Monday , September 24 2018
Home / اضلاع کی خبریں / غیر قانونی بچوں کو گود لینے اور دینے کے خلاف انتباہ

غیر قانونی بچوں کو گود لینے اور دینے کے خلاف انتباہ

ورنگل کلکٹریٹ میں چیرمین رام چندر ریڈی کا جائزہ اجلاس سے خطاب
ورنگل۔/7مارچ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) رام چندر ریڈی چیرمین اڈوائزری کمیٹی سنٹرل آڈاپشن ریسورس اتھارٹی نے ورنگل کلکٹریٹ میں جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیرقانونی بچوں کو گود لینے اور دینے والوں کے خلاف چائیلڈ ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے جائیں گے اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ متحدہ ضلع خواتین بچوں کی فلاح و بہبود کمیٹی، حقوق اطفال کمیٹی، سی ڈی پی او ذمہ داروں کے ساتھ جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی طور پر بچوں کو کام پر رکھنے والوں، بچپن کی شادیوں میں مدد کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو افراد غریب ہیں اور اپنے بچوں کی پرورش نہیں کرسکتے ایسے خاندان آئی سی ڈی ایس کے ذمہ داروں سے ربط پیدا کریں ان کی پرورش کی جائے گی، اپنی غربت کی وجہ سے جو افراد بچوں کو مزدوری کیلئے بھیجتے ہیں ان افراد کے خلاف بھی ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو گود لینے کیلئے قانونی طور پر کارروائی کرتے ہوئے گود لیا جاسکتا ہے بچوں کو گود لینے کیلئے آسان طریقہ قانون کے دائرہ میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ 24 ریاستوں، 100 اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے بچوں کے حقوق کے تعلق سے معلومات حاصل کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی بچوں کو لینے اور دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ خاطی افراد کو ایک لاکھ جرمانہ اور تین سال جیل کی سزا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نرسنگ ہوم، میٹرنٹی ہاسپٹل سے بچوں کو فروخت کرنے کی اطلاعات پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ بچپن کی شادیوں کی روک تھام کیلئے عوام میں شعور بیدار کرنا چاہیئے اور کہیں پر بھی بچپن کی شادی کی اطلاع ملنے پر فوری پولیس اور ریونیو محکمہ جات کو اطلاع دیں۔ بچوں کو گود لینے کیلئے آئی سی ڈی ایس پراجکٹ آفس، آنگن واڑی سنٹر، آشرم، ضلع چائیلڈ کیئر سنٹر سے ربط پیدا کرسکتے ہیں اور آن لائن www.cara.ninc.gov پر گھر سے ہی درخواست دے سکتے ہیں۔ اس کیلئے شوہر بیوی دونوں کا آدھار کارڈ، پیان کارڈ، فوٹو، ریسیڈنشیل، انکم سرٹیفکیٹ، میاریج، تاریخ پیدائش، ڈاکٹر فٹنس سرٹیفکیٹ، 6 ہزار کی ڈی ڈی داخل کرنا ہے اور بچے کو گود لیتے وقت 40 ہزار مزید داخل کرنا ہوگا۔ اس موقع پر آئی سی ڈی ایس، آر جے ڈی راملو، پراجکٹ ڈائرکٹر شیلجہ، آرگنائزر قمرالنساء بیگم، ڈی ڈی آئی اینڈ پی آر، ڈی ایس جگن و دیگر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT