Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / غریب مسلم لڑکیوں کی اجتماعی شادیوں کیلئے اسکیم

غریب مسلم لڑکیوں کی اجتماعی شادیوں کیلئے اسکیم

حیدرآباد ۔ 22 ۔ جنوری (سیاست نیوز) کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال نے غریب مسلم لڑکیوں کی اجتماعی شادیاں سے متعلق اسکیم پر عمل آوری کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ یہ اسکیم اقلیتی بہبود کمشنریٹ کے تحت ہے لیکن اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ عمل آوری کی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ اجتماعی شادیوں کی اسکیم سے استفادہ کیلئے مستحق افراد تمام ا

حیدرآباد ۔ 22 ۔ جنوری (سیاست نیوز) کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال نے غریب مسلم لڑکیوں کی اجتماعی شادیاں سے متعلق اسکیم پر عمل آوری کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ یہ اسکیم اقلیتی بہبود کمشنریٹ کے تحت ہے لیکن اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ عمل آوری کی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ اجتماعی شادیوں کی اسکیم سے استفادہ کیلئے مستحق افراد تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس اور اگزیکیٹیو ڈائرکٹرس کو درخواست دے سکتے ہیں۔ درخواست گزار سفید راشن کارڈ ہولڈر ہونا چاہئے یا پھر اسے منڈل ریونیو آفیسر کی جانب سے حاصل کردہ انکم سرٹیفکٹ پیش کرنا ہوگا۔ شہری علاقوں میں سالانہ آمدنی کی حد 75 ہزار اور دیہی علاقوں میں 60 ہزار مقرر کی گئی ہے ۔ قریبی مسجد کی کمیٹی یا امام کی جانب سے صداقت نامہ پیش کرنا ہوگا کہ امیدوار حقیقی معنوں میں مستحق اور قابل اعتبار ہے۔ ہر مستحق جوڑے کیلئے ضروری سامان فراہم کیا جائے گا اور فی کس 25,000 روپئے مختص کئے جائیں گے۔ کارپوریشن کی جانب سے نقد رقم کی فراہمی کے بجائے 25,000 روپئے مالیتی ، ضروری ساز و سامان مہیا کیا جائے گا۔

5 فروری تک درخواستیں داخل کی جاسکتی ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند برسوں سے اجتماعی شادیوں کی اسکیم پر عمل آوری نہیں کی گئی جس کے باعث ایک کروڑ 35 لاکھ روپئے کارپوریشن کے پاس موجود ہیں۔ جاریہ سال حکومت نے اس اسکیم کیلئے پانچ کروڑ روپئے منظور کئے اور اب تک 2.5 کروڑ روپئے جاری کردیئے گئے۔ اس قدر بھاری بجٹ کے ذریعہ ریاست بھر میں بڑی تعداد میں غریب مسلم لڑکیوں کی شادی انجام دی جاسکتی ہے۔ شیخ محمد اقبال نے کہا کہ غریب خاندانوں میں لڑکی کی شادی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ لہذا اس اسکیم سے استفادہ کرتے ہوئے غریب خاندان اپنی لڑکیوں کی بآسانی شادی انجام دے سکتے ہیں۔ انہوں نے رضاکارانہ تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس اسکیم کے بارے میں غریب خاندانوں میں شعور بیدار کریں اور استفادہ کے سلسلہ میں رہنمائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر رضاکارانہ اور مسلم ادارے اور تنظیمیں حکومت سے تعاون کریں گے تو غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کا اہم مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT