرکاری حکمنامہ G.O.Ms.No.33 جاری کرتے ہوئے مسلمانوں کو پسماندہ طبقات میں شامل کر کے 5 فیصد تحفظات فراہم کئے ۔ اسے بھی قانونی کشمکش سے دوچار ہونا پڑا ، جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے ۔ ان حالات میں اگر ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی جو وزیر مال بھی ہیں کے سی آر کو یہ قائل کروانے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ سید ، خان ، عرب ، مغل کو ان کی معاشی پسماندگی کی بنیاد پر بیاک ورڈ کلاس ( او بی سی اور بی سی ای ) میں شامل کیا جاسکتا ہے تو یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ اور ماہرین تعلیم کے مطابق محمود علی کے لیے یہ بہت اچھا موقع ہے ۔ بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے ڈپٹی چیف منسٹر اس ضمن میں کیا اقدامات کرتے ہیں اور کے سی آر کیا فیصلہ لیتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT