غزہ میں 12 گھنٹے جنگ بندی ، مہلوکین کی تعداد 1000 سے متجاوز

غزہ / یروشلم ۔ 26 ۔ جولائی : ( سیاست ڈاٹ کام ) : غزہ کے مکین آج اقوام متحدہ کی اپیل پر اسرائیل اور حماس کی جانب سے 12 گھنٹوں کی جنگ بندی پر رضا مندی کے بعد اپنے گھر پہنچے جو شدید ترین بمباری کے بعد ملبے میں تبدیل ہوگئے ہیں ۔ یہاں سے مزید نعشیں برآمد کی گئیں جس کے ساتھ ہی جاں بحق ہونے والے عام شہریوں کی تعداد 1000 سے متجاوز ہوگئی ہے ۔ اسرائیل او

غزہ / یروشلم ۔ 26 ۔ جولائی : ( سیاست ڈاٹ کام ) : غزہ کے مکین آج اقوام متحدہ کی اپیل پر اسرائیل اور حماس کی جانب سے 12 گھنٹوں کی جنگ بندی پر رضا مندی کے بعد اپنے گھر پہنچے جو شدید ترین بمباری کے بعد ملبے میں تبدیل ہوگئے ہیں ۔ یہاں سے مزید نعشیں برآمد کی گئیں جس کے ساتھ ہی جاں بحق ہونے والے عام شہریوں کی تعداد 1000 سے متجاوز ہوگئی ہے ۔ اسرائیل اور حماس نے انسانی بنیادوں پر 12 گھنٹے کی جنگ بندی سے اتفاق کیا ۔ بعد ازاں اسرائیل نے مزید چار گھنٹے کی توسیع دی ۔ اس عارضی جنگ بندی کے ساتھ ہی جب عوام اور طبی عملہ یہاں پہنچا تو انہیں ہر طرف تباہی و بربادی کے آثار دکھائی دئیے ۔

یہاں انتہائی دلخراش مناظر تھے اور کئی نعشیں ملبہ کے نیچے دبی ہوئی ملی ۔ بمباری کی وجہ سے بیشتر عمارتیں زمین دوز ہوگئی ہیں اور کاریں 50 میٹر دور جاگریں ۔ یہی نہیں بلکہ بعض فلیٹس کا مکمل صفایا ہوگیا ۔ غزہ میں ہر طرف تباہی و بربادی کے مناظر دیکھے گئے ۔ اس ملبہ سے 100 سے زائد نعشیں برآمد کی گئی ہیں ۔ جنگ بندی کا وقت شروع ہونے سے پہلے غزہ پٹی میں لڑائی میں تین اسرائیلی سپاہی ہلاک ہوگئے ۔ اس طرح 19 دن کی لڑائی میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 40 ہوگئی ہے ۔ اس کے علاوہ دو عام شہری اور ایک تھائی لینڈ کا ورکر بھی ہلاک ہوگئے ۔اسرائیل نے کہا کہ اس عارضی مدت میں وہ حماس کی سرنگوں کا پتہ چلا کر انہیں ناکارہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا ۔ اب تک 31 سرنگوں کا پتہ چلا ہے جن میں نصف کو تباہ کردیا گیا ۔ مقامی وقت کے مطابق 8 بجے صبح جنگ بندی شروع ہوئی

اور اس سے پہلے اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے 19 افراد ہلاک ہوگئے ۔ تصاویر میں رشتہ داروں کو آہ و بکا کرتے دکھایا گیا جب کہ پانچ بچوں کی نعشیں تدفین کے لیے لائی گئی تھی ۔ آئرن ڈوم ڈیفنس سسٹم نے تین راکٹس کو بے اثر کردیا جو جنوبی اسرائیلی ٹاون اشکلون پر فائر کئے گئے تھے ۔ جنگ بندی میں توسیع کے لیے بین الاقوامی کوششیں بھی تیز ہوگئی ہیں ۔ امریکہ ، برطانیہ ، ترکی اور قطر کے وزرائے خارجہ نے پیرس میں اجلاس منعقد کیا ۔ فرانس کے وزیر خارجہ لارینٹ فیبش نے دو گھنٹے طویل اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ فریقین پر جاریہ جنگ بندی کو 24 گھنٹوں کے لیے وسعت دینے پر زور دیا گیا اور اس کی تجدید بھی کی جاسکتی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT