Friday , December 15 2017
Home / جرائم و حادثات / غریب مسلم مزدور خاتون اور کمسن بچہ زندہ جل کر ہلاک

غریب مسلم مزدور خاتون اور کمسن بچہ زندہ جل کر ہلاک

گذر بسر کیلئے محنت مزدوری کرنے والی شاکرہ بیگم 4 سالہ عباس کا مستقبل شعلوں کی نذر
حیدرآباد /3 نومبر ( سیاست نیوز ) سائبرآباد کے علاقہ میں ایک مسلم مزدور خاتون اور اس کے کمسن بچے کی ہلاکت کا دل دہلادینے والا واقعہ پیش آیا ۔ جہاں ایک خاتون اپنے کمسن بچے کے ساتھ فیاکٹری میں جھلس کر فوت ہوگئی ۔ معاشی حالت سے پریشان مہنگائی کے اس دور میں گھریلو اخراجات کو پورا کرنے کیلئے اس مسلم خاتون شاکرہ بیگم کو مزدوری کرنی پڑتی تھی ۔ ان کا گذر بسر محنت مزدوری سے ہی ہوا کرتا تھا ۔حالانکہ اس مسلم خاتون شاکرہ بیگم کے شوہر بھی مزدوری کرتے ہیں ۔ وہ ایک اسکول میں چوکیداری کرتے ہیں ۔ میاں بیوی اور دو بچوں کی پرورش اور گذر بسر کیلئے میاں بیوی کو محنت کرنی پڑتی تھی ۔ تلنگانہ میں ایسے کئی مسلم خاندان ہیں جو اپنی جانوں کو جھوکم میں ڈالکر زندگی کے گذر بسر کیلئے خطرناک سے خطرناک کام کرنے پر مجبور ہیں ۔ روزگار کے موثر مواقع نہ ہونے اور ترقی کے تمام راستے بند ہونے اور سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی لاپرواہی سے مسلمانوں کو ان حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ریاست میں مسلمانوں کی ہر شعبہ میں پسماندگی اور کمزوری کی کئی ایک کمیٹیوں نے رپورٹ پیش کی ہے اور کئی مرتبہ برسر اقتدار پارٹیوں نے بھی مسلمانوں کی ترقی اور بہبود کو ضروری قرار دیا ۔ مسلمانوں کی پسماندگی انتخابی دور میں یاد آتی ہے تو اقتدار کے بعد فراموش کردیا جاتا ہے تاہم مسلمانوں کے حالات دن بہ دن ابتر ہوتے جارہے ہیں ۔ دیہی علاقوں میں مسلمان زرعی مزدور و حمالی تو شہری علاقوں میں کارخانوں اور خطرناک بغیر تحفظ والی فیکٹریوں محنت مزدوری کے کام کرنے پر مجبور ہیں ۔ نہ ہی مسلمانوں کو روزگار کے مواقع اور نہ ہی معیشت کو سدھارنے کے کوئی مضبوط موثر اقدامات اور نہ ہی سطح غربت سے نیچے کی زندگی گذارنے پر مجبور ایسے مسلمانوں کے بچوں کیلئے تعلیم کا کوئی موثر نظام پایا جاتا ہے ۔ شیخ محمد کا خاندان پیشہ سے چوکیدار شیخ محمد اپنی بیوی 35 سالہ شاکرہ بیگم اور دو لڑکوں کے ہمراہ بنڈلہ گوڑہ جہانگیر آباد میں رہتا تھا ۔ معاشی حالت سے کمزور اس خاندان میں میاں بیوی دونوں کو محنت کرنی پڑتی ۔ شیخ محمد ایک خانگی اسکول میں چوکیداری کرتا تھا جہاں اس کا بڑا لڑکا زیر تعلیم ہے ۔ جبکہ شاکرہ بیگم اپنے چھوٹے لڑکے 4 سال عباس کو ساتھ لیکر مزدوری کے کام پر جایا کرتی تھی ۔ راجندر نگر کے صنعتی علاقہ میں واقع ایک فیاکٹری میں یہ خاتون مزدوری کرتی تھی اور کمسن بچے کو مجبوراً اپنے ساتھ لے جایا کرتی تھی ۔ گذشتہ ایک ماہ سے یہ خاتون اس کارخانے میں کام کر رہی تھی ۔ جہاں پرانے کپڑوں کو صاف کرتے ہوئے کپڑے تیار کرنے کیلئے خام مال تیار کیا جاتا ہے ۔ روزانہ کے معمول کی طرح شاکرہ اپنے کمسن عباس کے ہمراہ کارخانہ میں پہونچی اور لڑکے کو ایک کونے میں بٹھاکر کام میں مصروف ہوگئی ۔ کام پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ مجبور ماں کی ممتا اپنے لخت جگر کی طرف نظر موڑ دیتی آج شاید ان ماں بیٹے کا آخری دن تھا ۔ تقریباً ڈھائی بجے اچانک کارخانے میں آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے شعلہ بن گئی ۔ کارخانے میں موجود دیگر مزدور اپنی جان بچانے کیلئے کارخانے سے باہر نکل آئے تاہم شاکرہ بیگم اپنی جان سے زیادہ اپنے کمسن بیٹے کی جان بچانے لڑکے کو لیکر خوف کے عالم میں کارخانہ میں پناہ لینے کی کوشش کی جو آگ کی لپیٹ میں آکر جھلسکر خاکستر ہوگئی ۔ اس خصوص میں انسپکٹر مائیلاردیو پولیس مسٹر وینکٹ ریڈی نے بتایا کہ اس حادثہ میں شاکرہ بیگم اور اس کا بیٹا 4 سالہ عباس فوت ہوگیا ۔ پولیس نے کارخانہ کے مالک کے خلاف لاپرواہی کا مقدمہ درج کرلیا ہے اور مصروف تحقیقات ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 3 فائر انجنوں نے ایک گھنٹہ طویل مشقت کے بعد آگ پر قابو پایا ۔

TOPPOPULARRECENT