Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / غیر مجاز تعمیرات کی تفصیلات اکٹھا کرنے کا آغاز

غیر مجاز تعمیرات کی تفصیلات اکٹھا کرنے کا آغاز

نانک رام گوڑہ میں منہدم عمارت پر سخت اقدامات ، جی ایچ ایم سی اور ایچ ڈی او کو چیف منسٹر کا انتباہ بے اثر ثابت
حیدرآباد۔9۔ڈسمبر (سیاست نیوز ) بدعنوان عہدیداروں کے خلاف کاروائی شروع کی جائے تو مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کا کوئی عہدیدار نہیں بچ سکے گا۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے گذشتہ بارش کے دوران ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ ریمارک کیا تھا جس سے عہدیداروں نے کچھ وقت کیلئے خفت محسوس کی لیکن چند ماہ میں وہی چال بے ڈھنگی شروع ہوگئی کیونکہ انہیں اس بات کا یقین ہوگیا کہ ریاست میں چیف منسٹر کو بھی سب کچھ معلوم ہے لیکن وہ خود بے بس ہیں تو کاروائی کون کرے گا؟نانک رام گوڑہ میں عمارت کے منہدم ہونے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیدار ایک مرتبہ دوبارہ سرگرم ہو جائیں گے اور غیر قانونی عمارتوں و تعمیرات کے خلاف مہم کا آغازکریں گے لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مہم کتنے وقت تک جاری رہے گی؟ کیونکہ جب کبھی کوئی ناگہانی واقعہ پیش آتا ہے اور حالات ابتر ہوتے نظر آتے ہیں تو اس وقت جی ایچ ایم سی کی جانب سے تیز تر سرگرمیاں نظر آتی ہیں لیکن جب حالات معمول پر آجاتے ہیں تو ان سرگرمیوں کو ایسے فراموش کردیا جاتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو بلکہ وہی غیر مجاز تعمیرات اور غیر قانونی عمارتوں کے تحفظ کیلئے راستے تلاش کرنے میں عہدیدار سرگرم ہوجاتے ہیں۔ نانک رام گوڑہ میں عمارت کے منہدم ہونے کے بعد جی ایچ ایم سی کے اعلی عہدیداروں نے بلدی حدود میں جاری تمام تعمیرات اور جن تعمیرات کے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں ان کی تفصیلات اکٹھا کرنی شروع کردی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام زونس کے عہدیداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ وہ غیر مجاز تعمیرات بالخصوص جن عمارتوں کے تعمیری اجازت نامہ نہیں ہیں ان کی تفصیلات اکٹھا کی جائیں اور جو تعمیرات جاری ہیں ان کے تعمیری اجازت ناموں کی تفصیلات حاصل کی جائیں تاکہ اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہونے پائے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں محکمہ پولیس کے بعد سب سے زیادہ بدنام محکمہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ہے جہاں رسوخات یا رشوت کے ذریعہ اپنے کام نکالنا عام بات تصور کی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں شہروں میں برسات کے دوران چیف منسٹر نے جو ریمارک کیا اس کے بعد کوئی کاروائی نہ ہونے کے سبب عہدیداروں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور باضابطہ عہدیدار من مانی چلانے لگے تھے لیکن اس واقعہ کے بعد جی ایچ ایم سی کے تمام شعبوں کے علاوہ شہریوں کی جانب سے شعبہ ٹاؤن پلاننگ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا ہے کیونکہ عام طور پر عوامی شکایات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس شعبہ کے عہدیدار غیر مجاز تعمیرات کے مرتکبین کو راستہ فراہم کرتے ہوئے انہیں قانونی کا سہارا لینے کی راہ ہموار کرتے ہیں جس کے سبب شہر میں ناجائز تعمیرات تیزی سے بڑھتی جا رہی ہیں یا پھر سیاسی سرپرستی میں ناجائزتعمیرات انجام پا رہی ہیں جنہیں روکنا ان عہدیداروں کے بس کی بات نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT