Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / غیر لائسنس یافتہ قرض داروں سے قانونی طور پر رقم کی وصولی ناممکن

غیر لائسنس یافتہ قرض داروں سے قانونی طور پر رقم کی وصولی ناممکن

قرض دہندہ سے سود کی واپسی کے لیے دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں
حیدرآباد۔23اکٹوبر(سیاست نیوز) غیر لائسنس یافتہ قرض دینے والوں کی رقومات کی قانونی طور پر وصولی ممکن نہیں ہے اور جو لوگ غیر لائسنس یافتہ سودی قرض دیا کرتے ہیں ان کی رقومات کی وصولی میں قانون ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ حیدرآباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلہ میں یہ بات صادر کی گئی ہے کہ غیر محسوب رقومات جو لائسنس کے بغیر بطور سودی قرض فراہم کی جاتی ہیں ان رقومات کی عدم واپسی کی صورت میں کوئی قانونی جواز نہیں ہے جو قرض نادہندگان کو مجرم ثابت کرتے ہوئے رقومات کی واپسی کے احکام جاری کرے۔ پرانے شہر کے علاوہ شہر کے کئی علاقو ںمیں سود خوروں کی جانب سے معمولی رقومات ضرورت مندوں کو دیتے ہوئے ان سے بھاری سود وصول کیا جاتا ہے اور ان سے سادہ کاغذات پر دستخط حاصل کرتے ہوئے انہیں قانونی چارہ جوئی سے خوفزدہ کیا جاتا ہے اور بعض معاملات میں چیک پر دستخط حاصل کرلئے جاتے ہیں اور رقومات کی عدم ادائیگی کی صورت میں چیک اکاؤنٹ میں ڈالتے ہوئے انہیں باؤنس کروایا جاتاہے اور چیک باؤنس کے مقدمات درج کروائے جاتے ہیں لیکن حیدرآباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ جو لوگ غیر لائسنس یافتہ سودی اداروں یا اشخاص سے قرض حاصل کرتے ہیں ان پر قرض کی واپسی کیلئے قانونی طور پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا اور انہیں جاری کیا گیا قرض ناقابل بازیابی ہے۔ جسٹس ایم ستیہ نارائنہ مورتی نے اپنے فیصلہ میں واضح کیا ہے کہ جو کمپنیاں ‘ ادارے یا اشخاص اس طرح کے سودی قرض فراہم کرتے ہیں اور ان کے پاس لائسنس نہیں ہے وہ ادا کردہ رقم قانونی اعتبار سے حاصل نہیں کرسکتے اور ادا کردہ رقم ناقابل بازیابی ہے۔ کرشنم راجو فینانس اور عابدہ سلطانہ کے مابین جاری مقدمہ میں عدالت کا یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل بن چکا ہے کیونکہ جسٹس ستیہ نارائنہ مورتی نے مقدمہ کو خارج کرتے ہوئے یہ واضح کردیا ہے کہ کرشنم راجو کے پاس سودی ادارہ چلانے کا کوئی قانونی لائسنس نہیں ہے اسی لئے ان کے ادارے کی جانب سے ادا کردہ رقم قانونی طور پر واپس طلب کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔شہر میں غیر قانونی سودی اداروں کی بہتات ہے اور لوگ قانون سے عدم واقفیت کی بناء پر سودخواروں کی ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں اور سود پر ضرورت کے تحت حاصل کردہ رقومات سے کئی گنا اضافی رقومات حاصل کرتے ہوئے مشکلات برداشت کرتے جاتے ہیں لیکن حیدرآباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ نے واضح کردیا ہے کہ کوئی غیر لائسنس یافتہ ادارے یا شخص کی جانب سے چلائے جانے والے سودی ادارے کو رقم کی وصولی کے لئے عدالت پہنچنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ عدالت نے غیر لائسنس یافتہ سودی ادارے کی جانب سے سودی قرض کی فراہمی کی رقومات کو کالے دھن اور غیر محسوب آمدنی سے تعبیر کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT