Wednesday , December 19 2018

غیرموسمی بارش سے وبائی امراض میںاضافہ ،دواخانوںمیں خواتین اوربچوں کا ہجوم !، تعفن زدہ ماحول اور

مچھروںکی افزائش ،علاج سے زیادہ احتیاطی اقدامات کی ضرورت

مچھروںکی افزائش ،علاج سے زیادہ احتیاطی اقدامات کی ضرورت

حیدرآباد 9مارچ(سیاست نیوز) حالیہ دنوںمیں اچانک اورغیرموسمی بارش سے جہاںریاست میں فصلوںکو نقصان پہنچاہے وہیں اچانک تبدیل ہونے والی آب و ہوا سے وبائی امراض میں بھی اضافہ درج کیا جارہا ہے،خاص کرخواتین اورمعصوم بچے اس سے زیادہ متاثرہورہے ہیں جسکے نتیجے میں شہر کے تقریباً تمام دواخانوںمیں مریضوںکا ہجوم دیکھاجارہا ہے ،جہاںنزلہ ،زکام ،بخار، سردرد ،اسہال ،اورمعدے کی سوزش ، ملیریا ،ٹائفڈ ،موسمی بخار،جسم میں کھچاوٹ کے مریض زیادہ رجوع ہورہے ہیں۔ذرائع کے مطابق، شہرکے خانگی دواخانوںاورمحلوں میں موجود چھوٹے چھوٹے کلینک کے علاوہ سرکاری دواخانوںمیں خواتین اوربچوںکا ہجوم دیکھا جارہاہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ 75فیصد بیماریوںکی بنیادی وجہ پانی ا ورتعفن زدہ ماحول ہے مگر نہ عام آدمی اس طرف توجہ دیتا ہے اورنا ہی حکومت اس حوالے سے کبھی سنجیدگی کا مظاہرکرتی ہے ۔ ڈاکٹروںکے مطابق، اگرصاف پانی میں 5% بھی آلودہ پانی شامل ہوجائے تو وہ انفکشن پیداکرنے کیلئے کافی ہے مگرلوگ اس وقت تک پانی کوآلودہ نہیں سمجھتے جب تک کہ پانی کارنگ تبدیل نہ ہوجائے یا اسمیں سے بو نہ آنے لگے۔

نمائندہ سیاست نے جب اس حوالے سے ڈاکٹر احمد شفیع سینیرمیڈیکل آفیسر و سینئر فزیشین نظامیہ ہاسپٹل چارمینار سے بات کی توانہوں نے کہا کہ اگر مؤثر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیںتوغیرموسمی بارش اور آب وہوا، بیشتر امراض کا سبب بن جاتی ہے۔انہوںنے کہا کہ غیرموسمی بارش،ابلتے ہوئے ڈرینج اور کچرے کی بروقت عد م نکاسی کے سبب تبدیل ہونے والی آب وہوا اوربارش کے پا نی کا کئی دنوں تک جگہ جگہ جمع رہنا ،اور اس میںمچھروںکا افزائش ہونے سے بھی کئی امراض جنم لیتے ہیں۔ظاہر ہے یہ ایسے اسباب ہیں جو راست حکومتی ذمہ داریوںسے تعلق رکھتے ہیںمگرصحت کے حوالے سے سرکاری اقدامات کی توقع کرنے کے بجائے اپنے طورپراحتیاطی اقدامات اختیارکرنا زیادہ بہترہوگا ۔ شہرمیں ہونے والی حالیہ بارش کے بعد شہرکے کئی علاقوں میںڈرینج نظا م متاثر ہوا، سڑکوں پر کئی ایک جگہ کھدائی کی وجہ گڈھے موجود ہیں ،جس کی وجہ سے جگہ جگہ پانی جمع ہوگیا نتیجتاً مچھروں اورمکھیوں کی افزائش ہونے لگی ہے ۔ڈاکٹرموصوف کا کہنا ہے کہ’’موسمی امراض میں گندگی یا عدم صفائی کا اہم رول ہوتاہے جو متعفن ہوکر وبائی امراض ، جیسے ملیریا ،ٹائفڈ ،موسمی بخار ،اسہال ،پیچس وغیرہ کا باعث بنتاہے اسکے علاوہ پیٹ کے امراض جسم میں کھچاوٹ ،درد ،خون کی خرابی، پھوڑے پھنسیاں ،اور گلے کی سوزش ،جیسے امراض ایسے میں عام ہو جا تے ہیں ۔ عوام اپنے طور جواحتیاطی تدابیر اختیا ر کرسکتے ہیں،اسکی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’’ اس موسم میںرہائشی کمروں کوکھلا رکھنا چاہئے تا کہ تازہ ہوا اور دھوپ سے وہ خشک رہیں، ساتھ ہی ہرہفتے ان میں جراثیم کش ادویات کاچھڑکاؤ کریں ،گندے پانی اور کیچڑ وغیرہ کی صفائی کافوری انتظام کریں ۔ پینے کے پانی پر خصوصی توجہ کی صلاح دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ، پانی ہمیشہ ابا ل کرہی پینا لازمی کرلیں، ایسے موسم میں بغیر ابالے پانی ہر گز نہیںپینا چاہئے ۔زیا ہ عرصے سے فریج میں رکھا ہوا گوشت اوردیگر باسی اشیاء ہر گز استعمال نہ کریں۔ اگر ان اصولوںپر عمل کیا جائے تو بہت حد تک ہم اس موسمی امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT