Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / غریب اور مستحق افراد کے مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی پر صدرجمہوریہ کا زور

غریب اور مستحق افراد کے مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی پر صدرجمہوریہ کا زور

مقدمہ کے فریقوں کو ان کی مادری زبان میں عدالتوں کے فیصلوں کا ترجمہ فراہم کرنا ضروری : رامناتھ کووند
کوچی۔ 28 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ رامناتھ کووند نے آج اس ضرورت پر زور دیا کہ غریب اور مستحق افراد کے مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔ اس کے علاوہ ان مقدمات کے فیصلوں کا ترجمہ کرکے اس کی نقل کو متعلقہ افراد کے حوالے کیا جانا چاہئے تاکہ وہ مقدمہ کی نوعیت اور عدالت کے فیصلوں کو اپنی مادری زبان میں سمجھ سکیں ۔ ہائیکورٹ کے فیصلوں کو قابل فہم بنانے کیلئے مقدمہ سے وابستہ افراد کی زبان میں ترجمہ کرکے پیش کیا جائے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک میکانزم قائم کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ فیصلے کے ترجمہ شدہ کاپیاں جاری کی جاسکیں۔ صدرجمہوریہ نے کہا کہ سماج کے غریب ترین اور سب سے زیادہ مستحق افراد کے مقدمات کو جلد سے جلد پورا کیا جانا چاہئے کیونکہ انہیں انصاف کے حصول میں تاخیر کا شکار نہ ہونا پڑے۔ ہمارے ملک میں انصاف رسانی میں تاخیر تشویش کی بات ہے۔ اکثر واقعات کے حصول میں تاخیر کا وہ لوگ شکار ہونے میں جو غریب اور پسماندہ ہوتے ہیں۔ ہم کو ان کی مدد کرنے کیلئے ایک میکانزم وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے مقدمات کی فوری یکسوئی کو یقینی بنایا جاسکے۔ صدرجمہوریہ کے یہاں کیرالا ہائیکورٹ کی ڈائمنڈ جوبلی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم تمام اس بات پر غور کرسکتے ہیں کہ طویل عدالتی کارروائیوں کا حربہ اختیار کئے بغیر مہنگائی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کام کریں۔ ہم کو راہ تلاش کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ صدرجمہوریہ نے کہا کہ نہ صرف عوام کو انصاف دلانا ضروری ہے بلکہ انہیں ان کی زبان میں سمجھانے کیلئے آسان زبان میں ترجمے کی کامیابی بھی دینا ہوگا۔ ہائیکورٹس کی جانب سے جو فیصلے ہوتے ہیں، وہ انگلش میں ہوتے ہیں، لیکن ہم کو مقدمہ کے فریقین کیلئے قابل فہم اور ان کی زبان میں ترجمے پیش کرنے ہوں گے۔ اس جلوس میں چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا اور مرکزی وزیر روی شنکر پرشاد کے بشمول کئی ججس بھی شریک تھے۔ صدرجمہوریہ نے یہ بھی تجویز رکھی کہ عدالتوں کے فیصلوں کے ترجمے والی نقولات کو باقاعدہ تصدیق کا درجہ دے کر جاری کیا جانا چاہئے۔ ہائیکورٹس کو مقامی یا علاقائی زبانوں میں اپنے فیصلوں کی نقولات قابل دستیاب رکھنا ضروری ہے اور یہ کام فیصلے کے اعلان کے 24 یا 36 گھنٹوں کی اندر ہوسکتا ہے۔ کیرالا ہائیکورٹ کے فیصلے ملیالم زبان میں یا پٹنہ ہائیکورٹ کے فیصلے ہندی زبان میں ہونے چاہئے۔ اس سلسلے میں ہم صرف تجویز پیش کررہے ہیں، یہ طئے کرنا عدلیہ کا کام ہے اور قانونی ماہرین میں اس پر غور کرکے مناسب فیصلہ کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT