Wednesday , December 19 2018

غزہ میں اسرائیلی بربریت جاری، فلسطینی ہلاکتیں 832

غزہ/یروشلم ۔25جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) غزہ پٹی میں آج اسرائیلی فضائی حملوں نے ایک سرکردہ عسکری کمانڈر، اس کے دو بیٹوں اور ایک حاملہ خاتون کے بشمول دیگر کو ہلاک کرڈالا، جس کے ساتھ فلسطینی مہلوکین کی تعداد 832 تک پہنچ گئی، جبکہ 18 روزہ لڑائی مغربی کنارہ تک پھیل چکی ہے جہاں کئی برسوں کے سب سے بڑے مخالف اسرائیل احتجاجوں نے تشدد کی شکل اختیار

غزہ/یروشلم ۔25جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) غزہ پٹی میں آج اسرائیلی فضائی حملوں نے ایک سرکردہ عسکری کمانڈر، اس کے دو بیٹوں اور ایک حاملہ خاتون کے بشمول دیگر کو ہلاک کرڈالا، جس کے ساتھ فلسطینی مہلوکین کی تعداد 832 تک پہنچ گئی، جبکہ 18 روزہ لڑائی مغربی کنارہ تک پھیل چکی ہے جہاں کئی برسوں کے سب سے بڑے مخالف اسرائیل احتجاجوں نے تشدد کی شکل اختیار کرلی ہے۔ غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان اشرف ال قدریٰ نے ان اعداد و شمار کی تصدیق کرتے ہوئے مزید کہا کہ 8 جولائی سے جاری اسرائیلی حملوں میں 5,240 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اسلامک جہاد کے سینئر لیڈر صلاح حسنین اور ان کے دو بیٹے (12 اور 15 سالہ)جنوبی شہر رفاہ میں کئے گئے حملے میں ہلاک ہوگئے ، غزہ ایمرجنسی سرویسیس کے عہدیداروں نے یہ بات کہی۔ حسنین رفاہ میں اسلامک جہاد کے ترجمان شعبے کے سربراہ تھے۔ ایک اور اسرائیلی حملے میں وسطی غزہ کے قصبہ دائرالبلاح میں 23 سالہ حاملہ خاتون ہلاک ہوگئی جبکہ اس کے مکان پر حملہ کیا گیا ‘ تاہم سرجنوں نے نامولود بچے کی جان بچالی ۔ حماس کے فوجی شعبہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے اسرائیل کے بنگورین انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بناکر تین راکٹ داغے ہیں ۔

دریں اثناء اسرائیلی افواج نے آج جمعۃ الوداع کے موقع پر مسجد اقصیٰ کے قریب یروشلم میں امکانی جھڑپوںکے پیش نظر سخت چوکسی اختیار کرلی۔ اسرائیل کا یہ اقدام اُس وقت منظر عام پر آیا جب کہ دو فلسطینی احتجاجی ہلاک اور دیگر کئی اسرائیلی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں یروشلم کے شمالی علاقہ میں کل زخمی ہوگئے تھے ۔ احتجاجیوں نے رملہ، نابلس، بیت اللحم اور یروشلم کے مضافات میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے ۔ اسرائیلی جارحانہ کارروائی میں کل رات جملہ 42فلسطینی ہلاک ہوگئے جبکہ جنگ بندی کی بین الاقوامی کوششوں میں شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ ایک حملہ تو اقوام متحدہ زیرانتظام اسکول پر بھی کیا گیا جہاں 15 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوگئے۔ اقوام متحدہ کے معتمد عمومی بانکی مون نے حملہ کی مذمت کی ہے جو اقوام متحدہ کے اس انتباہ کے باوجود کیا گیا کہ اسرائیل کی غزہ پٹی میں کارروائیاں جنگی جرائم کے مترادف ہے ۔ اقوام متحدہ کے بموجب ایک لاکھ 18ہزار سے زائدافراد اقوام متحدہ کے اسکولس اور پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں ۔ ان افراد کے پاس غذا کی قلت پیدا ہوگئی ہے ۔

فلسطینیوں کی ہلاکت کی تعداد 832ہوچکی ہے جبکہ 5000سے زیادہ زخمی ہیں ۔ دوسری طرف اسرائیل کے 32فوجی اور دو شہری ہلاک ہوئے ہیں ۔ اسرائیل میں مقیم تھائی لینڈ کا ایک کارکن تصادم کے دوران ہلاک ہوگیا ۔ دوسرا فوجی لاپتہ ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ وہ بھی ہلاک ہوچکا ہے ۔ وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہیں ہر فلسطینی شہری کی موت پر افسوس ہے لیکن اس کی ذمہ دار حماس ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پوری طاقت کے ساتھ فوجی کارروائی جاری ہے اور حماس جنگ بندی کیلئے شرائط پیش کررہی ہے جس کی بناء پر جنگ بندی کا آغاز نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ، ’’ہم فوجی کارروائی پوری طاقت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں فضائی اور زمینی دونوں کارروائیاں شامل ہیں ‘‘۔ اس دوران حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ یہاں سے ولاڈی واسٹوک تک کا تمام علاقہ اس کے حوالہ کردیا جائے ۔ یہ خبر یروشلم پوسٹ میں شائع ہوئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT