Tuesday , December 12 2017
Home / ہندوستان / غریب ترین 20% آبادی کیلئے سوشل سکیورٹی پلان کی تجویز

غریب ترین 20% آبادی کیلئے سوشل سکیورٹی پلان کی تجویز

1.2 لاکھ کروڑ روپئے کی اسکیم کو 2019ء میں لازمی پروگرام کے طور پر متعارف کرانے مودی حکومت کا منصوبہ
نئی دہلی۔18 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں غریب ترین افراد آبادی میں پانچواں حصہ ہیں اور ان کے لیے مرکزی حکومت نے 1.2 لاکھ کروڑ روپئے کا پرعزم منصوبہ تیار کیا ہے تاکہ انہیں عمومی حیثیت سے سماجی سلامتی سے متعلق سہولتیں بہم پہنچائی جائیں جو تمام شہریوں کے لیے زیرترتیب ایک بڑی اسکیم کا حصہ رہے گا۔ اس وسیع تر پروگرام میں تین زمروں کی تجویز ہے، غریب ترین 20 فیصد لوگوں کا ایک زمرہ رہے گا جنہیں حکومت کی طرف سے وظیفہ حاصل ہوگا، اپنے طور پر یا باقاعدہ شعبوں میں کام کرنے والے ورکرس بھی اس پروگرام سے وابستہ ہوں گے اور جنہیں اس اسکیم کے تئیں اپنی آمدنی کا کچھ تناسب بطور حصہ مختص کرنا پڑے گا۔ وزارت محنت نے اس تجویز پر کام کیا ہے اور عنقریب اسے وزارت فینانس کو بھیجا جائے گا جو فنڈس کی فراہمی اور متعلقہ امور کے اعتبار سے اس تجویز کا جائزہ لے گی۔ بتایا جارہا ہے کہ اسے آئندہ سال لازمی اسکیم کے طور پر متعارف کرنے کا ارادہ ہے اور یہ اسکیم اگلے عام انتخابات سے قبل کلیدی ویلفیر پروگرام کے طور پر سامنے لائی جائے گی۔ اس اسکیم کی دو سطحیں ہوں گی۔ پہلی میں لازمی پنشن، انشورنس (موت اور معذوری دونوں صورتوں میں) اور میٹرنٹی کوریج شامل ہوگا۔ دوسری میں اختیاری میڈیکل، علالت اور بیروزگاری سے متعلق کوریج شامل رہے گا۔ ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ یونیورسل سوشل سکیوریٹی اسکیم کے تحت جمع کیے جانے والے فنڈس کو ذیلی اسکیمات میں تقسیم کیا جائے گا۔ اختیاری عنصر کا انحصار لازمی اسکیم کے تحت جمع شدہ فنڈس پر ہوگا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ یہ اسکیم بڑی تعداد میں اسے وابستہ ہونے والے افراد کی وجہ سے کامیاب ہوگی اور کشش رکھے گی۔

یوں تو اس اسکیم کے لیے فنڈس کی فراہمی حکومت کے لیے چیلنج رہے گا جس نے خسارے کے نشانے کی حد تک محدود رہنے کا عہد کیا ہے لیکن اسے ایسی اسکیم کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے جو عوام میں مقبولیت پائے گی۔ نئی پالیسی سوشل سکیوریٹی کوڈ کا حصہ رہے گی جو وزارت محنت کے تجویز کردہ 4 کوڈس میں سے ہے۔ لیبر منسٹری ان کوڈس کو قطعیت دینے میں مصروف ہے اور ملک بھر میں سوشل سکیوریٹی کوریج کو لاگو کرنے کے قواعد کار ترتیب دیے جارہے ہیں۔ ہندوستان کی مجموعی افرادی قوت موجودہ طور پر 450 ملین ہے جس میں سے زائد از 10 فیصد منظم شعبہ میں کام کرتے ہیں اور انہیں کسی نہ کسی نوعیت کی سماجی سلامتی حاصل ہے۔ ہر سال 10 ملین سے زیادہ افراد کا ملک کی افرادی قوت میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اکثریت کو اقل ترین اجرت تک نہیں ملتی اور وہ سوشل سکیوریٹی کوریج سے محروم بھی رہتے ہیں کیوں کہ ان کی اکثریت غیر منظم شعبہ سے وابستہ رہتی ہے۔ مجوزہ اسکیم کو لاگو کرنے پر سالانہ لاگت 1.2 لاکھ کروڑ روپئے بتائی گئی ہے۔ انہیں ’SECC 4‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے اور اندازہ ہے کہ وہ آبادی کا 20 فیصد حصہ ہوتے ہیں۔ یہ سوشیو اکنامک اینڈ کاسٹ سنسس کا مخفف ہے۔ ’SECC 3‘ کیٹگری کے تحت آنے والے افراد جو آبادی کا مزید 20 فیصد حصہ ہوتے ہیں اور جو زیادہ تر خود روزگار سے جڑے ہوتے ہیں، وہ مجوزہ اسکیم کے فوائد سے استفادہ کیلئے کوئی مختص رقم ادا کیا کریں گے۔ جبکہ باقاعدہ اجرت/ تنخواہ پانے والا طبقہ موجودہ سسٹم کے تحت ادائیگی کرے گا۔ موجودہ نظام کے تحت منظم شعبہ میں بنیادی یافت کا تقریباً 25 فیصد حصہ جس میں ملازم اور آجر دونوں کے حصے شامل ہیں، متعلقہ ملازم کے پراویڈنٹ فنڈ اکائونٹ میں جمع ہوگا اور مزید 6 فیصد انشورنس کیلئے رکھا جائیگا جس کے ساتھ مجموعی حصہ زائد از 30 فیصد ہوجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT