Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / !غیرمسلم وزیر و سکریٹری آندھرا کے مسلمانوںکیلئے وقف

!غیرمسلم وزیر و سکریٹری آندھرا کے مسلمانوںکیلئے وقف

تلنگانہ میں ایڈوائزر وسکریٹری دونوں مسلمان اور مسلمان ناخوش
حیدرآباد۔/9ستمبر، ( سیاست نیوز) اقلیتی بہبود کیلئے مسلم عہدیداروں کا تقرر ضروری نہیں اس کا واضح ثبوت آندھرا پردیش ریاست ہے جہاں کم بجٹ کے باوجود غیر مسلم عہدیدار اقلیتوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اسکیمات پر موثر انداز میں عمل کررہے ہیں۔ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے عہدیدار بھلے ہی کوئی ہوں لیکن اُن میں ذمہ داری کے تئیں سنجیدگی اور خلوص نیت ضروری ہے۔ آندھرا پردیش میں وزیر اقلیتی بہبود اور سکریٹری اقلیتی بہبود دونوں کا تعلق مسلم اقلیت سے نہیں ہے۔ اس کے علاوہ وہاں اقلیتی اُمور کیلئے کوئی علحدہ مشیر کا تقرر نہیں کیا گیا اس کے باوجود محکمہ کی کارکردگی تلنگانہ سے بہتر دکھائی دے رہی ہے۔تلنگانہ میں اقلیتوں کی آبادی آندھرا پردیش سے زیادہ ہے اور بجٹ بھی کے سی آر حکومت ہر سال اضافہ کررہی ہے۔ آندھرا پردیش میں اقلیتوں کی کم آبادی اور نئی ریاست کی ضرورتوں کی تکمیل کو دیکھتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو حکومت نے جاریہ سال 840 کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا ہے لیکن اسکیمات کے معاملہ میں دونوں ریاستوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے لیکن ان پر عمل آوری کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ آندھرا پردیش میں سکریٹری اقلیتی بہبود کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ایس ایس راوت اور موجودہ سینئر آئی اے ایس عہدیدار پروین کمار نے غیر معمولی دلچسپی دکھائی ہے۔ اقلیتی طلبہ کو فیس باز ادائیگی، اوورسیز اسکالر شپ اسکیم، غریب مسلم لڑکیوں کی شادی پر امداد کیلئے ’ دلہن ‘ اسکیم ، اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے قرض کی اجرائی، ائمہ و مؤذنین کو ماہانہ اعزازیہ، اقامتی اسکولوں کا قیام، فروغ اردو، شادی خانوں کی تعمیر، کڑپہ اور وجئے واڑہ میں حج ہاوز کی تعمیر، مساجد اور عید گاہوں کو گرانٹ اِن ایڈ اور اقامتی اسکولوں کیلئے نئی عمارتوں کی تعمیر جیسی اسکیمات پر عمل آوری جاری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آندھرا پردیش کابینہ میں ایک بھی مسلم وزیر موجود نہیں اور اقلیتی بہبود کا قلمدان غیر مسلم وزیر کو دیا گیا ہے جبکہ تلنگانہ میں چیف منسٹر کے سی آر نے اگرچہ اقلیتی بہبود کا قلمدان اپنے پاس رکھا لیکن اس کی نگرانی کی ذمہ داری ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو دی ہے۔ آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے ایک مسلم عوامی نمائندہ نے کہا کہ مسلم وزیر اور مسلم سکریٹری نہ ہونے کے باوجود انہیں اسکیمات اور بجٹ کے خرچ میں کوئی شکایت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کے تحت طلبہ کو 10 لاکھ روپئے دیئے جارہے ہیں۔’ دلہن ‘ اسکیم کے تحت غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کیلئے فی کس 50 ہزار روپئے منظور کئے جاتے ہیں اور اس اسکیم کیلئے 100 کروڑ روپئے بجٹ میں مختص کئے گئے۔ حکومت نے فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالر شپ کیلئے 200کروڑ مختص کئے ہیں۔ ائمہ اور موذنین کو ماہانہ اعزازیہ کے طور پر علی الترتیب 5 ہزار اور 3 ہزار روپئے دیئے جارہے ہیں۔ 10 ہزار ائمہ اور موذنین کو پہلے مرحلہ میں اعزازیہ دیا جارہا ہے اور اس اسکیم کیلئے48 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ اقامتی اسکولوں کی تعمیر کیلئے 77کروڑ، کڑپہ اور وجئے واڑہ میں حج ہاوز کی تعمیر کیلئے علی الترتیب 12 اور 15 کروڑ، اردو اکیڈیمی کیلئے 15 کروڑ، مساجد اور قبرستانوں کو گرانٹ اِن ایڈ کیلئے 5 کروڑ بجٹ میں مختص کئے گئے۔اردو مدارس میں انفراسٹرکچر کی فراہمی کیلئے خصوصی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔اردو اساتذہ کے تقررات کے سلسلہ میں حکومت ڈی ایس سی کے انعقاد پر غور کررہی ہے۔ ان اسکیمات کی کامیابی میں وہاں کے غیر مسلم عہدیداروں نے خصوصی دلچسپی دکھائی ہے۔ ریاست کی تقسیم کے بعد آندھرا پردیش میں ڈاکٹر وینکٹیشور پہلے سکریٹری اقلیتی بہبود تھے جن کے بعد سینئر عہدیدار ایس ایس راوت کو محکمہ اقلیتی بہبود کی ذمہ داری دی گئی جو سکریٹری ویلفیر کے علاوہ اقلیتی بہبود کی زائد ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔ حال ہی میں حکومت نے سینئر آئی اے ایس عہدیدار پروین کمار کو پرنسپال سکریٹری اقلیتی بہبود مقرر کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پروین کمار نے اقلیتی عوامی نمائندوں سے نئی اسکیمات کے سلسلہ میں تجاویز طلب کی ہیں۔ آندھرائی مسلمانوں کا ماننا ہے کہ انہیں غیر مسلم عہدیداروں سے کوئی شکایت نہیں برخلاف اس کے اگر مسلم عہدیدار کو مقرر کیا گیا تو ان کا رویہ احسان کی طرح ہوتا ہے۔آندھرا پردیش میں 2 مسلم آئی اے ایس عہدیدار احمد بابو اور امتیاز احمد ہیں۔ اس کے علاوہ انسپکٹر جنرل رائلسیما ریجن شیخ محمد اقبال وقف بورڈ میں نمایاں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ مسلم عوامی نمائندوں کا ماننا ہے کہ سکریٹری کے عہدہ پر غیر مسلم سینئر عہدیدار کو برقرار رکھتے ہوئے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے عہدہ پر کسی مسلمان کا تقرر کیا جائے تو دونوں عہدیدار بہتر تال میل کے ذریعہ اقلیتوں کیلئے فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بناسکتے ہیں۔ آندھرا پردیش حکومت نے اقلیتی اداروں پر تقررات بھی تقریباً مکمل کرلئے ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن اور حج کمیٹی کی تشکیل کو ایک سال سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے جبکہ حال ہی میں آندھرا پردیش اردو اکیڈیمی کے صدر نشین اور نائب صدر نشین کا تقررعمل میں آیا۔ وقف بورڈ کی تشکیل کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔ اس کے برخلاف تلنگانہ میں وقف بورڈ کی تشکیل عمل میں آئی جبکہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے صدرنشین کا تقرر کیا گیا اور بورڈ آف ڈائرکٹرس کا تقرر ابھی باقی ہے۔

TOPPOPULARRECENT