Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / غریب خواتین کو بااختیار بنانے سی ٹی ای ٹی کی ٹیلرنگ اکیڈیمی

غریب خواتین کو بااختیار بنانے سی ٹی ای ٹی کی ٹیلرنگ اکیڈیمی

40 خواتین پر مشتمل پہلے بیاچ کو تربیت ، مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے ہمدردان ملت کا منفرد اقدام

40 خواتین پر مشتمل پہلے بیاچ کو تربیت ، مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے ہمدردان ملت کا منفرد اقدام
حیدرآباد ۔ 10 ۔ مارچ : ( ابوایمل ) : قوم و ملت کی پسماندگی کا رونا تو ہر کوئی روتا ہے مگر ان میں سے بہت کم اپنے ’ ہمدرد ملت ‘ ہوتے ہیں جو ملت اسلامیہ کو پسماندگی کے دلدل سے نکالنے کے لیے عملی طور پر جدوجہد کرتے ہیں ۔ ایسی ہی چیدہ چیدہ شخصیتوں میں سے ایک ڈاکٹر محمد عبدالروف صاحب بھی ہیں جنہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک ایسے ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کا قیام عمل میں لایا جس کے ذریعہ قوم و ملت کے مستحق بیٹے اور بیٹیوں کو مفت میں فنی تربیت فراہم کی جارہی ہیں ۔ دراصل ہم بات کررہے ہیں کمیونٹی انسٹی ٹیوٹ اف ٹکنالوجی (CIT) کی جسے ڈاکٹر محمد عبدالروف صاحب نے اپنے این آر آئی دوستوں کے ساتھ مل کر جولائی 2011 میں قائم کیا تھا ۔ یہ انسٹی ٹیوٹ نہرو زوالوجیکل پارک سے قریب بستی نبی کریم کالونی میر عالم ٹینک میں واقع ہے ۔ جہاں سے اب تک سینکڑوں مسلم نوجوانوں نے فنی تربیت حاصل کی اور اب وہ برسرکار ہیں ۔ اب تک اس انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ قوم کے طلبہ کو آٹو موبائیل ٹکنالوجی کی تربیت فراہم کی جاتی رہی ہے جو 9 مہینے پر مشتمل ڈپلومہ کورس پر مشتمل ہے ۔ جس کی تکمیل کے بعد ڈپلومہ ، ہولڈرس کو مستند و معروف آٹو موبائیل کمپنیوں میں ملازمت کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں یہاں پر چار ورکشاپ ، دو سرویس گیاریج ، کمپیوٹر لیاب ، ملٹی میڈیا کلاس رومس اور چند کاریں بھی موجود ہیں ۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں عموما حفاظ کرام اور اسکول ڈراپ آؤٹس کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ اپنے مقاصد میں مسلسل کامیابی کے بعد اب مذکورہ انسٹی ٹیوٹ نے ملت کی پسماندہ خواتین کو بھی علم و ہنر سے آراستہ کرنے اور انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پر ٹیلرنگ اکیڈیمی برائے خواتین کا آغاز کیا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق مذکورہ کمیونٹی ٹیکنیکل ایجوکیشن ٹرسٹ ایک فلاحی ادارہ کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہے ۔ اس ادارے کے ذریعہ لڑکیوں اور خواتین کو فنی مہارت کے ساتھ پیشہ وارانہ ٹیلرنگ کی تربیت فراہم کی جائے گی اور تربیت یافتہ لڑکیوں کو بہترین ملازمت کے مواقع فراہم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس میں داخلہ کے لیے غریب ، یتیم اور معاشی طور پر پسماندہ لڑکیوں کو ترجیح دی جائے گی ۔ سہولیات اور معیار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذکورہ ٹیلرنگ اکیڈیمی کے ذریعہ تجارتی معیار کی اعلیٰ مشینیں فراہم کی جائیں گی ۔ یہ نصاب حکومت ہند کے محکمہ ڈائرکٹر جنرل ایمپلائمنٹ اینڈ ٹریننگ کا منظور شدہ ہے جو کہ فنی تربیت برائے ملازمت یعنی MES پر مبنی ہے ۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ تمام کورسیس بالکلیہ طور پر مفت فراہم کی جائے گی ۔ اس ادارے کی چیف انسٹرکٹر تسکین فاطمہ اسماء جو فیشن ڈیزائننگ اور ٹیلرنگ میں 25 سالہ تجربہ رکھتی ہیں نے بتایا کہ فی الحال 40 خواتین کو تربیت فراہم کی جارہی ہیں جن میں ایسی خواتین بھی شامل ہیں جو دوسروں کے یہاں برتن دھونے ، جھاڑو دینے کا کام کرتی ہیں ۔ مگر انشاء اللہ کامیابی کے بعد یہ عورتیں اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ بڑی بڑی کمپنیوں کو جاب ورک فراہم کرنا ان کا مقصد ہے جس سے یہ خواتین بھی ملازمت سے منسلک ہوجائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ ان خواتین کو دینی تعلیم کی فراہمی کے لیے بھی ہفتہ میں ایک دن کلاسس کا اہتمام کیا جاتاہے جو سود مند ثابت ہورہا ہے ۔ اس موقع پر پرنسپل محمد قطب الدین سنجری نے بتایا کہ آٹو موبائیل انجینئرنگ کے نئے بیاچ کا آغاز اپریل سے شروع ہورہا ہے ۔ لہذا خواہش مند نوجوان پرنسپل کمیونٹی انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی سے فون نمبر 9966345142 پر ربط کرسکتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT