Saturday , January 20 2018
Home / Top Stories / غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں مزید شدت : 30 فلسطینی جاں بحق

غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں مزید شدت : 30 فلسطینی جاں بحق

صیہونی فوج کی کارروائی میں دو مساجد نشانہ ۔ معذورین کے ٹھکانہ پر بھی بمباری ۔ سابق وزیر اعظم اسمعیل ہنیہ کے دو بھانجے بھی مہلوکین میں شامل جملہ مہلوکین کی تعداد 135 ہوگئی حملے بند کرنے اقوام متحدہ کی اپیل آج برطانیہ ‘ امریکہ ‘ فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کا غزہ کی صورتحال پر غور

صیہونی فوج کی کارروائی میں دو مساجد نشانہ ۔ معذورین کے ٹھکانہ پر بھی بمباری ۔ سابق وزیر اعظم اسمعیل ہنیہ کے دو بھانجے بھی مہلوکین میں شامل
جملہ مہلوکین کی تعداد 135 ہوگئی
حملے بند کرنے اقوام متحدہ کی اپیل
آج برطانیہ ‘ امریکہ ‘ فرانس اور جرمنی کے
وزرائے خارجہ کا غزہ کی صورتحال پر غور
غزہ / یروشلم 12 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) اسرائیل نے آج غزہ پر اپنے وحشیانہ حملوں میں مزید شدت پیدا کردی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی عسکریت پسندوں کی جانب سے کئے جارہے راکٹ حملوں کے جواب میں یہ کارروائی کر رہا ہے ۔ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں کم از کم 30 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں اس طرح اسرائیل کی کارروائیوں میں اب تک ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 135 ہوگئی ہے ۔ اسرائیل نے گذشتہ پانچ دنوں میں حماس کے 1,100 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور ان پر بمباری کی ہے ۔ فلسطینی عہدیداروں نے بتایا کہ آج اسرائیل کی جانب سے غزہ پر وحشیانہ بمباری کی گئی ہے جس میں 30 افراد ہلاک ہوگئے ہیں ۔ ان میں سابق وزیر اعظم اسرائیل اسمعیل ہنیہ کے دو بھانجے بھی شامل ہیں۔

فلسطینی ذرائع کے بموجب اسرائیل کی جانب سے اب تک کی بمباری میں جملہ 135 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مہلوکین کے علاوہ کم از کم 950 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں بیشتر عام شہری ہیں۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے آج اسرائیل اور حماس سے اپیل کی کہ وہ غزہ میں اپنی لڑائی کو بند کریں۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے دونوں ہی فریقین سے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسادیر کریںا ور امن قائم کرتے ہوئے 2012 کی جنگ بندی کو قبول کریں۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے ایک متفقہ اعلامیہ میں کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی ہونی چاہئے اور بحران کو کم کیا جانا چاہئے ۔ سلامتی کونسل نے دونوں ہی جانب عام شہریوں کے تحفظ اور ان کی فلاح پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں سے کہا ہے کہ وہ بات چیت کی میز پر آئیں اور ایک جامع امن منصوبہ دو مملکتی حل کی بنیاد پر تیار کریں۔ ا

سرائیل نے آج کہا کہ اس نے منگل کے بعد سے اب تک 1,160 فضائی حملے کئے ہیں اور اس کا ادعا ہے کہ حماس کی جانب سے جملہ 689 راکٹ حملے کئے گئے ہیں۔ وسطی غزہ میں کل رات ایک مسجد پر بھی بمباری کی گئی ہے ۔ حماس کے ایک ترجمان نے کہا کہ حماس کی کارروائیوں میں اب تک دو مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ اسرائیل کا ادعا ہے کہ یہاں ہتھیاروں کا ذخیرہ کیا جاتا تھا ۔ اس دوران حماس نے کہا کہ اگر اس نے اسرائیلی شہر اشداد پر چار راکٹس داغے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی ریلیف کمپاؤنڈ میں مہیب آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حماس کے میزائیل کی لگی ہے تاہم اس کی توثیق نہیں ہوسکی ہے ۔ اسرائیل نے بیت اللہیہ میں معذورین کے ایک مرکز پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں دو شدید معذور خواتین فوت ہوگئیں۔ فلسطینی عہدیداروں نے یہ بات بتائی ۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنارہا ہے ۔

اس کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں میں درجنوں دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے جہاں غزہ پٹی پر وحشیانہ بمباری کی جا رہی ہے وہیں اس نے زمینی حملہ کا امکان بھی مسترد نہیں کیا ہے اور اس نے 40,000 محفوظ فوجیوں کو طلب کرلیا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ میزائیل ڈیفنس سسٹم بھی کارکرد کرچکا ہے ۔ اس دوران برطانیہ کے معتمد خارجہ ولیم ہیگ نے آج کہا کہ وہ غزہ میں انسانی جانوں کے اتلاف پر فکرمند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جو انسانی جانیں تلف ہو رہی ہیں اور جو انسانی صورتحال ہے اس پر وہ فکرمند ہیں اور آج صدر فلسطین محمود عباس سے بات کر رہے ہیں۔ ہیگ نے اپنے ٹوئیٹر پر یہ بات کہی اور دفتر خارجہ نے اس کی توثیق کی ہے ۔ مسٹر ہیگ نے علیحدہ بیان جاری کرکے کہا کہ وہ امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری کے علاوہ جرمنی و فرانس کے وزرائے خارجہ کے ساتھ کل وینا میں ملاقات کرکے غزہ میں جنگ بندی کو یقینی بنانے پر تبادلہ خیال کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بات چیت میں اسرائیل اور فلسطین کے مابین کارروائیوں کو بند کرنے پر غور خوض ہوگا ۔ کل یہ قائدین ایران کے نیوکلئیر پروگرام پر بات چیت کیلئے وینا میں جمع ہو رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT