Tuesday , November 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / غیر قوم میں دعوت و تبلیغ کی ضرورت

غیر قوم میں دعوت و تبلیغ کی ضرورت

دین اسلام پہلا اور آخری مذہب ہے، جس نے علم کی نہایت درجہ حوصلہ افزائی کی ۔علوم و فنون کی تحقیق و تفتیش اور آفاق دانش میں غور و خوص فکر و تدبر کی ترغیب دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ توحید و رسالت کی روشنی دنیا میں پھیل گئی اور ایک صدی نہ گزری کہ عرب جو علمی و فنی اعتبار سے دنیا کی نظر میں کوئی اونچا مقام نہیں رکھتے تھے، انہوںنے طول و عرض، مشرق و مغرب ، شمال و جنوب میں علم و حکمت، تہذیب و تمدن کی مضبوط بنیادیں قائم کیں۔ اس وقت ترک و تاتار تہذیب و تمدن سے نابلد تھے۔ ان کو اہل عرب نے تہذیب و ثقافت سے روشناس کروایا۔ اس طرح اسلام نے عرب و عجم میںعلم و عمل ، فکر و تحقیق کی نئی روشنی پیدا کی۔
علم کی تعریف بالعموم یہ کی جاتی ہے کہ وہ ایک ایسا ملکہ ہے جس کے توسط سے حقائق اشیاء کی معرفت ہوتی ہے۔ اسی علم سے انسان دیگر مخلوقات سے ممتاز ہوتا ہے۔ اس کے پاس ایک قدرتی قوت اور معنوی خوبی ہے جس سے وہ کائنات میں پوشیدہ و پس پردہ حقائق کا ادراک کرلیتا ہے اور ہر چیز کی حقیقت سے واقف ہوجاتا ہے۔
کائنات کے حقائق اور اشیاء کی ماہیتوں کو دریافت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان توہمات سے بالاتر اور توہم وپرستی کے قید و بند سے آزاد ہو ورنہ وہ اپنے مقصد و مراد میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔
علم و حکمت، عقل و دانش ، فہم و فراست سے متصف انسان گنگا و جمنا کو خدا سمجھنے لگا، ہاتھ سے تراشیدہ پتھر کو نفع و نقصان کا مالک جاننے لگا اور اس کے سامنے اپنے سر نیاز کو ٹکاکر اس کی پرستش و بندگی کرنے لگا۔ سانپ کو خدا کا اوتار مان کر اس کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیکنے لگا۔ آگ و سورج سے خوفزدہ ہوکر ان کو پوجنے لگا اور کوئی تو خدا کے اصل وجود ہی کا منکر ہوگیا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’کیا تم خدا کے سوا کسی اور کو معبود بنانا چاہتے ہو حالانکہ اس نے تم کو کل کائنات پر فضیلت دی ہے‘‘ ۔
(سورۃ الاعراف ۱۴۰)
تعجب ہے کہ انسان دنیا کی ہر چیز سے افضل ہوکر دریا، پہاڑ اور پتھر کے آگے سر جھکاتا ہے۔ ایسے میں اگر ہم غیر مسلم کو خدا کی الوہیت اور وحدانیت کی دعوت دیں اور بطورعمل قرآنی آیات مثلاً : ’’تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو‘‘  پیش کریں تو وہ حکم الٰہی کو تسلیم کرنے آمادہ نہ ہوگا۔ اس کے لئے ہمیں چاہئے کہ ہم قرآن کے اسلوب دعوت و طریقۂ تبلیغ کو اختیا ر کریں تو زیادہ موثر ہوگا۔
قرآن نے دعوت حق دینے کے لئے علم و حکمت پر زور دیا۔ انسان کی قوتِ فکر کو حرکت دی تاکہ کائنات پر غور و فکر، تدبر و تشخص کرکے کائنات کے مالک و خالق کی یہ راہ پاسکے چنانچہ سورۃ البقرہ ۲/۱۶۴ میں ہے:
’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات و دن کی گردش میں اور ان جہازوں (اور کشتیوں) میں جو سمندر میں لوگوں کو نفع پہنچانے والی چیزیں اٹھاکر چلتی ہیں اور اس پانی میں جسے اللہ آسمان سے اتارتا ہے پھر اس کے ذریعہ زمین کو مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ اس زمین میں اس نے ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے ہیں اور ہوائوں کے رخ بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ ‘‘
خدا کے وجود اور اس کی وحدانیت پر عقلی دلائل سے استدلال کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ سعید بن مسروق سے روایت ہے ایک مرتبہ یہود نے نبی اکرم    صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا جس طرح حضرت موسی علیہ السلام کے پاس معجزات تھے، اسی طرح آپ بھی اپنے معجزات بتائیے۔ عیسائیوں نے بھی کہا جس طرح حضرت عیسی  علیہ السلام کے پاس معجزات تھے اسی طرح آپ بھی اپنی صداقت پر معجزات پیش کیجئے۔ اس پر قریش نے کہا اے محمدؐ! آپ خدا سے دعا کیجئے کہ کوہ صفا سارا کا سارا سونا ہوجائے تاکہ ہمارے یقین و ایمان میں پختگی آجائے اور ہم کو اپنے دشمن پر غلبہ حاصل ہوجائے۔ اس پر یہ آیت شریفہ نازل ہوئی۔
’’ بلاشبہ آسمان اور زمین کی تخلیق میں رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں اہل عقل کے لئے بہت سے دلائل ہیں‘‘۔ جس کا مفہوم یہی ہے کہ اگر تم ایمان اور اس کی پختگی چاہتے ہو تو آسمان و زمین کے اسرار پر غور و خوص کرو۔ اذعان و یقین کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی اور چیزی نہیں ہوسکتی ۔
(سورۃ آل عمران ۔ ۱۹۰) ( تفسیر کبیر جلد ۲ ، ص: ۵۶)
سورۃ الروم کے تیسرے رکوع میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حقانیت پر متعدد دلائل پیش کئے گئے ہیں۔ اس کے ذیل میں علامہ نیشاپوری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں ’’اس میں شک نہیں کہ دلیل کے بعد جو ایمان ہوتا ہے وہ اس ایمان سے بہت زیادہ قوی ہوجاتا ہے جو دلیل سے پہلے ہوتا ہے۔ غیر مسلمین میں دعوت توحید دینا اہل اسلام کا فریضہ ہے۔ جس قدر کائنات قدرت کے متعلق معلومات میں اضافہ ہوتا رہے گا اسی قدر خدا کی توحید والوہیت کو سمجھانا آسان ہوتا جائیگا لیکن افسوس کہ مسلمان علوم حمیدہ بالخصوص سائنسی علوم (جس کا وہ اولین موجد ہیں) کما حقہ استفادہ نہیں کررہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں مسلمان پیغام حق کو اپنے اہل زمانہ کے روبرو ان کی فہم کے مطابق پیش کرنے سے قاصر ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT