Saturday , January 20 2018
Home / مذہبی صفحہ / غم نہ کرو، اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے

غم نہ کرو، اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے

مولانا غلام رسول سعیدی

مولانا غلام رسول سعیدی

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابوبکر تمام لوگوں میں افضل ہیں، الا یہ کہ نبی نہیں ہیں‘‘ (الصواعق المحرقہ۔۶۹) حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابوبکر مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں‘‘ (الصواعق المحرمہ۔۶۹) یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کمالات کا حصول میری ذات سے ہے اور میرے کمالات کا ظہور ابوبکر کی ذات سے ہے۔ حضرت سلمان بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین سو ساٹھ اوصاف ایسے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان میں سے ایک وصف بھی حاصل کرلے تو وہ جنت میں چلا جائے گا‘‘۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت کیا: ’’حضور! ان اوصاف میں سے کوئی وصف مجھ میں بھی ہے؟‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’تم میں وہ سارے اوصاف موجود ہیں‘‘۔ (الصواعق المحرمہ۔۷۴)

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہ انبیائے سابقین کے صحابہ میں کوئی ابوبکر سے بڑھ کر تھا، نہ میرے صحابہ میں کوئی ابوبکر سے افضل ہے‘‘ (الصواعق المحرمہ۔۷۰) نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابوبکر سے محبت رکھنا اور ان کی تعظیم کرنا میری تمام امت پر واجب ہے‘‘۔ (الصواعق الحرقہ۔۷۴)
جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خریدکر آزاد کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی: ’’عنقریب وہ شخص جہنم سے آزاد ہوگا، جو اتقی ہے اور خدا کی راہ میں مال حرچ کرکے اس کو پاکیزہ کرتا ہے‘‘ (سورۃ اللیل۔۱۷،۱۸) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جہنم سے آزاد ہونے کی بشارت دی اور انھیں ’’اَتْقٰی‘‘ فرمایا، جس کے معنی ہیں: ’’سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا‘‘۔ انسان کا سب سے بڑا کمال تقویٰ اور خدا خوفی ہے۔ یوں تو تمام بزرگانِ دین کو تقویٰ حاصل ہوتا ہے، لیکن اصل اعزاز اس شخص کا ہے، جسے خدا خود متقی کہہ دے، بلکہ متقی بھی نہیں اتقی، یعنی سب سے زیادہ متقی۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’تم میں سب سے زیادہ مکرم وہ شخص ہے، جو سب سے زیادہ متقی ہو‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کے نزدیک امت میں سب سے زیادہ متقی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں تو اس کی نگاہ میں مکرم بھی سب سے زیادہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرار پائے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غارِ ثور کا گوشہ گوشہ صاف کیا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر غار کے اندر پہنچے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر کے زانو پر سر رکھ کر آرام فرمانے لگے۔ جہاں محبت ہوتی ہے، وہاں اندیشے بھی بے شمار ہوتے ہیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فکر تھی کہ کہیں کفار پیچھا کرتے کرتے غار تک نہ پہنچ جائیں اور مبادا حضورﷺ کو کوئی تکلیف پہنچے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے ابوبکر! فکر نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔ ابھی یہ بات حضورﷺ کے ہونٹوں پر ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’دو میں سے دوسرے جب وہ دونوں غار میں تھے، جب انھوں نے اپنے صحابی سے کہا: غم نہ کرو، اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے‘‘ (سورۃ التوبہ۔۴۰) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ’’ثانی اثنین‘ ‘فرمایا۔ اس کا مطلب ہے ’’جس جگہ حضور اول ہیں، ابوبکر وہاں ثانی ہیں‘‘۔ چنانچہ ایمان میں، تبلیغ میں، نصرت فی الدین میں، ہجرت میں، امامت میں، امارت میں، روضہ میں، حشر میں، جنت میں، جہاں جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اول ہیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں ثانی ہیں۔ نیز اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر پر ’’صاحب‘‘ کا اطلاق کیا۔ یوں تو حضورﷺ کے ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد صحابہ ہیں، لیکن حضرت ابوبکر کے سوا کسی کو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہوا کہ اسے اللہ نے حضورﷺ کا صاحب فرمایا ہو اور نہ ہی گروہ صحابہ میں کوئی اس شان کا صحابی ہے، جو عالمِ ارواح سے لے کر جنت تک، ہر مرحلہ میں حضورﷺ کا صاحب ہو۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ ’’اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔ اس فرمان میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے بشارت ہے کہ اُن کی پوری زندگی اللہ کی امان اور اس کی حفاظت میں ہے۔ (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT