Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / غریب مسلمانوں کو فینانسرس کے چنگل سے آزاد کرانے حکومت کو تجاویز

غریب مسلمانوں کو فینانسرس کے چنگل سے آزاد کرانے حکومت کو تجاویز

متبادل اسکیمات پر زور ، صدر نشین اقلیتی کمیشن عابد رسول خاں کی حکومت سے نمائندگی

متبادل اسکیمات پر زور ، صدر نشین اقلیتی کمیشن عابد رسول خاں کی حکومت سے نمائندگی
حیدرآباد۔/12ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ریاستی اقلیتی کمیشن نے شہر اور اضلاع میں غریب مسلمانوں کو فینانسرس کے چنگل سے آزاد کرانے کیلئے حکومت کو تجاویز پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدرنشین اقلیتی کمیشن عابد رسول خاں نے حکومت اور پولیس کی جانب سے شہر میں غیر قانونی فینانسرس کے خلاف شروع کی گئی مہم کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ غریب خاندانوں کو فینانسرس کے مظالم سے نجات دلانے کیلئے حکومت متبادل اسکیمات کا آغاز کرے تاکہ انہیں چھوٹے کاروبار کرنے کیلئے بھاری سود کے ساتھ قرض حاصل کرنا نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن اور دیگر اداروں کے ذریعہ راست قرضوں کی اجرائی کی اسکیمات شروع کرتے ہوئے غریب تاجروں کی مدد کی جاسکتی ہے۔ عابد رسول خاں نے کہا کہ بینکوں سے قرض کے حصول میں ناکامی اور سرکاری اداروں کی جانب سے امداد کے سلسلہ میں شرائط کی تکمیل سے قاصر چھوٹے تاجر فینانسرس کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں بھی انہوں نے اس سلسلہ میں سروے کیا تھا اور حکومت کو تجاویز پیش کی تھیں۔ ایک اندازہ کے مطابق پرانے شہر میں سینکڑوں کی تعداد میں غیر قانونی فینانس کا کاروبار جاری ہے اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں خاندان اس کا شکار ہیں۔ بھاری سود کے ذریعہ معمولی رقم دی جاتی ہے اور اصل رقم کی ادائیگی تک سود کی رقم ناقابل ادائیگی بن جاتی ہے۔ فینانسرس جو غیرسماجی عناصر کی سرپرستی میں خدمات انجام دیتے ہیں اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ رقومات کی وصولی کیلئے مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ پرانے شہر میں فینانسرس کی جانب سے قاتلانہ حملوں اور اغوا کے کئی واقعات سابق میں منظر عام پر آچکے ہیں۔ عابد رسول خاں نے کہا کہ اس طرح کے مظالم اور غیر قانونی فینانسرس پر قابو پانے کیلئے پولیس کی مہم میں باقاعدگی کی ضرورت ہے۔ عہدیداروں کی تبدیلی کے ساتھ مہم کی رفتار سست نہیں ہونی چاہیئے۔ سابق میں دیکھا گیا کہ بعض عہدیداروں نے فینانسرس کے خلاف مہم شروع کی لیکن ان کے تبادلے کے بعد صورتحال جوں کی توں بحال ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو سختی کے ساتھ ایسے افراد کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیئے جو غریب خاندانوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ صدر نشین اقلیتی کمیشن کے مطابق اقلیتی کمیشن کل 13 ڈسمبر کو اپنے اجلاس میں اس مسئلہ کا جائزہ لے گا اور حکومت کو تجاویز پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت آسان اقساط پر اور بلاسودی قرض کی فراہمی کا اہتمام کرے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے چھوٹے تاجروں کو راست قرضوں کی اجرائی سے متعلق تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے عابد رسول خاں نے کہا کہ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے اس تجویز سے اتفاق کیا تھا لیکن اس پر عمل آوری نہیں کی جاسکی۔ عابد رسول خاں نے تجویز پیش کی کہ تلنگانہ حکومت اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ چھوٹے تاجروں کو راست طور پر قرض جاری کرے اور اس کی وصولی کیلئے آسان اقساط مقرر کئے جائیں۔ انہوں نے پرانے شہر کے علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر چھوٹے تاجروں کو قرض کی اجرائی کیلئے برانچس قائم کرنے کا مشورہ دیا جہاں شام میں تاجر قرض کی رقم واپس کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چھوٹے کاروبار کے آغاز کیلئے ایک مخصوص رقم بطور امداد بھی جاری کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر کے غریب خاندانوں کو فینانسرس سے نجات دلانے کا واحد راستہ انہیں بلا سودی قرض یا امداد کی فراہمی ہے۔ اگر سرکاری اداروں کی جانب سے اسکیمات کا آغاز کیا جائے تو عوام فینانسرس سے رجوع نہیں ہوں گے۔ انہوں نے غیر قانونی فینانس کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور ضرورت پڑنے پر قانون سازی کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے اجلاس میں مختلف تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد اسے حکومت تلنگانہ کو پیش کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT