Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / غیر علاقائی حکمرانوں نے تلنگانہ کے ساتھ مسلسل نا انصافی کی

غیر علاقائی حکمرانوں نے تلنگانہ کے ساتھ مسلسل نا انصافی کی

پریس کلب میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس سے دانشوران کا خطاب
حیدرآباد۔20فبروری(سیاست نیوز)پچھلے ساٹھ سالوں سے غیر علاقائی حکمرانوں نے تلنگانہ کے ساتھ اس قدر ناانصافی کی کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے چار سال بعد بھی بے شمار خانگی شعبوں میںآج بھی آندھرائی سرمایہ داروں کی اجارہ داری باقی ہے۔ تلنگانہ کی پسماندگی کا سبب غیرعلاقائی حکمرانوں کا تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک اور تلنگانہ کے قدرتی وسائل کا ذاتی مفادات کے لئے استعمال ہے۔ اس کے باوجود تلنگانہ کو نمبرون ریاست کا درجہ دیکر مرکز اور اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کررہا ہے جس کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کیاجائے گا۔تلنگانہ کی تشکیل کسی سیاسی پارٹی کی ایماء پر نہیں بلکہ تلنگانہ کی چار کروڑ عوام کی جدوجہد کا نتیجہ ہے اس سے وزیراعظم نریندر مودی ناواقف ہیں او ر اسی وجہ انہو ںنے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے متعلق غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ حیدرآباد دکن ڈیموکرٹیک الائنس اور وائس آف تلنگانہ کے اشتراک سے سوماجی گوڑ پریس کلب میںمنعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ڈاکٹر کولیرو چرنجیوی‘ کیپٹن ایل پانڈو رنگاریڈی ‘ پروفیسر ایل ویشویشور رائو‘ اور مسٹر رام داس نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر چرنجیوی نے کہاکہ شریفانہ معاہدہ کے نام پر تلنگانہ اور آندھرا کاانضمام تو عمل میںآیا مگر شریفانہ معاہدے پر کسی کی دستخط ہی نہیںہے۔ انہوں نے کہاکہ آندھرا کا پہلا دارالحکومت کرنول تھا جس کی تعمیر کے لئے فنڈز جاری کئے گئے اور اب امراوتی کو درالحکومت بناکر فنڈز حاصل کئے جارہے ہیں۔ پچھلے ساٹھ سالوں سے حیدرآباد سے حاصل آمدنی کو آندھرا کی ترقی کے لئے استعمال کیاگیا جس کا اثر آج بھی تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد میںنظر آتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT