Thursday , October 18 2018
Home / Top Stories / غزہ میں جنگ بندی میں 5 دن کی توسیع

غزہ میں جنگ بندی میں 5 دن کی توسیع

غزہ ؍ یروشلم ۔ 14 اگست (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل اور حماس نے آج غزہ میں 5 دن جنگ بندی کی تردید سے اتفاق کیا جبکہ کل رات دونوں طرف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ فلسطینی راکٹ فائر کئے جانے کے جواب میں اسرائیل نے بھی فضائی حملے کئے۔ تاہم دونوں فریقین نے اس لڑائی کو ختم کرنے کیلئے بات چیت کا مزید موقع فراہم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ اس لڑائی میں 2

غزہ ؍ یروشلم ۔ 14 اگست (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل اور حماس نے آج غزہ میں 5 دن جنگ بندی کی تردید سے اتفاق کیا جبکہ کل رات دونوں طرف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ فلسطینی راکٹ فائر کئے جانے کے جواب میں اسرائیل نے بھی فضائی حملے کئے۔ تاہم دونوں فریقین نے اس لڑائی کو ختم کرنے کیلئے بات چیت کا مزید موقع فراہم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ اس لڑائی میں 2 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ کل 72 گھنٹے کی جنگ بندی جیسے ہی ختم ہوئی، غزہ سے راکٹ فائر کئے گئے۔

اس کے علاوہ جنگ بندی کی توسیع سے قبل تک فائرنگ کا یہ سلسلہ جاری رہا جس کی وجہ سے یہ شبہات ابھر رہے تھے کہ جنگ بندی کی تجدید قابل عمل ہوگی یا نہیں۔ اسرائیل نے بھی فضائی حملے جاری رکھے اور لڑائی ختم ہونے کے بارے میں اندیشے بڑھ گئے تھے۔ تاہم فائرنگ کا یہ تبادلہ محدود تھا اور زیادہ دیر تک جاری نہیں رہا اس کے بعد غزہ کے آسمانوں پر خاموشی چھا گئی۔ عوام بھی جو سڑکوں پر نکل آئے تھے واپس جانے لگے اور سڑکوں پر ٹریفک کم دیکھی گئی۔ جنگ بندی میں یہ توسیع پیر کی نصف شب تک قابل عمل ہوگی۔ اسرائیل اور فلسطین کے عہدیداروں نے کہا کہ تین دن کی جنگ بندی کل شب ختم ہونے کے بعد انہوں نے توسیع سے اتفاق کیا ہے۔

حکومت اسرائیل کے ترجمان مارک رگیو نے حماس پر راکٹ فائر کرتے ہوئے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا لیکن حماس کے ترجمان سمیع ابوظہری نے اسرائیل پر راکٹ فائر کرنے کی تردید کی۔ اس کی وجہ سے یہ واضح نہیں ہو پایا کہ کل رات یہ فائرنگ کس نے کی تھی۔ اسرائیل اور فلسطین کے وفود اس وقت قاہرہ میں مذاکرات میں مصروف ہیں اور مصر کی ثالثی جاری ہے جس کا مقصد جنگ کو مستقل طور پر روکنا ہے۔ فلسطینی مذاکراتی ٹیم میں شامل اعظم الاحمد نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کسی جامع معاہدہ پر پہنچنے کے سلسلہ میں ہنوز سازگار ماحول تیار نہیں ہوسکا ہے۔ دونوں فریقین نے جو مطالبات رکھے ہیں ان پر مصالحت آسان نہیں۔

TOPPOPULARRECENT