Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / غزہ پٹی میں حماس پر اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملے

غزہ پٹی میں حماس پر اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملے

چوٹی کانفرنس میں سرحد پار سے احتراق انگیز مادہ سے بھری ہوئی بوتلیں منتقل کرنے کا 4فلسطینیوں پر الزام

یروشلم ۔ 25مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) اسرائیلی جٹ لڑاکا طیاروں نے غزہ پٹی میں حماس کے مورچوں پر رات بھر فضائی حملے کئے ۔ قبل ازیں فلسطینیوں نے سرحدپار دھاؤں کے خلاف مظاہرہ کیا تھا جو جنوبی اسرائیل کی فوج کی جانب سے آج کی اولین ساعتوں میں کئے گئے تھے ۔ چوٹی کانفرنس پر جس میں اسلام پسند حکمرانوں نے شرکت کی حملے کئے گئے تھے ۔ جب کہ 4 فلسطینی اس چوٹی کانفرنس میں شرکت کررہے تھے ۔ 4فلسطینی اپنے ساتھ بوتلیں لائے تھے جن میں احتراق انگیز مادہ بھرا ہوا تھا ۔ مبینہ طور پر یہ غزہ پٹی کی سرحدی خلاف ورزی تھی ۔ ہفتہ کے دن اسرائیلی روزنامہ ’’ لا ہارٹیز ‘‘ نے فوج کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اطلاع دی تھی ۔ فوج کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارہ سے کہا تھا کہ انہوں نے چوٹی کانفرنس میں سرحد پارسے احتراق انگیز مادہ منتقل کرتے ہوئے شرکت کی تھی ۔ انتظامیہ نے ان بوتلوں کو تباہ کردیا تھا لیکن مادے میں آگ نہیں لگی تھی ۔ اس لئے حملہ آور دوبارہ غزہ پٹی پر واپس آگئے ۔ کسی جانی نقصان کی تاحال کوئی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ کل فوجی علاقہ میں کئی سنگین واقعات پیش آئے تھے ۔ حالانکہ اس علاقہ کے اطراف و اکناف سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں اور حفاظتی باڑ بھی نصب کی گئی ہے ۔ اسرائیل حماس کو اس کا ذمہ دار قرار دیتا ہے ۔ کیونکہ حماس غزہ پٹی پر برسراقتدار ہے ۔ اسرائیل تمام حملوں کیلئے حماس کو جواب دہ قرار دیتا ہے ۔ حالانکہ غزہ پٹی کی بحری ناکہ بندی جاری ہے ۔ اس کے باوجود سرحد پار سے احتراق انگیز مادہ برآمد کرنے کو اسرائیل ایک اشتعال انگیز کارروائی قرار دیتا ہے ۔ گذشتہ ماہ سرحد پار سے تشدد کے واقعات پیش آئے تھے جن کی نوعیت انتہائی سنگین تھی ۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان 2014ء کی جنگ کے بعد اس قسم کا کوئی شدید پُرتشدد واقعہ پیش نہیں آیا تھا ۔ ایک بم حملہ سے چار اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے تھے ۔ یہ فوجی 17فبروری کو سرحد پر نصب حفاظتی باڑ کا معائنہ کرنے کیلئے روانہ ہوئے تھے ۔ اسرائیل نے مبینہ طور پر اس واقعہ کے ردعمل کے طور پر حماس کے 18کارخانوں پر بمباری کی اور فضائی حملے دو بار کئے گئے ۔ اسرائیلی زمینی افواج نے بھی دو فلسطینیوں کو جن کی عمر 20سال سے بھی کم تھی گولی مار کر ہلاک کردیا تھا ۔ جس کے نتیجہ میں اسرائیل تنقید کا نشانہ بن گیا ۔ گذشتہ اتوار کو اسرائیل نے کہا تھا کہ اُس نے فضائی حملے زیرزمین حماس کارخانوں پر کئے ہیں جوغزہ پٹی میں قائم تھے ۔ اسرائیل نے مزید کہا کہ اس کی زمینی افواج نے ایک مخصوص سرنگ کی نشاندہی کی ہے جسے اسرائیل پر حملوں کیلئے استعمال کیا جاسکتا تھا ۔ حماس کو اسرائیل اور اس کا حلیف ملک امریکہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتا ہے اور غزہ پٹی پر حماس کا اقتدار ہمیشہ سے اسرائیل کی نظروں میں کھٹکتا رہا ہے ۔ غزہ پٹی میں حماس کے برسراقتدار آنے کے بعد ہی مغربی کنارے پر برسراقتدار فلسطینی اتھاریٹی کے ساتھ حماس کے اختلافات میں شدت پیدا ہوئی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT