Sunday , November 18 2018
Home / Top Stories / غزہ۔ اسرائیل سرحد پر تازہ جھڑپیں ، تشدد ، ایک ہلاک

غزہ۔ اسرائیل سرحد پر تازہ جھڑپیں ، تشدد ، ایک ہلاک

میں اپنے دادا کی سرزمین واپس لے کے رہوں گا، غزہ کے لڑکے کا عہد

غزہ ۔ 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) غزہ ۔ اسرائیل سرحد پر آج پھر جھڑپیں ہوئیں جہاں ایک ہفتہ قبل ایسے ہی مظاہروں کے دوران پھوٹ پڑنے والے تشدد میں اسرائیلی فورسیس نے 19فلسطینیوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ 2014ء کے لڑائی کے بعد یہ پہلی خونریز جھڑپیں تھیں۔ فلسطینیوں نے سرحدی فصیل کے قریب اسرائیلی سپاہیوں پر جلتے ہوئے ٹائر پھینکے اور سنگباری کی۔ اس مقام پر موجود اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے کہا کہ غزہ شہر کے مشرق میں ایسا ظاہر ہوتا ہیکہ ایک شخص کو گولی مار دی گئی لیکن اس کی حالت کے بارے میں فوری طور پر علم نہیں ہوسکا۔ واضح رہیکہ سینکڑوں فلسطینی غزہ سرحد کے قریب ایک چھ ہفتہ طویل احتجاج کیلئے مختلف مقامات پر جمع ہوئے ہیں۔ وہ ان تمام فلسطینیوں کو ان اراضیات پر واپسی کی اجازت دینے کا مطالبہ کررہے ہیں جہاں سے انہیں 1948 میں تاسیس اسرائیل کے موقع پر نکال دیا گیا تھا یا پھر وہ خود وہاں سے فرار ہوگئے تھے۔ فلسطینیوں کے اس احتجاج میں گذشتہ جمعہ کو اسرائیلی سیکوریٹی فورسیس سے جھڑپوں کے نتیجہ میں 19 فلسطینی ہلاک اور دیگر 1500 زخمی ہوگئے تھے لیکن کوئی بھی اسرائیلی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا تھا۔ اسی دوران غزہ کے ایک لڑکے محمد نے اسرائیلی سپاہیوں کی جانب سے داغے جانے والے آنسو گیس سے بچنے کیلئے اپنے چہرے پر ماسک پہنے یہ عہد کیا کہ وہ اسرائیلیوں سے اپنے دادا پردادا کی زمین واپس لے کر رہے گا۔ الجزیرہ کو دیئے گئے ایک منفرد انٹرویو میں محمد نے کہا کہ دراصل اس نے چہرہ پر پیاز کا ماسک پہننے کا آئیڈیا اپنے والد سے لیا ہے جو ڈسمبر 1987ء کے پہلے انتفاضہ کے دوران 1989ء میں زخمی ہوئے تھے۔ اس انتفاضہ میں تقریباً 2 ہزار فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ محمد نے بتایا کہ میرے والد پہلے انتفاضہ تحریک میں حصہ لینے کے دوران زخمی ہوئے تھے۔ وہ ہمیں پیاز کے ماسک کے تعلق سے کہانیاں سناتے تھے۔ میں اس ماسک کو دوبارہ بنانے کی کوشش کیا ہوں۔ محمد کے والد نے الجزیرہ کو بتایا کہ وہ یہ ماسک اسرائیلی فوج کی جانب سے استعمال کئے جانے والے آنسو گیس سے بچنے کیلئے استعمال کرتے تھے۔ الجزیرہ پر اس لڑکے کی تصویر اور رپورٹ نشر ہوتے ہی غزہ کے اس لڑکے نے کہا کہ میں اسرائیل سے ڈرنے والا نہیں ہوں۔ وہ ہمیں ڈرا رہے ہیں۔ وہ ہمیں اس لئے ڈرا رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس یہاں کوئی زمین نہیں ہے۔ یہ لوگ دوسری جگہ سے آئے ہوئے ہیں اور ہماری زمین لینا چاہتے ہیں۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ اس ہلاکت خیز احتجاج میں حصہ کیوں لے رہا ہے تو محمد نے کہا کہ میرا مقصد میری زمین کو واپس لینا ہے۔ میرے دادا آبا و اجداد کی زمین ہے۔ یہ میرے خاندان کی یادگاریں ہیں۔ محمد کا خاندان جفا کے اس تاریخی ٹاؤن میں مقیم تھا لیکن یہودی انتہاء پسندوں کی جانب سے 1948ء میں فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کے بعد یہ خاندان منتشر ہوگیا تھا اور وہ اب غزہ میں مقیم ہیں۔

TOPPOPULARRECENT