Wednesday , November 14 2018
Home / Top Stories / غیرمسلم مہاجرین کی ملکی شہریت سے سرفرازی۔ پروفیسر طاہر مسعود کا مضمون

غیرمسلم مہاجرین کی ملکی شہریت سے سرفرازی۔ پروفیسر طاہر مسعود کا مضمون

مرکزی حکومت نے ملی قانون شہریت میں ترمیم کرنے کی غرض سے جولائی2016میں پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیاتھا جس کا مقصدمسلم اکثریت والے تین پڑوسی ملکوں افغانستان ‘ پاکستان اور بنگلہ دیش سے غیرقانونی طو رپر شمالی مشرق کی ریاستوں میں پناہ لینے والے غیر مسلم مہاجرین کو ہندوستانی شہریت سے سرفراز کرنا تھا

۔یہ بل ابھی پاس نہیں ہوا ہے اور اس ماہ میں ہونے والے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اسے پاس کروانے کی کوشش کی جائے گی یا نہیں یہ یقینی طور پر نہیں کہاجاسکتا کیونکہ فی الحال تو مرکز میں برسراقتدار سیاسی جماعت کے اعصاب پر آئندہ سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات کا بھوت سوار ہے اور سیاست

کی دنیامیں طئے شدہ پالیسیوں کو سیاسی مصلحتوں سے معرض التوا میں رکھنے او روقتی طور پر اس سلسلے میں زبانوں پر تالے لگائے رکھنے کاعام رواج ہے۔

انتخابی موسموں کی رعنائیاں ہوتی ہیں اور قدر دلفریب ہیں کہ ایل سیاست کی نظریں صرف اپنی فتحیابی پر مرکوز ہوجاتی ہیں جس کے لئے یہ فیصلے کرنے کا ان کے اپنے مخصوص پیمانے ہوتے ہیں کہ’’ کہاں سے بچ نکلنا ہے کہاں جانا ضروری ہے‘‘۔

آزادی کے بعد ملک کی شہریت کا قانون سب سے پہلے نئے مرتب کردہ ائین کے دوسرے باپ میں شامل کیاگیا تھا جس کی پہلی دفعہ کی رو سے ان سبھی ہندوستان نژاد لوگوں کو شہری تسلیم کیاگیا تھا

جو خود یاجن کے ماں باپ ہندوستان کی سرزمین میں پیدا ہوئے ہیں یا ائین کے نفاذ سے کم از کم پانچ سال پہلے سے اس ملک میں عام طور پر رہ رہے تھے۔

نومولود ملک پاکستان سے ہجرت کرکے یہاں آنے والوں کے لئے اس بات میں ایک مخصوص دفعہ شامل کی گئی تھی جس کے تحت انہیں ملک کاشہری بنایاجاسکتا تھا او ریہ دفعہ بلاتفریق مذہب وملت سبھی مہاجرین کے لئے تھی۔

جو لوگ یہاں ہجرت کرکے مملکت خداداد میں جابسے تھے انھیں ہندوستانی شہریت سے خارج کرنے کے لئے بھی ایک دفعہ شامل کی گئی تھی۔

غیرمقیم ہندوستانیوں کی شہریت کو مشروط تسلیم کیاگیاتھا او ریہ واضح کرکے کہ جو کوئی اپنی مرضی سے کسی غیرملک کی شہریت حاصل کرکے وہ ہندوستانی شہری باقی نہیں رہے گا۔ وہ ہر شہریتکے اصول کی صریحا نفی کی گئی تھی ۔

آخری دفعہ میں پارلیمنٹ کو اختیار دیاگیاتھا کہ وملک کی شہریت حاصل کرنے یا اس سے خارج کئے جانے کے ضوابط مرتب کرنے کے لئے حسب ضرورت قانون وضع کرتی رہے ۔

چنانچہ نفاذ ائین کے پانچویں سال پارلیمنٹ نے اس مقصد سے ایک مختصر قانون’’ شہریت ایکٹ‘ کے عنوان سے بنادیاتھاجس میں انیس دفعات کے ساتھ چار شیڈول شامل تھے اور آئندہ سال اس ایکٹ کے تحت حسب قاعدہ انتظامی ضوابط بھی مرتب کئے گئے تھے ۔

ایک سال اور گزرا تو ایکٹ اور اس کے ذیلی ضوابط دونوں میں ترمیمات کا سلسلہ شروع ہوا اور مرکز میں اب تک کی آخری کانگریس حکومت بننے تک ایکٹ کے لئے چھ عدد ترمیمی قوانین پاس ہوچکے تھے جبکہ ضوابط میں تو نہ جانے کتنی بار ترمیم ہوچکی تھی۔

اس طور پر ائین کے تحت وضع کیاگیا ہندوستانی شہریت کا یہ قانون شروع سے ہی حکومت کے تختہ مشق رہا ہے کو جوئی حیرت کی بات نہیں ہے

کیونکہ ہم تو خود ائین ہی میں67سالوں میں101ترمیمات کر کے ایک ریکارڈ قائم کرچکے ہیں جبکہ امریکہ کے 230سال پرانے ائین میں اب تک صرف 27ترمیمات ہوئی ہیں۔

ہمارے سابق انگریزی حکمراں ہمیں صدر تک غلام رکھنے کے بعد جب 1947میں بادل نخواستہ ہمیںآزاد کرنے پر راضی ہوئے تھے تو اس کی بھرپور قیمت ملک کی تقسیم کی صورت میں وصولی تھی۔

جسے ادا کرنے میں اس وقت کے تمام بڑے قومی رہنما شامل تھے۔نہ جانے ان سبھی کیوں اس قدر عجلت تھی ورنہ تاریخ آزادی بین السطور سے یہی پتہ چلتا ہے کہ کچھ عرصہ اور صبر کرلیاجاتا تو شائد یہ نوبت نہیں آتی۔

انگریز قوم تو غیرملکوں میں گھس کر وہاں خانہ جنگیاں کروانے اور جہاں کہیں ممکن ہو انہیں تقسیم کروانے کی شاطرانہ سیاست میں مہارت نامہ رکھتی ہی ہے ۔انہوں نے ایسے کارنامے کرکے اس میں سے اسرائیل کاجن برآمد کیا۔

بہرحال ہندوستان نامی سونے کی چڑیا کے تین تکڑے ہوئے جن میں سے دو کو سینکڑوں میل کے فاصلوں کے باوجود ’’ پاکستان ‘ ‘ کانام دیا گیا۔ پھر جلد ہی ’’مشرقی پاکستان‘‘ سے لوگ بھاگ کے آسام آنے لگے جس سے گھبراکر 1957میں وہاں’’ شہریوں کو قومی رجسٹر‘‘ تیار کیاگیا اور اس میں وقتا فوقتا خرد برد ہوتی رہی ۔

بیس سال بعد ہم لوگوں نے فوجی طاقت ا استعمال کرکہ دو ’’پاکستانوں ‘‘ میں سے ایک کو آزاد بنوادیا اور سیاسی بدحالی او رغربت کے باعث وہاں سے لوگوں کے بھاگ آنے کاسلسلہ دراز ہوتا چلاگیا۔

آسام آنے والو ں میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی اس لئے مقامی غیرمسلم اکثریت کو پریشان لاحق ہوئی کہ ’ یہ ٹوٹا ہوا تارامہ کامل نہ بن جائے‘‘۔

چنانچہ حکومت وقت نے 1983میں’’ ائی ایم ڈی ٹی ایکٹ‘‘ کے نام سے ایک قانون پاس کرکے غیرقانونی مہاجرین کی پکڑ دھکڑ اور ملک بدری کا انتظام کیا۔

دوسال بعد ’’ آسام معاہدے ‘‘ کرواکے اس کے نکات کو1955کے مذکورہ بالاشہری ایکٹ میں شامل کردیاگیا مگر 1983کا ایکٹ بھی بدستور نافذ رہا ۔

قومی اقلیتی کمیشن نے اپنے دور صدرات میں ہم نے ایک ایکٹ کے مغائر مطالعہ کرنے کے بعد اسے غیرائینی قراردیتے ہوئے اس کی فوری منسوختی کی سفارش کی تھی مگر حکومت کے کان پر جو ں تک نہیں رینگی تھی۔

پانچ سال بعد سپریم کورٹ نے کچھ وجوہات کی بناء پر اسے کالعدم قراردے دیا تو وقت کی کانگریس حکومت نے ایک بار شہریت ایکٹ میں بھی بھاری ترمیمات کا بل پاس گیا۔یہ ہے ماضی کی حکومتوں کا چھوڑا ہوا

ورثہ جسے ملک کے موجودہ حکمرانوں نے اقتدار میں آتے ہی اپنی معروف پالیسیوں کے مطابق آگے بڑھانا طئے کیا۔آسام میں شہریوں کے 1951والے قومی رجسٹرکو بنیاد بناکر اس کے بعد بنگلہ دیش سے آنے والوں سے شہریت کا ثبوت مانگے جانے کا کام فوری شروع کروایاگیا

لیکن سپریم کورٹ کی طرف سے بارہا جلدی مکمل کئے جانے کی ہدایت کے باوجود یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔

اس کی زد میںآنے والوں میں مسلمانوں تو بے شمار ہیں ہی مگر دیگر مذہبی فرقوں کے لوگ بھی ہیں جن میں افغانستان میں مذہبی تشدد سے پریشان ہوکر بھاگ آنے والہ پناہ گزیں بھی شامل ہیں۔

نئی حکومت نے پاکستان‘ بنگلہ دیش او رافغانستان سے غیرقانونی طور پر آسام او رمیگھالیہ میں( جوآسام ہی سے علیحدگی کی گئی عیسائی اکثریت والی ریاست ہے) آنے والے غیرمسلموں کو 1920کے پاسپورٹ ایکٹ اور 1946کے غیرملکیوں سے متعلق ایکٹ کی پابندیوں سے پہلے ہی مستثیٰ کردیاتھا اب انہیں باقاعدہ ہندوستانی شہریت سے سرفراز کرنا چاہتی ہے اور اسی مقصد سے زیر ہ تذکرہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیاتھا۔

شہریت ایکٹ 1955کی دفعہ2کا ایک فقرہ ’’ غیرقانونی مہاجرین‘‘ کی اصطلاح کی تعریف کرتا ہے۔ اس بل سے اس میں نئی شق شامل کی جارہی ہے جس کی روسے افغانستان ‘ بنگلہ دیش او رپاکستان کی اقلیوں یعنی ہندو ‘ سکھ ‘ جین ‘ عیسائی اور پارسی فرقے کے لوگوں کو غیرقانونی مہاجرین نہیں مانا جائے گا۔

ایکٹ کے تیسرے شیڈول میں غیرملکیوں کو ملک کی شہریت دینے کی شرائط مذکور ہیں جن میں ایک شرط یہاں کم از کم گیارہ سال کی رہاش ہے۔ اس میں ترمیم کرکے ان حضرات کے لئے یہ خدمت گھٹاکے چھ سال کی جارہی ہے۔

تین پڑوسی ممالک سے آنے والے جن پناہ گزینوں کے لئے یہ قانون بنایاجارہا ہے ان میں اہل اسلام کی کثیر تعداد ہے مگر وہ اس کی حدود سے یکسر خارج ہیں ۔

کسی ریاست کی کل آبادی میں فیصد آبادی کے اعتبار سے ریاست جموں او رکشمیر کے بعد ہندوستان کی باقی 28ریاستوں میں سے مسلمانوں کی سب سے زیادہ آسام ہی میں ہے(2011کی مردم شماری کے مطابق34فیصد سے زائد)جو بردران وطن کے لئے ہمیشہ ہی درد سر رہی ہے۔

اس میں مزید اضافے کا جوکھن تومول نہیں لیاجاسکتا۔ یہ بل پاس تو خیر جلد یا دیر ہوہی جائے گا‘ اس کے بعد کوئی عدلیہ میں اس کے خلاف فریاد نہیں کرتا ہے یاتو عدالت اس پر فیصلہ کرتی ہے او راس میں کتنے سال یا دہائیاں لگاتی ہے یہ سب تو وقت ہی بتائے گا۔

مضمون نگا قومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیرمن او رلاء کمیشن آف انڈیاکے سابق رکن ہیں

TOPPOPULARRECENT