Friday , February 23 2018
Home / Top Stories / غزہ پر حماس اور فتح کے درمیان تاریخی معاہدہ

غزہ پر حماس اور فتح کے درمیان تاریخی معاہدہ

فلسطینی شہریوں نے خوشیوں سے سرشار ہوکر مٹھائی تقسیم کی
قاہرہ ۔ 12 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) حریف گروپس حماس اور فتح کے درمیان ایک جزوی معاہدہ کو قطعیت دی گئی ہے جس کے ذریعہ صدر فلسطین محمود عباس کی غزہ پٹی میں بھی حکومت کرنے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ یاد رہیکہ دس سال قبل اس علاقہ پر حماس نے قبضہ کرلیا تھا۔ مصر کے ذریعہ اس معاہدہ کیلئے ثالثی کے فرائض انجام دینے والوں نے یہ بات بتائی۔ معاہدہ کی تمام تفصیلات ایک پریس کانفرنس میں آج شام پیش کی جائیں گی۔ دریں اثناء حماس قائد اسمعیل ہنیہ نے بھی اس معاہدہ کو مصر کی فراخدلانہ ثالثی سے تعبیر کرتے ہوئے اسے ایک خوشگوار پیشرفت سے تعبیر کیا تاہم انہوں نے مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائی۔ ایک سینئر فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ فتح قائد محمود عباس آئندہ کچھ ہفتوں میں غزہ کا دورہ کریںگے تاہم یہ دورہ معاہدہ کے کامیاب اطلاق پر منحصر ہوگا۔ مذکورہ عہدیدار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر یہ بات بتائی کیونکہ اس معاہدہ کا اب تک سرکاری طور پر اعلان نہیں ہوا ہے۔ واضح رہیکہ مصری دارالحکومت قاہرہ میں اسی ہفتے منگل کو ان دونوں مخالف فلسطینی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔واضح رہے حماس اور فتح دونوں 2014 میں بھی انتظامی سطح پر قومی مفاہمت پرمتفق ہوگئے تھے لیکن تفصیلات پر دونوں میں اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔ کہا جاتا ہیکہ حماس کو دباؤ میں لانے کیلئے صدر فلسطین محمود عباس نے اسرائیل کو بجلی کے واجبات کی ادائیگی روک دی تھی جس کے بعد روزانہ 4 سے 6 گھنٹے برقی سربراہی منقطع ہوجاتی تھی۔ حماس کے اسماعیل ہنیہ کے حوالے سے یہ اطلاع دی گئی ہیکہ فتح اور حماس کے درمیان مصر ی تائید و حمایت سے مذاکرات کے دوران ایک معاہدہ طے پاگیا ہے جس کا مقصد دونوں تنظیموں میں10سالہ سیاسی کشیدگی کو ختم کرنا تھا۔ فتح نے 2007میں حماس سے لڑائی کے بعد غزہ پر اپنا کنٹرول کھو دیا تھا۔ ابھی پچھلے مہینے حماس نے صدر محمود عباس کو غزہ کی حکومت سنبھالنے کی پیشکش کی تھی ۔ مذاکرات میں شامل ایک پارٹی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس معاہدہ کو مقبوضہ فلسطین کے غرب اردن علاقہ غزہ پر لاگو کیا جائے گا جہاں فتح کی اکثریت ہے اور یہ رفاہ کے قریب کا علاقہ ہے جو غزہ اور مصر کے درمیان سرحد پر قائم ہے ۔باخبر حلقوں کا کہنا ہیکہ فلسطین کی تمام تنظیمیں آئندہ دو ہفتوں کے دوران ایک قومی اتحادی حکومت بنانے کیلئے مذاکرات کا آغاز کرسکتی ہیں۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT