Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / غیر مجاز تعمیرات کوباقاعدہ بنانے قطعی موقع دینے کی تجویز

غیر مجاز تعمیرات کوباقاعدہ بنانے قطعی موقع دینے کی تجویز

دونوں شہروں کیلئے مزید دو ذخائر آب کی تعمیر، گھروں میں کچرے دانوں کی عنقریب تقسیم، کابینی ذیلی کمیٹی کا اجلاس
حیدرآباد۔/9ستمبر، ( سیاست نیوز) وزیر کمرشیل ٹیکسیس ٹی سرینواس یادو نے آج کہا کہ ریاستی حکومت جی ایچ ایم سی اور ایچ ایم ڈی اے حدود میں غیر مجاز عمارتوں اور تعمیرات کو باقاعدہ بنانے کا آخری اور قطعی موقع فراہم کرنے کے بعد سخت کارروائی شروع کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان غیر مجاز تعمیرات اور اراضیات کی وجہ سے حیدرآباد کو گلوبل سٹی میں تبدیل کرنے حکومت کے منصوبوں میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ وزیر کمرشیل ٹیکسیس نے آج سکریٹریٹ میں اس مسئلہ پر کابینی سب کمیٹی کے متواتر تیسرے اجلاس کی صدارت کی۔ کمیٹی ارکان ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی، ٹی پدما راؤ گوڑ بھی اجلاس میں شریک تھے لیکن وزیر داخلہ نرسمہا ریڈی شریک نہ ہوسکے۔ بعد ازاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شہر حیدرآباد میں غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنالینے کا آخری موقع دیا جائے گا اور اس کے بعد غیر مجاز تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں مزید تبادلہ خیال کرکے ایک جامع رپورٹ بہت جلد حکومت کو پیش کی جائے گی۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ شہر حیدرآباد کی ترقی کیلئے کئے جانے والے اقدامات شہر حیدرآباد میں غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنانے

 

اور شہر کی ترقی کیلئے نئی پالیسیوں کا تعین خود چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کریں گے۔ مسٹر سرینواس یادو نے بتایا کہ اجلاس میں شہر حیدرآباد کو خوبصورت شہر میں تبدیل کرنے کے مقصد سے عمارتوں کی تعمیر، اجازت ناموں، غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنانے کیلئے مختلف قواعد و ضوابط، عوامی رجحانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کابینی ذیلی کمیٹی اپنی رپورٹ حکومت بالخصوص چیف منسٹر کو پیش کرے گی۔ مسٹر سرینواس یادو نے کہا کہ سرویس روڈز، نالوں اور تالابوں کی شکم اراضی جی او نمبر 111 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انجام دی گئی تعمیرات کو منہدم کیا جائے گا۔ مسٹر سرینواس یادو نے مزید کہا کہ حقیقی صورتحال اور عوامی رائے حاصل کرنے اور ان کے رجحانات کا اندازہ لگانے کیلئے کابینی ذیلی کمیٹی متعلقہ محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں کے ہمراہ بہت جلد شہر میں دورہ کرے گی۔ وزیر موصوف نے کہا کہ سوچھ حیدرآباد پروگرام کیلئے حیدرآباد کو 425یونٹس میں تقسیم کیا گیا تھا اور ہر ایونٹ کیلئے 50 لاکھ روپئے جاری کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد شہر حیدرآباد میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے ہر گھر کیلئے دو ڈسٹ بین فراہم کئے جائیں گے۔ علاوہ ازیں شہر کے عوام کو پینے کے پانی کی موثر سربراہی کو یقینی بنانے کیلئے شہر کے مضافات میں مزید دو نئے ذخائر آب تعمیر کروائے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT