Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / غریب اقلیتوں کو خودروزگار اسکیمات کیلئے %80 تک سبسڈی

غریب اقلیتوں کو خودروزگار اسکیمات کیلئے %80 تک سبسڈی

حیدرآبادکی ترقی کیلئے جامع منصوبہ بندی ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا اعلان
حیدرآباد۔/31ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ غریب اقلیتی خاندانوں کو خودروزگار اسکیمات سے مربوط کرتے ہوئے معاشی پسماندگی کا خاتمہ تلنگانہ حکومت کا مقصد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ سبسیڈی کی فراہمی سے متعلق موجودہ اسکیم میں ترمیم کرتے ہوئے 50فیصد سبسیڈی کی موجودہ شرح کو بڑھا کر 80فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے شہر اور اضلاع میں لاکھوں اقلیتی غریب خاندان فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ اس اسکیم کا مقصد غریب اقلیتی خاندانوں کو معاشی طور پر خودمکتفی بنانا ہے۔ محمد محمود علی نے بتایا کہ جاریہ سال سے ہی اس اسکیم پر عمل آوری کا آغاز ہوجائیگا لہذا اقلیتوں کو چاہیئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اسکیم سے استفادہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک لاکھ روپئے تک کے کاروبار کیلئے اقلیتی فینانس کارپوریشن 80 ہزار روپئے سبسیڈی فراہم کرے گا جبکہ 20 ہزار روپئے قومیائے ہوئے بینک سے بطور قرض منظور کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 10لاکھ روپئے تک کے یونٹ کے قیام کیلئے سبسیڈی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک انقلابی قدم ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اس اسکیم کے سلسلہ میں طویل عرصہ سے نمائندگی کررہے ہیں۔ انہوں نے متحدہ آندھرا پردیش کی کانگریس حکومت سے بھی ٹی آر ایس ایم ایل سی کی حیثیت سے اس مسئلہ پر نمائندگی کی تھی۔ ٹی آر ایس حکومت کے قیام کے بعد انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ سبسیڈی کی شرح میں اضافہ کرتے ہوئے نئی اسکیم تیار کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ غریب اقلیتوں کی معاشی پسماندگی دور کی جاسکے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس اسکیم کے آغاز کو منظوری دے دی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ کے سی آر اقلیت دوست ہیں اور وہ اقلیتوں کی معاشی اور تعلیمی ترقی میں سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2 لاکھ سے 10لاکھ روپئے تک کے کاروبار کے آغاز کیلئے 60فیصد یا پھر 5 لاکھ روپئے تک سبسیڈی اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے فراہم کی جائے گی۔ سبسیڈی کی یہ رقم بطور امداد ہوگی اور اسے واپس کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایک تا 2 لاکھ روپئے تک کے کسی یونٹ کے قیام اور کاروبار کیلئے 70 فیصد رقم بطور سبسیڈی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم سے حیدرآباد میں چھوٹے کاروبار کرنے والے غریب اقلیتی خاندانوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ اس اسکیم کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کریں تاکہ اقلیتی خاندانوں کو استفادہ میں مدد ملے۔ محمود علی نے کہا کہ آئندہ 4 برسوں میں حکومت ہر ترقیاتی اسکیم میں اقلیتوں کومناسب حصہ داری کا منصوبہ رکھتی ہے۔ مکانات کی فراہمی، قرض کی اجرائی اور دیگر فلاحی اسکیمات میں اقلیتوں کو آبادی کے تناسب سے حصہ داری دی جائے گی۔ محمود علی نے کہا کہ حیدرآباد کی ترقی کیلئے حکومت جامع منصوبہ تیار کررہی ہے جس کا بہت جلد اعلان کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT