Thursday , September 20 2018
Home / دنیا / غزہ:انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ کا کمیشن

غزہ:انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ کا کمیشن

اقوام متحدہ ، 12 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ نے غزہ میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے ایک کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے دوران فریقین پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے پیر کو تین ماہرین پر مشتمل ایک کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے تا کہ غزہ آپریشن کے دورا

اقوام متحدہ ، 12 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ نے غزہ میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے ایک کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے دوران فریقین پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے پیر کو تین ماہرین پر مشتمل ایک کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے تا کہ غزہ آپریشن کے دوران پیش آنے والے اُن واقعات پرسے پردہ اٹھایا جائے، جن میں فریقین جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس عالمی ادارے کے مطابق کینیڈا سے تعلق رکھنے والے قانون کے شعبے کے پروفیسر ولیم سکیبس اس کمیشن کی سربراہی کریں گے جبکہ اس کے دیگر ارکان میں دُودُو دِینے اور امل المدین شامل ہیں۔ دُودُو دِینے طویل عرصے سے اقوام متحدہ میں بطور ماہر خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کا تعلق افریقی ملک سینیگال سے ہے جبکہ امل لبنانی نژاد برطانوی وکیل ہیں اور جلد ہی وہ ہالی ووڈ کے معروف اداکار جارج کُلونی کی شریک حیات بننے والی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ تین ارکان پر مشتمل یہ ٹیم خودمختار ہے۔ یہ رواں برس غزہ پٹی میں اسرائیلی کارروائی کے بعد پیش آنے والے اُن تمام واقعات کے اصل حقائق جاننے کی کوشش کرے گی

، جن میں مبینہ طور پر انسانی حقوق سے متعلق عالمی قوانین کو پامال کیا گیا ہے۔ یہ کمیشن اقوام متحدہ کے47 رکنی انسانی حقوق کے ادارے کو اگلے برس مارچ تک اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ گزشتہ ماہ اسرائیل کے شروع کردہ غزہ آپریشن میں تقریباً 1900 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 500 بچے بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے 75 فیصد کے لگ بھگ عام شہری تھے

جبکہ زخمی ہونے والی فلسطینیوں کی تعداد تقریباً 10,000 ہے۔ 1.8 ملین آبادی والی غزہ پٹی کے تقریباً ایک چوتھائی شہری کیمپوں یا اپنے رشتہ داروں کے پاس پناہ لئے ہوئے ہیں۔ اس دوران اسرائیل کے 64 فوجی اور تین شہری ہلاک ہوئے۔ انسانی حقوق کے ادارے کی سربراہ ناوی پلے نے کہا ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے اس سلسلے میں فریقین کا احتساب کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران اسرائیل نے اسکولوں، اسپتالوں اور غزہ کے واحد بجلی گھر کے علاوہ اقوام متحدہ مراکز کو بھی نشانہ بنایا اور یہ سب جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ اس سے قبل وہ 31 جولائی کو کہہ چکی ہیں کہ اسرائیل جان بوجھ کر ان قوانین کو تار تار کر رہا ہے۔ پلے کے بقول دوسری طرف حماس کی جانب سے اسرائیل میں تواتر کے ساتھ راکٹ فائر کرنا بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT