Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم پر ہائیکورٹ کا حکم التوا

غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم پر ہائیکورٹ کا حکم التوا

آئندہ سماعت تک حکومت کو کوئی فیصلہ نہ کرنے کی ہدایت۔ درخواستوں کا ادخال نہیں روکا گیا
حیدرآباد ۔ 22 ڈسمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد ہائیکورٹ نے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ غیرمجاز عمارتوں اور لے آوٹ کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم پر حکم التوا جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک کسی قسم کا فیصلہ نہ کرنے کی ہدایت دی۔ فورم فار گوڈ گورننس کی جانب سے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے اس بات کی اپیل کی گئی تھی کہ حکومت نے جو بی آر ایس اور ایل آر ایس اسکیم کے ذریعہ بغیر اجازت کے بنائی گئی عمارتوں کو باقاعدہ بنانے کیلئے مہم شروع کی ہے، اس پر فوری روک لگایا جائے کیونکہ اس طرح کی عمارتیں شہر کی خوبصورتی کیلئے نقصاندہ ثابت ہورہے ہیں۔ عدالت میں داخل کردہ درخواست کی سماعت کے بعد حیدرآباد ہائیکورٹ میں عبوری احکام جاری کرتے ہوئے باقاعدہ بنانے کے عمل پر روک لگانے کی ہدایت دی لیکن درخواستوں کے ادخال کے سلسلہ کو روکنے سے انکار کردیا اور کہا کہ جب تک سماعت کے بعد فیصلہ صادر نہیں ہوتا اس وقت تک باقاعدہ بنانے کا عمل روک دیا جانا چاہئے۔ فورم فار گوڈ گورننس کی جانب سے داخل کردہ درخواست میں اس بات کی شکایت کی گئی تھی کہ اس سے صرف حکومت کو کروڑہا روپئے کی آمدنی ہوگی اور یہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اس اسکیم کے ذریعہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جی ایچ ایم سی اور ایچ ایم ڈی اے کی جانب سے شروع کردہ اس اسکیم میں تاحال 35 ہزار سے زائد درخواستیں وصول ہوچکی ہیں اور 32 تا 35 کروڑ روپئے سرکاری خزانہ میں جمع کئے جاچکے ہیں۔ 31 ڈسمبر جوکہ بی آر ایس اور ایل آر ایس کے درخواستوں کی آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے، اس میں توسیع کا منصوبہ تیار کیا جارہا تھا کہ لیکن عدالت کے ان احکامات کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہیکہ اس سلسلہ میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی۔ ذرائع کے بموجب مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو 30 ہزار درخواستیں بی آر ایس کے تحت وصول ہوئی ہیں اور اس میں بطور جرمانہ 30 کروڑ روپئے تک کی آمدنی حاصل ہوئی ہے جبکہ ایچ ایم ڈی اے میں 5 ہزار درخواستیں داخل کی جاچکی ہیں جن کے ذریعہ 2 تا 3 کروڑ روپئے وصول ہونے کی اطلاعات ہیں۔ فورم فار گوڈ گورننس کے ذمہ داران کا کہنا ہیکہ غیرمجاز عمارتوں کو باقاعدہ بنانے کا عمل جاری رکھے جانے کی صورت میں شہر کی خوبصورتی متاثر ہونے کے علاوہ شہر کی عمارتیں شہریوں کیلئے محفوظ نہیں رہ سکتیں۔

TOPPOPULARRECENT