Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / غزہ پر حماس اور فتح کے درمیان تاریخی معاہدہ

غزہ پر حماس اور فتح کے درمیان تاریخی معاہدہ

فلسطینی شہریوں نے خوشیوں سے سرشار ہوکر مٹھائی تقسیم کی
قاہرہ ۔ 12 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) حریف گروپس حماس اور فتح کے درمیان ایک جزوی معاہدہ کو قطعیت دی گئی ہے جس کے ذریعہ صدر فلسطین محمود عباس کی غزہ پٹی میں بھی حکومت کرنے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ یاد رہیکہ دس سال قبل اس علاقہ پر حماس نے قبضہ کرلیا تھا۔ مصر کے ذریعہ اس معاہدہ کیلئے ثالثی کے فرائض انجام دینے والوں نے یہ بات بتائی۔ معاہدہ کی تمام تفصیلات ایک پریس کانفرنس میں آج شام پیش کی جائیں گی۔ دریں اثناء حماس قائد اسمعیل ہنیہ نے بھی اس معاہدہ کو مصر کی فراخدلانہ ثالثی سے تعبیر کرتے ہوئے اسے ایک خوشگوار پیشرفت سے تعبیر کیا تاہم انہوں نے مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائی۔ ایک سینئر فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ فتح قائد محمود عباس آئندہ کچھ ہفتوں میں غزہ کا دورہ کریںگے تاہم یہ دورہ معاہدہ کے کامیاب اطلاق پر منحصر ہوگا۔ مذکورہ عہدیدار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر یہ بات بتائی کیونکہ اس معاہدہ کا اب تک سرکاری طور پر اعلان نہیں ہوا ہے۔ واضح رہیکہ مصری دارالحکومت قاہرہ میں اسی ہفتے منگل کو ان دونوں مخالف فلسطینی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔واضح رہے حماس اور فتح دونوں 2014 میں بھی انتظامی سطح پر قومی مفاہمت پرمتفق ہوگئے تھے لیکن تفصیلات پر دونوں میں اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔ کہا جاتا ہیکہ حماس کو دباؤ میں لانے کیلئے صدر فلسطین محمود عباس نے اسرائیل کو بجلی کے واجبات کی ادائیگی روک دی تھی جس کے بعد روزانہ 4 سے 6 گھنٹے برقی سربراہی منقطع ہوجاتی تھی۔ حماس کے اسماعیل ہنیہ کے حوالے سے یہ اطلاع دی گئی ہیکہ فتح اور حماس کے درمیان مصر ی تائید و حمایت سے مذاکرات کے دوران ایک معاہدہ طے پاگیا ہے جس کا مقصد دونوں تنظیموں میں10سالہ سیاسی کشیدگی کو ختم کرنا تھا۔ فتح نے 2007میں حماس سے لڑائی کے بعد غزہ پر اپنا کنٹرول کھو دیا تھا۔ ابھی پچھلے مہینے حماس نے صدر محمود عباس کو غزہ کی حکومت سنبھالنے کی پیشکش کی تھی ۔ مذاکرات میں شامل ایک پارٹی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس معاہدہ کو مقبوضہ فلسطین کے غرب اردن علاقہ غزہ پر لاگو کیا جائے گا جہاں فتح کی اکثریت ہے اور یہ رفاہ کے قریب کا علاقہ ہے جو غزہ اور مصر کے درمیان سرحد پر قائم ہے ۔باخبر حلقوں کا کہنا ہیکہ فلسطین کی تمام تنظیمیں آئندہ دو ہفتوں کے دوران ایک قومی اتحادی حکومت بنانے کیلئے مذاکرات کا آغاز کرسکتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT