Tuesday , May 22 2018
Home / ہندوستان / غیرقانونی رقمی لین دین اور فیما کے 3,700 معاملے زیرتحقیقات

غیرقانونی رقمی لین دین اور فیما کے 3,700 معاملے زیرتحقیقات

 

نئی دہلی ۔ 9نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ای ڈی نوٹ بندی کے بعد جمع کالا دھن کے خلاف اپنی کارروائی کے تحت غیرقانونی رقمی لین دین اور حوالہ معاملتوں کے زائد از 3700 معاملوں کی تحقیقات کررہی ہے ‘ جن میں 9,935 کروڑ روپئے مالیت کے داغدار اثاثہ جات شامل ہیں ۔ مرکزی تحقیقاتی ایجنسی نے ان معاملوں میں جو گذشتہ سال 8 نومبر کو نوٹ بندی کے بعد درج رجسٹر کئے گئے ‘ جوکھم کا اندازہ بھی لگارہی ہے اور اس نے پایا کہ زیادہ تر ( 43 فیصد ) اقتصادی جرائم ‘ بینک دھوکہ دہی اور پوشیدہ کمپنیوں کے ذریعہ مالیتی اداروں کو دھوکہ دیتے ہوئے کئے گئے ہیں ۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ( ای بی ) کی جانب سے زیرتحقیقات مابعد نوٹ بندی مالی جرائم کے دیگر زمرہ میں کرپشن ( 31 فیصد ) ‘ ڈرگس اور نارکوٹکس کی تجارتی ( 6.5 فیصد ) ‘ اسلحہ اور دھماکو مادے ( 4.5 فیصد ) اور دیگر (8.5فیصد ) معاملے شامل ہیں ۔ ان میں سب سے بڑی لعنت ( کالا دھن ) کرپشن اور غیرقانونی دولت والی رقم ہے جو بنکوں کو دھوکہ دیتے ہوئے حاصل کی جاتی ہے ۔ مابعد نوٹ بندی ان معاملوں کے عمومی جائزۃ سے ظاہر ہوتاہے کہ کاروباروں اور پیشہ ور افراد نے ایک دوسرے کیس اتھ گٹھ جوڑ کرتے ہوئے فرضی کمپنیاں کو استعمال کیا تاکہ غیرقانونی دولت کو جائز اثاثوں میںتبدیل کیا جاسکے ۔ ای ڈی ڈائرکٹر کرنال سنگھ نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ تحقیقاتی ادارہ کالادھن اور بدعنوانی کی لعنت کے خلاف کام کرنے کا پابند عہد ہے اور اپنے کام کاج میں پیشہ واریت لائے گا ۔ اس ایجنسی نے جملہ 3758 کیس درج کئے اور ان کی تحقیقات کررہی ہے ۔ ان میں سے 3567 بیرونی زرمبادلہ کے قوانین اور 191 قانون انسداد غیرقانونی رقمی لین دین کے تحت آتے ہیں ۔ایجنسی نے گذشتہ 8نومبر سے ستمبر تک 777وجہ بتاؤ نوٹسیں اور قرقی کے احکام جاری کئے اور 620 مقامات پر تلاشی کام انجام دیا ہے ۔ ان کیسوں میں بیرونی زرمبادلہ سے متعلق قانون کی خلاف ورزی والے اثاثہ جات کی جملہ قدر 9,935کروڑ روپئے ہے جس میں سے ایجنسی نے قانون کے تحت 5,335 کروڑ روپئے مالیت کے اثاثہ جات قرق کرلئے اور 4,600کروڑ روپئے کی رقم والے معاملوں میں فیما کے تحت نوٹسیں جاری کئے ہیں ۔ ای ڈی جو مرکزی وزارت فینانس کے تحت کام کرتا ہے ‘ ا س کے جائزہ میں یہ بھی معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ بینک جیسے مالی ادارہ نشانہ بن رہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT