Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / غریب اقلیتی خاندانوں کی سبسیڈی اسکیم کا جاریہ سال عدم آغاز

غریب اقلیتی خاندانوں کی سبسیڈی اسکیم کا جاریہ سال عدم آغاز

حیدرآباد ۔22 ۔ اپریل (سیاست نیوز) غریب اقلیتی خاندانوں کیلئے خود روزگار اسکیم کے تحت قرض اور سبسیڈی کی فراہمی سے متعلق اسکیم پر جاریہ سال عمل آوری کا ابھی تک آغاز نہیں ہوسکا کیونکہ اقلیتی فینانس کارپوریشن گزشتہ سال کی درخواستوں کی جانچ میں مصروف ہے۔ 2014-15 کی اسکیم پر جاریہ سال عمل آوری کی جائے گی لیکن اس میں بھی اقلیتی فینانس کارپور

حیدرآباد ۔22 ۔ اپریل (سیاست نیوز) غریب اقلیتی خاندانوں کیلئے خود روزگار اسکیم کے تحت قرض اور سبسیڈی کی فراہمی سے متعلق اسکیم پر جاریہ سال عمل آوری کا ابھی تک آغاز نہیں ہوسکا کیونکہ اقلیتی فینانس کارپوریشن گزشتہ سال کی درخواستوں کی جانچ میں مصروف ہے۔ 2014-15 کی اسکیم پر جاریہ سال عمل آوری کی جائے گی لیکن اس میں بھی اقلیتی فینانس کارپوریشن کے عہدیداروں کے رویہ کے باعث عوام کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ حکومت نے گزشتہ سال کی اسکیم پر جاریہ سال عمل آوری کی اجازت دیدی لیکن کارپوریشن کے حکام نے کوئی ایکشن پلان تیار نہیں کیا جس کے باعث ہزاروں درخواست گزار اسکیم کے فوائد سے محروم ہوجائیں گے۔ اسکیم کی منظوری کے ساتھ ہی کارپوریشن کو ایکشن پلان تیار کرنا چاہئے تھا تاکہ دستیاب بجٹ کے اعتبار سے درخواستیں طلب کی جاسکیں لیکن کارپوریشن نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس اسکیم کیلئے 8240 افراد کو سبسیڈی کی فراہمی کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے اور فی کس 50,000 روپئے سبسیڈی کے لحاظ سے کارپوریشن کو 82 کروڑ 40 لاکھ روپئے کی ضرورت پڑے گی لیکن کارپوریشن کے پاس صرف 20 کروڑ روپئے موجود ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی رقم کا انتظام کس طرح کیا جائے گا

جبکہ گزشتہ مالیاتی سال کا اکاونٹ بند ہوچکا ہے اور ساری باقی رقم سرکاری خزانہ میں واپس ہوچکی ہے۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر نے کارپوریشن کے عہدیداروں کے اس رویہ پر ناراضگی کا اظہار کیا اور انہیں ہدایت دی کہ وہ اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں ایکشن پلان تیار کریں۔ موجودہ 20 کروڑ روپئے کے ذریعہ مقررہ نشانہ کے نصف درخواست گزاروں کو بھی سبسیڈی فراہم نہیں کی جاسکتی۔ 2014-15 ء کی اسکیم کیلئے جملہ 31150 درخواستیں داخل کی گئیں جبکہ سبسیڈی کی فراہمی کا نشانہ 8240 ہے۔ اس طرح 23 ہزار درخواست گزار سبسیڈی سے محروم ہوجائیں گے۔ کارپوریشن نے درخواستوں کی وصولی کا مرحلہ گزشتہ ہفتہ مکمل کیا اور اب درخواستوں کی جانچ کا کام جاری ہے۔ سبسیڈی کی منظوری اور بینکوں سے قرض کی اجرائی تک مزید 4 تا 5 ماہ گزر جائیں گے۔ حکومت نے بی سی ویلفیر ڈپارٹمنٹ کو اس اسکیم کی تکمیل کیلئے تین ماہ کی مہلت دی ہے لیکن اقلیتی بہبود کو اس طرح کی کوئی مہلت نہیں دی گئی جبکہ اس سلسلہ میں درخواست حکومت کے پاس زیر ا لتواء ہے۔ گزشتہ سال کی اسکیم پر عمل آوری کی یہ صورتحال ہے تو پھر جاریہ سال کی اسکیم کا آغاز کب ہوگا؟ بتایا جاتا ہے کہ 2013-14 ء کی اسکیم کے سلسلہ میں ابھی بھی 20 فیصد منظورہ درخواستوں کو سبسیڈی کی اجرائی باقی ہے ۔ 5 کروڑ روپئے بطور سبسیڈی جاری کئے جانے باقی ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی اسکیم پر سست رفتار عمل آوری خود اعلیٰ عہدیداروں کیلئے کسی چیالنج سے کم نہیں۔

TOPPOPULARRECENT