Tuesday , August 14 2018
Home / Top Stories / غیراسلامی جھنڈوں پر امتناع کے متعلق سپریم کورٹ نے مرکز سے ردعمل مانگا

غیراسلامی جھنڈوں پر امتناع کے متعلق سپریم کورٹ نے مرکز سے ردعمل مانگا

رضوی نے اپنی درخواست میں دعوی کیاہے کہ ہرا جھنڈہ جس پر چاند اور تارہ ہو ’’ غیراسلامی ‘‘ ہے اور پاکستانی سیاسی پرچم کے جھنڈے کے مماثل ہے۔
نئی دہلی۔

شیعہ وقف بورڈ چیرمن سید وسیم رضوی کی جانب سے چاند تارے پر مشتمل سبز جھنڈے جو پاکستان مسلم لیگ( پی ایم ایل)کے پرچم سے مماثلت رکھتے ہیں کو ملک کی عمارتوں او رمذہبی مقامات پر لگانے سے روک کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت میں ایک درخواست دائرکی ہے جس پر سپریم کورٹ نے پیر کے روزنے مرکز سے ردعمل مانگا ہے۔

جسٹس اے کے سیکری اور اشوک بھوشن پر مشتمل ایک بنچ نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل توشا رمہتا سے مناسب ہدایتوں کے ساتھ ردعمل داخل کرنے کو کہا ہے۔

رضوی نے اپنی درخواست میں یہ دعوی کیاہے کہ چاند اور تارے پر مشتمل سبز پرچم ’’ غیراسلامی ‘‘ اور اس پاکستان کی سیاسی پارٹی سے اس میل کھاتے ہیں۔رضوی کی پی ائی ایل میں لکھا ہے کہ ’ ’ اس طرح کے پرچم مسلم اکثریتی والے علاقوں میں لگائے جاتے ہیں جو کشیدگی کا سبب بنتے ہیں‘‘۔

رضو ی نے اپنی درخواست میں دعوی کیا ہے کہ چاند تارح پر مشتمل سبز پرچم سیاسی پارٹی پاکستان مسلم لیگ کی وارثت ہے‘ جس کو نواز وقار الملک اور محمد علی جناح نے1906میں قائم کیاتھا۔

جس کو غیراسلامی پرچم کے طور پر ان لوگوں نے استعمال کیاتھا اور آ ج کے دور میں اس کا ہندوستانی مسلمان استعمال کررہے ہیں۔

رضوی کی درخواست میں کہاگیا ہے کہ سز رنگ کے پس منظر میں چاند اور تارے کبھی بھی اسلامی عمل کاحصہ نہیں رہے اور اس کا اسلام میں کوئی اہم رول نہیں ہے۔

اپنے حالیہ ممبئی دورے کے موقع پر رضوی نے دیکھاکہ کئی مقامات پر اس طرح کے پرچم لگے ہوئے ہیں جو ہندواور مسلمانوں کے درمیان میں کشیدگی کی اصل وجہہ بن رہے ہیں۔

رضوی نے ایسے تنظیموں اور اداروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیاہے جو ’’ دشمن ملک‘‘ سے تعلق رکھنے والی پارٹی کے پرچم سے میل کھاتی جھنڈیاں لگارہے ہیں۔

پی ائی ایل میں لکھا ہے کہ پاکستان ہمارے ’’ دشمن ملک ‘‘ ہے او روہ ہمارے ملک اور سرحد پر کئی دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار ہے۔

درخواست گذار نے کہاکہ’’ ہمارے ملک میں نہایت سرگرم دہشت گردوں کے نٹ ورک کے ذریعہ پاکستانی کے خفیہ ادارے حملہ کرواتے ہیں‘‘۔

درخواست گذار کا کہنا ہے کہ ’’ دشمن کاپرچم لہرانا وہ بھی اس عقیدے کے ساتھ کہ وہ ایک مذہبی پرچم ہے اس پر حکومت کے اداروں کوفوری کاروائی کرنے کی ضرورت ہے‘‘انہوں نے مرکز پر غیرقانونی سرگرمیوں کو روکنے پر ناکام ہونے کا بھی الزام عائد کیاہے۔

رضوی نے کہاکہ اس طرح کے پرچم کشائی ہمارے ملک کی اہمیت او ریکجہتی کے لئے نقصاندہ ثابت ہوگی

TOPPOPULARRECENT